زرعی معاون پالیسیوں کے باعث ٹریکٹرز کی طلب میں اضافہ
جنوری 2013میں ٹریکٹرز پر 10فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا جبکہ جنوری 2014 میں سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 16فیصد کردی گئی۔
جنوری 2013میں ٹریکٹرز پر 10فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا جبکہ جنوری 2014 میں سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 16فیصد کردی گئی۔ فوٹو: آئی این پی/فائل
زرعی شعبے کے لیے معاون پالیسیوں اور زراعت پر مبنی صنعتوں کے فروغ کی وجہ سے پاکستان میں ٹریکٹرز کی طلب میں اضافہ کا رجحان ہے اور ٹریکٹر سازی کی صنعت پر گزشتہ پانچ سال سے طاری جمود بتدریج ختم ہورہا ہے۔
کسان دوست پالیسیوں کا دعویٰ کرنے والی سابقہ حکومت کے دور میں زراعت کے شعبے کے لیے پالیسیوں میں عدم تسلسل اور پیداواری لاگت میں اضافے کے سبب مالی سال 2009سے 2014کے دوران مقامی سطح پر تیار کردہ ٹریکٹرز کی فروخت میں اوسطا سالانہ 11فیصد کمی واقع ہوئی مالی سال 2009میں ٹریکٹرز کی مقامی فروخت 60ہزار 351یونٹس تھی جو مالی سال 2014تک کم ہوکر 33ہزار 584 کی سطح پر آگئی۔ ٹریکٹر سازی کی مقامی صنعت کے لیے مالی سال 2009اور 2010بہترین سال رہے جولائی 2008میں ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کی وجہ سے 2009 میں فروخت کے والیوم 60ہزار سے تجاوز کرگئے جبکہ ستمبر 2009میں بے نظیر ٹریکٹر اسکیم کے تحت کسانوں کو 10ہزار ٹریکٹرز کی آسان شرائط پر فراہمی سے ٹریکٹر سازی میں مزید اضافہ ہوا جس سے مالی سال 2010کے دوران ٹریکٹرز کی مقامی فروخت 70ہزار یونٹس سالانہ سے تجاوز کرگئی تاہم مارچ 2011میں ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے خاتمے سے فروخت میں کمی واقع ہوئی جنوری 2013میں ٹریکٹرز پر 10فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا جبکہ جنوری 2014 میں سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 16فیصد کردی گئی۔ موجودہ حکومت نے بجٹ 2015میں ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس کی شرح 16فیصد سے کم کرکے 10فیصد مقرر کردی ساتھ ہی زرعی قرضوں کی مالیت کا ہدف 380ارب روپے سے بڑھا کر 500ارب روپے کردیا گیا ان اقدامات کے نتیجے میں مقامی سطح ٹریکٹرز کی کھپت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
کسان دوست پالیسیوں کا دعویٰ کرنے والی سابقہ حکومت کے دور میں زراعت کے شعبے کے لیے پالیسیوں میں عدم تسلسل اور پیداواری لاگت میں اضافے کے سبب مالی سال 2009سے 2014کے دوران مقامی سطح پر تیار کردہ ٹریکٹرز کی فروخت میں اوسطا سالانہ 11فیصد کمی واقع ہوئی مالی سال 2009میں ٹریکٹرز کی مقامی فروخت 60ہزار 351یونٹس تھی جو مالی سال 2014تک کم ہوکر 33ہزار 584 کی سطح پر آگئی۔ ٹریکٹر سازی کی مقامی صنعت کے لیے مالی سال 2009اور 2010بہترین سال رہے جولائی 2008میں ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کی وجہ سے 2009 میں فروخت کے والیوم 60ہزار سے تجاوز کرگئے جبکہ ستمبر 2009میں بے نظیر ٹریکٹر اسکیم کے تحت کسانوں کو 10ہزار ٹریکٹرز کی آسان شرائط پر فراہمی سے ٹریکٹر سازی میں مزید اضافہ ہوا جس سے مالی سال 2010کے دوران ٹریکٹرز کی مقامی فروخت 70ہزار یونٹس سالانہ سے تجاوز کرگئی تاہم مارچ 2011میں ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے خاتمے سے فروخت میں کمی واقع ہوئی جنوری 2013میں ٹریکٹرز پر 10فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا جبکہ جنوری 2014 میں سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 16فیصد کردی گئی۔ موجودہ حکومت نے بجٹ 2015میں ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس کی شرح 16فیصد سے کم کرکے 10فیصد مقرر کردی ساتھ ہی زرعی قرضوں کی مالیت کا ہدف 380ارب روپے سے بڑھا کر 500ارب روپے کردیا گیا ان اقدامات کے نتیجے میں مقامی سطح ٹریکٹرز کی کھپت میں اضافہ ہوگیا ہے۔