کراچی سمیت سندھ بھر میں ہڑتال کی تیاریاں مکمل
ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلیے چھوٹے تاجروں کے مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے ہنگامی دورے
ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلیے چھوٹے تاجروں کے مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے ہنگامی دورے ۔ فوٹو : آن لائن
بینکاری لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاف بدھ کو کراچی سمیت سندھ بھر میں ہڑتال کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں، ہڑتال کو بھرپور انداز میں کامیاب بنانے کی غرض سے منگل کوکراچی میں چھوٹے تاجروں کے تمام گروپوں نے شہربھر کی مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے ہنگامی دورے کیے۔
سندھ تاجر اتحاد کے رہنما جمیل احمد پراچہ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ حکمرانوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو تاجر برادری غیرمعینہ مدت کے لیے اپنا کاروبار بند کرکے سڑکوں پر آجائے گی۔ اس موقع پراسماعیل لالپوریہ، عبدالصمدخان، الیاس میمن، زبیر علی خان، سلیم میمن، رضوان عرفان، انصار بیگ قادری و دیگر بھی موجود تھے۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو 12نکاتی چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کرکے گیند ان کی کورٹ میں ڈال دی ہے، اب حکمرانوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ملک میں خوشحالی چاہتی ہیں یا اپنی ہٹ دھرمی سے معاشی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
علاوہ ازیں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے تجارتی مراکز کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاہ قانون فی الفور واپس لے،تاجروں پر اس قدر ظلم نہ کیا جائے کہ وہ حکومت کے ظلم اور زیادتیوں کے خلاف انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں اور بلدیاتی انتخابات سمیت ہر سطح پر موجودہ حکومت کے خلاف عدم تعاون اور مخالفت میں آواز اٹھائیں، متنازع ٹیکس کے خلاف سیاسی جماعتوں کی حمایت تقویت بخش ہے، تاجر متنازع ٹیکس کے خلاف سڑکوں پر آئے تو سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دینگے۔
اس موقع پر ان کے ہمراہ سپریم کونسل اکرم رانا، انصار بیگ قادری، طارق ممتاز، زبیر علی خان، عبدالغنی اخوند، احمد شمسی، شیخ محمد عالم، سمیع اللہ خان، سید شرافت علی، شاکر فینسی، ملک اسلم جاوید ارائیں، ضیاء عمر سہگل، میر عبدالحئی خان، محمد آصف، دلشاد بخاری، عبدالقادر، سید محمد سعید، اصغر مورا والا اور محمد عارف بھی موجود تھے۔
سندھ تاجر اتحاد کے رہنما جمیل احمد پراچہ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ حکمرانوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو تاجر برادری غیرمعینہ مدت کے لیے اپنا کاروبار بند کرکے سڑکوں پر آجائے گی۔ اس موقع پراسماعیل لالپوریہ، عبدالصمدخان، الیاس میمن، زبیر علی خان، سلیم میمن، رضوان عرفان، انصار بیگ قادری و دیگر بھی موجود تھے۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو 12نکاتی چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کرکے گیند ان کی کورٹ میں ڈال دی ہے، اب حکمرانوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ملک میں خوشحالی چاہتی ہیں یا اپنی ہٹ دھرمی سے معاشی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
علاوہ ازیں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے تجارتی مراکز کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاہ قانون فی الفور واپس لے،تاجروں پر اس قدر ظلم نہ کیا جائے کہ وہ حکومت کے ظلم اور زیادتیوں کے خلاف انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں اور بلدیاتی انتخابات سمیت ہر سطح پر موجودہ حکومت کے خلاف عدم تعاون اور مخالفت میں آواز اٹھائیں، متنازع ٹیکس کے خلاف سیاسی جماعتوں کی حمایت تقویت بخش ہے، تاجر متنازع ٹیکس کے خلاف سڑکوں پر آئے تو سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دینگے۔
اس موقع پر ان کے ہمراہ سپریم کونسل اکرم رانا، انصار بیگ قادری، طارق ممتاز، زبیر علی خان، عبدالغنی اخوند، احمد شمسی، شیخ محمد عالم، سمیع اللہ خان، سید شرافت علی، شاکر فینسی، ملک اسلم جاوید ارائیں، ضیاء عمر سہگل، میر عبدالحئی خان، محمد آصف، دلشاد بخاری، عبدالقادر، سید محمد سعید، اصغر مورا والا اور محمد عارف بھی موجود تھے۔