سپر لیگ پاکستان آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی خدمات لینے کیلیے کوشاں

فیس کے ساتھ دیگر تمام اخراجات بھی برداشت کرنالازم،فروری میں کونسل کے آفیشلز انٹرنیشنل سیریز میں مصروف ہوں گے

عدم دستیابی پر پی سی بی کو اپنے آفیشلزپر انحصار کرنا پڑے گا،آئی سی سی اے سی ایس یو کی ورکشاپ کا آج دبئی میں آغاز فوٹو: فائل

پی سی بی سپر لیگ کیلیے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی خدمات حاصل کرنے کیلیے کوشاں ہے،اس صورت میں اسے فیس کے ساتھ دیگر تمام اخراجات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔

عدم دستیابی کی صورت میں پاکستان کو اپنے اے سی ایس یو پر انحصار کرنا پڑے گا۔ دریں اثناآئی سی سی اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ کا 2 روزہ ورکشاپ بدھ اور جمعرات کو دبئی میں منعقد ہو گا، پاکستان کی نمائندگی ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ ویجیلنس کرنل (ر) اعظم کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ4 سے 24 فروری تک دوحا قطر میں ہو گی۔

پی سی بی کی کوشش ہے کہ ایونٹ میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن آفیشلزکا تقرر ہو،بنگلہ دیش، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ بھارت نے آئی پی ایل جبکہ ٹوئنٹی20چیمپئنز لیگ کیلیے بھی آئی سی سی اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ کی خدمات لی گئی تھیں، آفیشلز نے ڈیپوٹیشن پر ایونٹ آرگنائزرز کے ساتھ کام کیا، معاوضے اور ایئرٹکٹ کے ساتھ قیام و طعام کے تمام اخراجات منتظمین نے ہی برداشت کیے۔

مگر اب آئی سی سی قوانین کے مطابق ہر ممبر ملک کا اپنا ڈومیسٹک اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ موجود ہے، ابتدا میں ان کے نہ ہونے کی وجہ سے کونسل کو اپنے ارکان بھیجنا پڑتے تھے، فروری میں چونکہ 4 سیریز جاری ہوں گی اس لیے آئی سی سی کیلیے اپنے اے سی ایس یو کو بھیجنا مشکل ہے،3 سے 24فروری تک آسٹریلیا کا دورئہ نیوزی لینڈ طے ہے، بنگلہ دیش زمبابوے کی میزبانی میں مصروف ہوگا، انگلش ٹیم جنوبی افریقہ میں سیریز کھیلے گی۔


دسمبر 2015 میں شروع ہونے والا یہ طویل ٹور21 فروری 2016 کو ختم ہوگا، بھارت سری لنکا سے ہوم سیریز میں مصروف ہوگا، ذرائع نے بتایا کہ تاحال پی سی بی نے کونسل سے تحریری درخواست نہیں کی مگر ایسا کرنے پر اگر ممکن ہوا تب ہی کسی کو دوحا بھیجا جائے گا، آئی سی سی کی اولین ترجیح انٹرنیشنل کرکٹ ہی ہے۔

وینیوز زیادہ ہونے کی صورت میں ایک سے زائد اے سی ایس یو آفیشل کا تقرر ہوتا ہے، دوحا میں گوکہ ایک ہی گراؤنڈ میں میچز ہوں گے مگر پھر بھی ایک آفیشل پر کام کا سارا بوجھ نہیں ڈالا جا سکے گا، لہذا 2یا تین ارکان کو فرائض سونپے جائیں گے، انگلینڈ میں حال ہی میں ختم ہونے والے ایونٹ ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ اور جنوبی افریقی ٹورنامنٹ میں بھی مقامی اینٹی کرپشن یونٹ نے خدمات انجام دی تھیں۔

دوسری جانب آئی سی سی فل ممبران کو ڈومیسٹک لیگز کیلیے باقاعدہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی بس آگاہ کرنا پڑتا ہے، لہذا پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا،2008 میں آئی پی ایل لانچ ہونے سے قبل بھارت کا معاہدہ ہوا اس میں اینٹی کرپشن، اینٹی ریسزم (نسل پرستی) اور اینٹی ڈوپنگ کوڈ بھی شامل کیا گیا تھا، بی سی سی آئی پر لازم تھا کہ وہ تمام فرنچائزز کے ان امور پر عمل درآمد لازم بنائے، پی سی بی کو بھی اپنی لیگ سے قبل ایسا ہی کرنا ہوگا۔

عدم دستیابی پر پی سی بی کو اپنے آفیشلزپر انحصار کرنا پڑے گا،آئی سی سی اے سی ایس یو کی ورکشاپ کا آج دبئی میں آغاز

دریں اثنا آئی سی سی اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ کا 2 روزہ ورکشاپ بدھ اور جمعرات کو دبئی میں منعقد ہو گا، پاکستان کی نمائندگی ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ ویجیلنس کرنل (ر) اعظم کریں گے، ورکشاپ میں کونسل ممبران کے ڈومیسٹک اینٹی کرپشن نمائندے شریک ہوں گے، انھیں ٹریننگ اور ڈیٹا شیئرنگ سمیت انٹرنیشنل اینٹی کرپشن کوڈ سے آگاہی فراہم کی جائے گی۔
Load Next Story