اجتماع ضدین

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف پر جو الزامات لگائے ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف پر جو الزامات لگائے ہیں، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انھیں درست قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کی ہے۔ عمران خان کچھ دنوں پہلے تک آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے ان دونوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اب وہ بالواسطہ طور پر میاں نواز شریف کے مقابلے میں آصف زرداری کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں، عمران خان کے اس بدلتے ہوئے مؤقف کو سامنے رکھ کر ہمارے ٹی وی اکابرین یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا عمران خان اور پیپلز پارٹی میں اتفاق ممکن ہے؟ اشرافیائی سیاست اصولوں اور اخلاقی قدروں سے ماورا ہوتی ہے اور ذاتی اور جماعتی مفادات کے محور پر گھومتی ہے، اسی حقیقت کے پیش نظر ہماری سیاست میں اتحاد اور اختلاف سیاست دانوں کی ضرورتوں کے تابع ہوتے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے، حال اور مستقبل میں ایسا ہوتا رہے گا، یہ نہ کوئی نئی بات ہے نہ حیرت کی بات ہے۔

پاکستان کی سیاست میں 2013ء کے الیکشن کے بعد نواز حکومت اس لیے پراعتماد رہی کہ اسے پیپلز پارٹی کی بھرپور سپورٹ حاصل تھی اور مقتدر قوتیں بھی اس سیٹ اپ سے متفق نظر آتی تھیں۔ زرداری کے تیز و تند بیانات سے میاں نواز شریف تو پریشان نظر آتے ہیں لیکن شہباز شریف اور چوہدری نثار میاںنواز شریف کو یہ صائب مشورہ دے رہے ہیں کہ ''ڈٹے رہو بلیک میل نہیں ہونا۔'' کیا ان دونوں کے مشورے کو ''چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا'' کہہ سکتے ہیں۔ بظاہر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) تنہا بھی ہوتی جا رہی ہے اور اس کے لیے مشکلات میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ اس میڈیائی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ سندھ میں جو آپریشن ہو رہا ہے اس کا دائرہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں تک بڑھایا جائے اور یہ مطالبہ اس قدر منطقی ہے کہ آپریشن کے سرپرستوں کے لیے اس کے سوا کوئی آپشن نظر نہیں آ رہا ہے کہ آپریشن کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے۔

اس کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ متحدہ اور پیپلزپارٹی کی یہ شکایت ختم ہو جائے گی کہ آپریشن صرف ان کے خلاف ہو رہا ہے لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ہو گا جو اب تک آپریشن کی زد سے محفوظ ہے۔ اگرچہ اب تک مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف کوئی کرپشن وغیرہ کے اسکینڈلز سامنے نہیں آئے لیکن عموماً برسر اقتدار جماعتوں کے خلاف اگر کوئی اسکینڈلز ہوں بھی تو وہ دبے رہتے ہیں۔ آصف علی زرداری کے قریبی دوست عاصم حسین کے حوالے سے عام لوگوں کو یہ گمان تک نہیں تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے اسکینڈلز میں ملوث ہو سکتے ہیں، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی اسکینڈلوں میں گھر گئے اور بات زرداری تک پہنچ رہی ہے۔


ہم نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ ہماری سیاست اصولوں اور اخلاقی قدروں سے ماورا ہے، اس میں صرف ذاتی اور جماعتی مفادات کو اہمیت حاصل ہوتی ہے، اس پس منظر میں یہ بات ناممکن نظر نہیں آتی کہ عمران خان پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی انڈر اسٹینڈنگ کر لیں۔ عمران خان کی مشکل یہ ہے کہ کراچی اور سندھ میں اپنی ممکنہ پیش رفت کی راہ میں وہ متحدہ اور پیپلز پارٹی کو بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں اور اس مجبوری کی وجہ سے ان کی تنقید کے تیروں کا رخ متحدہ اور پیپلز پارٹی کی طرف ہوتا ہے، لیکن حالات جس طرح کروٹ لے رہے ہیں اس کا تقاضا یہی نظر آتا ہے کہ عمران خان کو اپنی پالیسی بدلنا پڑے گی۔ 2014ء کے دھرنوں کا حقیقی مقصد نواز حکومت کو گرانا تھا، عمران خان میاں نواز شریف کو اپنا سیاسی رقیب سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے وہ اس قدر جذباتی ہیں کہ اپنی دھرنا تحریک کا سب سے بڑا مطالبہ انھوں نے وزیر اعظم کا استعفیٰ رکھ دیا۔

عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ عوام میں اپنی مقبولیت کے باوجود وہ نواز حکومت کے خلاف اپنی طاقتور تحریک میں اپنی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ناکام رہے۔ دھرنا تحریک کے دوران قدم قدم پر ان سے جو غلطیاں سرزد ہوتی رہیں ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام ان سے دور ہوتے چلے گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عوام میں خان صاحب کے حوالے سے جو مایوسی پھیلی ہوئی ہے اس کا تدارک کس طرح کیا جائے؟ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ اقتدار پر بلاشرکت غیرے قبضہ چاہتی ہے اور خاص طور پر مڈل کلاس سے تو وہ شدید الرجک رہتی ہے۔ عمران خان کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے اور وہ انقلاب کا نعرہ بھی لگاتے ہیں جو اشرافیائی سیاست میں گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔ اگر عمران خان واقعی پاکستان کے 68 سال سے عوام پر مسلط نظام کو بدلنا چاہتے ہیں تو انھیں پھر مڈل کلاس کی جماعتوں سے اتحاد کرنا پڑے گا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کی مڈل کلاس پر مشتمل سیاسی جماعت متحدہ جو منظم اور مضبوط ہے اپنی جذباتی سیاست کی وجہ سے مشکلات میں گھری رہتی ہے۔ عمران خان متحدہ کو اپنا سیاسی حریف سمجھتے ہیں اور متحدہ اس خوف میں مبتلا ہے کہ عمران خان کراچی پر اس کی بالادستی کو ختم کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ دونوں جماعتوں کا دعویٰ یہی ہے کہ وہ پاکستان کا فرسودہ نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ جن جماعتوں کا ویژن اتنا متاثر کن ہے انھیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ اگر حالات کے جبر اور سیاسی ضرورتوں اور مجبوریوں نے تحریک انصاف، متحدہ اور پیپلز پارٹی کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا تو بھی اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ مقتدر قوتیں جو کرپشن، بد عنوانیوں وغیرہ کے خلاف بھل صفائی کا کام انجام دے رہی ہیں کیا وہ اس ممکنہ اتحاد ضدین کو قبول کریں گی؟ خاص طور پر پیپلز پارٹی اور متحدہ کو دوبارہ طاقت پکڑتے دیکھ سکیں گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
Load Next Story