متبادل کے بغیر

کراچی کے عوام کا ایک اہم مسئلہ ٹرانسپورٹ ہے جس میں 50 برسوں کے دوران کوئی تبدیلی یا بہتری کا دور دور تک پتہ نہیں۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

FAISALABAD:
ہماری انتظامیہ کی حسن کارکردگی ویسے تو ہر وقت عوام کی نظروں میں رہتی ہے لیکن بعض اہم ترین مسائل پر انتظامیہ ایسے فیصلے کرتی ہے کہ عوام کی آنکھیں چکا چوند ہوجاتی ہیں۔

کراچی کے عوام کا ایک اہم مسئلہ ٹرانسپورٹ ہے جس میں 50 برسوں کے دوران کوئی تبدیلی یا بہتری کا دور دور تک پتہ نہیں۔ 50 سال پہلے بھی غریب عوام بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر اور بسوں کے دروازوں پر لٹک کر سفر کرتے تھے اور آج بھی بسوں منی بسوں کی چھتوں پر انتہائی خطرناک صورتحال میں سفرکر رہے ہیں۔کہا جاتا ہے ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے ،کراچی کے عوام کو صبح شام سڑکوں پر رلتا دیکھ کر ہماری آٹو رکشہ برادری نے اس کا ایک حل چنگ چی کی صورت میں دریافت کیا ۔

چین ایک ایسا ملک ہے جو عوام کو سستی سہولتیں مہیا کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔ چنگ چی رکشہ جب کراچی کی سڑکوں پر آیا تو لوئر مڈل کلاس بڑی خوش ہوئی کہ اسے مناسب کرائے میں یہ سہولت دستیاب ہوئی کہ وہ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر آرام سے سفر کرے۔

بسوں منی بسوں میں بھیڑ میں کھڑے ہوکر بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنے والے غریب عوام کرائے میں قابل برداشت اضافے کے ساتھ جب چنگ چی ٹرانسپورٹ کی سہولت حاصل ہوئی تو وہ مطمئن ہوئے کہ انھیں بسوں منی بسوں میں دھکوں کی خواری سے نجات مل گئی، مسافر آرام سے اس ٹرانسپورٹ سے فائدہ اٹھانے لگے۔

چنگ چی کوئی انڈر گراؤنڈ سروس نہیں تھی کہ سرکار کی اس پر نظر نہ پڑ سکے۔ سرکارکی ناک کے نیچے چنگ چی چلنے لگی اور پھر زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی سرمایہ دارانہ لعنت نے چنگ چی مالکان کو ان کی سیٹوں میں اضافے کا راستہ دکھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف چنگ چی کی سیٹوں میں اضافہ ہوگیا بلکہ اس کی لمبائی چوڑائی بھی بڑھ گئی یوں یہ ٹرانسپورٹ زیادہ سے زیادہ عوام کو سہولتیں مہیا کرنے کا وسیلہ بن گئی اور یہ ساری کارروائی انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے ہوئی اور کئی سال تک یہ ٹرانسپورٹ سڑکوں پر جاری و ساری رہی۔ عشروں سے سیٹ پر بیٹھ کر سفر کرنے کی آرزو کرنے والے غریب عوام کی آرزو پوری ہوئی جس سے وہ خوش بھی تھے اور مطمئن بھی۔

پھر اچانک سائیں سرکار کی اندھی لاٹھی گھومی اور دیکھتے ہی دیکھتے عوام اس سستے ٹرانسپورٹ سے محروم ہوگئے، سرکار نے وجہ یہ بتائی کہ اس ٹرانسپورٹ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔

یہ دونوں جواز انتہائی لنگڑے لولے تھے کیونکہ حادثات کا اصل سبب ٹرانسپورٹ قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی ہے جب ہمارے محترم ٹریفک اہلکار سڑکوں کے کنارے غریب رکشہ ڈرائیوروں سے لین دین شروع کرتے ہیں تو ٹریفک قوانین اس علانیہ لین دین کی نذر ہوجاتے ہیں اور پھر یہ لین دین ایک منظم کاروبار میں بدل جاتا ہے اور اس کی ٹہنیاں اوپر تک پہنچ جاتی ہیں تو یہ کاروبار نہ صرف جائز ہوجاتا ہے بلکہ خوب پھلنے پھولنے لگتا ہے، چنگ چی کے ساتھ بھی یہی ہوا جب چنگ چی مالکان کے ذہن سے انتظامیہ کا خوف جاتا رہا تو وہ سڑکوں پر بے احتیاطی سے چلنے لگے۔


یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا سرکار کو اتنی فرصت ہی نہ ملی کہ وہ اس سستی اورعوام کی پسندیدہ ٹرانسپورٹ میں ہونے والی خرابیوں کو روکتی اور اس ٹرانسپورٹ میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرتی۔ اس کے بجائے اس نے بیک جنبش قلم اس پوری ٹرانسپورٹ ہی پر پابندی لگا دی یہ اندھے پن کی وہ انتہا تھی جس پر عوام اور خواص سب چلّا اٹھے۔

ہماری انتظامیہ کی نااہلی کا عدلیہ بڑی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ چنانچہ چنگ چی پر پابندی کی وجہ سے عوام سخت مشکلات کا شکار ہوگئے تھے سو عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا پڑا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل بینچ نے انتظامیہ سے پوچھا کہ ''اگر چنگ چی کا کوئی متبادل نہیں تھا تو اس پرکیوں پابندی لگا دی گئی؟'' فاضل بینچ نے ریمارکس دیے کہ عوام کے لیے یہ ایک سستی اور آسان سہولت تھی اس پر کیوں پابندی لگائی گئی۔ پہلے چنگ چی رکشہ چلانے کی اجازت دی گئی جب لاکھوں لوگوں کا اس ٹرانسپورٹ سے روزگار وابستہ ہوگیا تو اسے اچانک بند کردیا گیا۔

اگر کہیں غلطی ہو رہی تھی تو اسے درست کیا جانا تھا اس ٹرانسپورٹ پر مکمل پابندی نہیں لگائی جانی تھی۔ عدالت نے اپنے آبزرویشن میں کہا کہ سستی ٹرانسپورٹ کراچی میں ختم ہوچکی ہے۔ بسیں اور منی بسیں تباہ ہوچکی ہیں یا جنازوں کی طرح سڑکوں پر ڈول رہی ہیں۔ دوسرے منصوبوں پر تو اربوں کھربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن عوام کے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا۔

اس پابندی کے ذریعے عوام کو عذاب میں ڈال دیا گیا ہے۔ چنگ چی پر پابندی کی وجہ سے شہری مجبوری میں موٹر سائیکل پر اپنے خاندان کو بیٹھا کر ان کی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں، لوگ مر رہے ہیں۔ عوام کو مناسب ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں، لوگ بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کر رہے ہیں۔ محترم عدالت نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ سندھ کو ہدایت دی کہ وہ چنگ چی رکشوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے سماجی ماہرین سمیت تمام اسٹیک ہولڈروں کا اجلاس طلب کرکے کسی نظام پر متفق ہوں اور عدالت کو اس سے آگاہ کریں۔

عدالت نے عوام کے اس اہم مسئلے کا نوٹس لے کر سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو جو ہدایات دی ہیں اس پر عملدرآمد کب ہوگا اور کیسے ہوگا اس کا جواب شاید اس کالم کی اشاعت تک مل جائے۔

لیکن اس حوالے سے عوام انتظامیہ سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کراچی جیسے دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے اس شہر میں کسی مناسب متبادل کے بغیر چنگ چی پر پابندی لگانے کا کیا جواز تھا؟ اس حوالے سے قابل غور بات یہ ہے کہ چنگ چی کا سارا سفر انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے جاری رہا اگر اس ''ترقیاتی سفر'' میں کہیں خرابیاں پیدا ہو رہی تھیں تو ان کا تدارک ابتدا ہی میں کیا جانا تھا اب جب کہ چنگ چی عوام کی لازمی ضرورت بن گیاہے تو اس پر پابندی کو ہم انتظامیہ کے اندھے پن کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے ہیں۔

انتظامیہ کا یہ ارشاد کہ چنگ چی کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا تھا، ایک بے جان جواز ہے کیونکہ موٹرسائیکل، کار وغیرہ کے حوالے سے ہونے والے حادثات چنگ چی سے زیادہ ہیں اور اس کا سبب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
Load Next Story