اسپتال میں زیر علاج لڑکی ہلاک ورثا کی توڑ پھوڑ ڈیوٹی ڈاکٹر معطل

انجکشن لگنے کے بعد صنم انتقال کرگئی (خالہ) ہلاکت سے پہلے متوفیہ کوالٹی ہوئی تھی، ڈاکٹر.

انجکشن لگنے کے بعد صنم انتقال کرگئی (خالہ) ہلاکت سے پہلے متوفیہ کوالٹی ہوئی تھی، ڈاکٹر.

اسپتال میں زیر علاج لڑکی خون منتقلی کے دوران انتقال کرگئی، جسکے بعدورثا نے ڈاکٹر پرغفلت برتنے کا الزم لگا کراسپتال میں توڑ پھوڑ کی ۔

ضلعی صحت افسر نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو معطل کرکے 3رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی۔تفصیلات کے مطابق لطیف آباد نمبر 4کی رہائشی 18سالہ صنم کو پتے کے عارضے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بدھ کے روز گورنمنٹ شاہ بھٹائی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں جمعرات کے روز اس کا پتے کا آپریشن کیا گیا اور جمعے کے روزاسے خون چڑھایا جارہا تھا کہ اچانک اسکی حالت بگڑ گئی اور تھوڑی دیر میں وہ انتقال کر گئی۔ اچانک انتقال کی خبر ملنے پر مشتعل ورثانے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرعدیل اور وارڈبوائے اسلم کوتشدد کانشانہ بنایا اورجنرل وارڈ میں توڑ پھوڑ شروع کردی۔


ڈریسنگ روم سمیت کئی کمروں کے دروازے اورشیشے توڑ دیے۔ متوفیہ کی خالہ کے مطابق خون کی منتقلی کے دوران صنم کے چہرے پر سرخ وسیاہ داغ پڑنا شروع ہوئے تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو جاکربتایالیکن ڈاکٹرنے اس کے ساتھ آنے سے انکار کردیا، اس کے بعد مقتولہ کے ہاتھ نیلے پڑنے شروع ہوگئے تو ڈاکٹرنے آکراسے ایک انجیکشن لگا دیا جسکے تھوڑی دیر بعد اس کی بھانجی نے دم توڑ گیا۔ معطل ڈاکٹر عدیل نے بتایا کہ وہ دوپہر دو بجے ڈیوٹی پر آئے تو اس وقت متوفیہ کو خون کی بوتل لگی ہوئی تھی، جبکہ اس سے قبل دوسرا ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجودتھا، لڑکی کے گھر والوںکے بلانے پر میں فوراً لڑکی کے پاس پہنچا تو میرے سامنے مقتولہ کو الٹی ہوئی جس کے بعداسے آکسیجن لگایا، اپنے ہاتھوں سے اس کے سینے کو پمپ بھی کیا لیکن لڑکی انتقال کرگئی۔

میرے ڈیوٹی پر آنے سے قبل جو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر تھا اس نے لڑکی کو کیا ادویات دیں اسکا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ ضلعی صحت افسر ڈاکٹر بخش علی پتافی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انتقال کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر عدیل کو معطل کردیا ہے جبکہ واقعہ کی تحقیقات کیلیے 3سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیدی ہے جوپورے معاملے کی تحقیقات کرکے 3روز میں رپورٹ پیش کریگی۔
Load Next Story