دہشت گردوں کا مالیاتی نیٹ ورک توڑنے کی حکمت عملی

کراچی آپریشن کو 2 سال مکمل ہوتے ہی اس کی پالیسی حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہے

کراچی آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بلاشبہ یہ راست اقدام ہے لیکن اس سمت بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آپریشن بلا امتیاز اور ذاتی عناد سے پاک رہے۔ فوٹو : فائل

FAISALABAD:
ملک کے معاشی ہب میں جرائم پیشہ عناصر، قبضہ گروپوں اور شرپسندوں کے خلاف جاری ''کراچی آپریشن'' کو 2 سال مکمل ہو چکے ہیں جس میں نہ صرف جرائم پیشہ عناصر اور مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل کالی بھیڑوں کی بیخ کنی کی گئی بلکہ شہر میں قبضہ مافیا، بھتہ خوری، چوری، ڈکیتی و لوٹ مار میں شامل سیاسی کارندوں کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

کراچی آپریشن کو 2 سال مکمل ہوتے ہی اس کی پالیسی حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہے، اس مرحلے میں قانون نافذ کرنیوالوں کا ہدف جرائم مافیاز اور جرائم پیشہ عناصر کے مالی گٹھ جوڑ اور ذرائع آمدنی کا خاتمہ ہے۔ تمام تر جرائم پیشہ عناصر کو اپنے استحکام کے لیے مضبوط مالیاتی نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے جس کی روک تھام کے بعد شہر میں تیزی سے پنپتا یہ جرائم کا شجر خود ہی سوکھ جائے گا۔


دہشتگردوں کے مالیاتی نیٹ ورک کا قلع قمع کرنے کے لیے 10 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونیوالے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں تمام انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں سمیت احتساب سے متعلق اداروں میں مربوط کو آرڈی نیشن کے لیے حکمت عملی طے کی جائے گی اور کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی پالیسی فیصلہ کن مراحل میں داخل کرنے کی منظوری دی جائے گی۔

کراچی آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بلاشبہ یہ راست اقدام ہے لیکن اس سمت بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آپریشن بلا امتیاز اور ذاتی عناد سے پاک رہے۔ شہر میں جاری آپریشن پر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے یکطرفہ اور امتیازی سلوک کے الزام پر تحفظات ختم کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تا کہ شہر میں کوئی سیاسی چپقلش جنم نہ لے سکے۔

یہ امر قابل غور ہے کہ بلاشبہ اس آپریشن کے بعد جرائم کے گراف میں کمی آئی ہے لیکن شہر کے بہت سے علاقے جہاں جرائم کا گراف بلند تھا وہاں اس آپریشن کے ثمرات نہیں پہنچے جن میں لیاری کا علاقہ سرفہرست ہے جہاں آج بھی گینگ وار کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔ مناسب ہو گا کہ آپریشن کا دائرہ کار پورے شہر میں یکساں طور پر پھیلایا جائے۔
Load Next Story