آرمی چیف کا بھارت کو انتباہ

آج بھی ہماری مسلح افواج کسی بھی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں

بہتر ہے بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپناتے ہوئے باہمی تنازعات کو حل کرنے پر توجہ دے۔ فوٹو : آئی ایس پی آر

HARIPUR:
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب میں قومی جذبات کی درست ترجمانی کرتے ہوئے دشمن کو للکارا کہ اس نے کبھی چھوٹی یا بڑی جارحیت کی تو اسے اس کی ناقابل برداشت قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انھوں نے واضح کر دیا کہ جنگ روایتی ہو یا غیرروایتی، ہاٹ اسٹارٹ ہو یا کولڈ اسٹارٹ، ہم تیار ہیں، مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں، 6ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس روز جب دشمن نے ہماری سرزمین پر حملہ کیا تو ہماری بہادر مسلح افواج اور قوم نے وطن عزیز کا کامیابی سے دفاع کیا اور دشمن کوعبرتناک شکست سے دوچار کیا، 6ستمبر1965کو گزرے ہوئے پچاس سال ہو گئے ہیں، اس عرصہ میں پاکستان نے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں لیکن میں پختہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پورا ملک آج پہلے سے زیادہ مضبوط اور پاکستانی قوم پہلے سے زیادہ پرعزم ہے، اس کامیابی کا سہرا قوم کے شہیدوں اورغازیوں کی لازوال قربانیوں کے سر ہے۔

آج بھی ہماری مسلح افواج کسی بھی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، دشمن نے کبھی چھوٹے یا بڑے پیمانے پر جارحیت کی تو اسے اس کی ناقابل برداشت قیمت ادا کرنا پڑے گی، پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے دہشتگردی اور غیر روایتی جنگ کا سامنا ہے، آپریشن ضرب عضب ایسے وقت پر شروع کیا گیا جب انتشاری قوتیں پاکستان کی ریاست کو چیلنج کر رہی تھیں اور ملک میں امن کی صورتحال انتہائی خراب تھی، سانحہ اے پی ایس پشاور ظلم و بربریت کی انتہا تھی لیکن شہید ہونے والے بچوں کی قربانی اور ان کے والدین کے صبر و تحمل نے قوم میں دہشتگردی کے خلاف عزم کو نئی توانائی بخشی، اس سانحے میں زیادہ تر دہشتگرد اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔

آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور قوم کی دعاؤں سے افواج پاکستان اور سیکیورٹی کے تمام اداروں نے بے پناہ کوشش اور قربانی دیتے ہوئے اس صورتحال پر قابو پا لیا ہے اور ریاست کی بالادستی قائم ہو گئی ہے۔ پاک فضائیہ کے سربراہ سہیل امان نے ایئر ہیڈ کوارٹرز میں یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایئر فورس سمیت مسلح افواج کے افسران اور جوان آج بھی 65ء والے جذبے سے سرشار ہیں اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ملک بھر میں 50واں یوم دفاع پورے جوش و خروش اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اسلام آباد میں 31اورصوبائی دارالحکومتوں میں 21,21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ لاہور میں برکی کے علاقے میں بی آر بی نہر پر میجر راجہ عزیز بھٹی نشان حیدر کے مقام شہادت پر پروقار تقریب ہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف تھے۔


بھارتی فوج نے ایک عرصے سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے اس پر مستزاد یہ کہ بھارتی آرمی چیف دلبیر سنگھ نے گزشتہ دنوں نئی دہلی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دے ڈالی کہ مختصر وارننگ پر مستقبل میں پاکستان کے ساتھ مختصر جنگ ہو سکتی ہے اس لیے بھارتی فوج اس کے لیے تیار رہے۔

اس کشیدہ صورت حال کے تناظر میں پاکستان میں سیاسی و عسکری سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور بھارت پر یہ واضح کر دیا کہ اگر اس نے جنگ مسلط کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ قوم کا مورال بلند کرنے کے لیے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھارت پر کھل کر واضح کر دیا اگر اس نے کولڈ اسٹارٹ یا ہاٹ اسٹارٹ جنگ کا آغاز کیا تو اس سے نمٹنے کی پاک فوج بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

کولڈ اسٹارٹ بھارتی نظریہ ہے جس کے تحت بہت سارے محاذوں پر عسکری کارروائیوں کا آغاز بیک وقت کیا جائے، بھارتی جنگی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بیک وقت کم از کم 8 بڑے محاذ کھول دیے جائیں اور ساحلی علاقوں سے بھی بھارتی بحریہ حملہ کر دے تو اس جنگی حکمت عملی کے تحت پاک فوج تقسیم ہو جائے گی اور پاکستان روایتی جنگ میں الجھ کر ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کر سکے گا۔ اس صورت حال کے تناظر میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت پاکستان پر قبضہ کرنے کے لیے منصوبے تشکیل دیتی رہتی ہے۔

65ء کا منصوبہ بھی اس نے لاہور پر قبضہ کرنے کے خیال سے بنایا تھا مگر پاک فوج نے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی افواج کے دانت کھٹے کر دیے اور پاکستان پر قبضے کے ان کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔

آج بھی بھارتی فوج پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے سے باز نہیں آ رہی لیکن وہ بخوبی جانتی ہے کہ پاک فوج دشمن کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور آج پاکستان جدید ترین روایتی ہتھیاروں سمیت ایٹمی میزائلوں سے لیس ہے اس لیے شروع کی گئی کسی بھی جنگ کا انجام انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپناتے ہوئے باہمی تنازعات کو حل کرنے پر توجہ دے۔
Load Next Story