سابق کمشنرکے دورمیں اسلحہ لائسنس فیس میںفراڈ کا انکشاف
روشن علی شیخ کے عملے نے ایک قومی بینک کی جعلی مہریں بنارکھی ہیں، ذرائع
روشن علی شیخ کے عملے نے ایک قومی بینک کی جعلی مہریں بنارکھی ہیں، ذرائع فوٹو :فائل
ایف آئی اے کراچی نے سابق کمشنر کراچی روشن علی شیخ اور ان کے عملے کی جانب سے اسلحہ لائسنس فیس کی مد میں فراڈ کرنے کے الزام میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے اسلحہ لائسنس فیس کی مد میںہونے والے فراڈ کی تحقیقات کیلیے باقاعدہ انکوائری رجسٹرڈ کرلی ہے، ذرائع کے مطابق کمشنر آفس کا عملہ نئے اسلحہ لائسنس کے اجرا کے وقت گورنمنٹ فیس کی مد میں جعلی چالان پیش کرنے میں ملوث ہے جس کیلیے عملے کے نے ایک قومی بینک کی جعلی مہریں بنارکھی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اسلحہ لائسنس فیس کی مد میں حال ہی میں اپنے عہدے سے تبادلہ کیے جانے والے کمشنر کراچی روشن علی شیخ براہ راست ملوث ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ روشن علی شیخ اور ان کے عملے نے ان کی تعیناتی کے دوران بڑے پیمانے پر جعلی مہروں کے حامل چالان فارمز کے ذریعے نئے اسلحہ لائسنس کا اجراء کیا، ذرائع نے بتایا کہ تاحال ایف آئی اے حکام نے ابتدائی طور پرقومی بینک کی مہر کے حامل چند مشکوک چالان کی تصدیق کی تو انکشاف ہوا کہ نیشنل بینک میں متعلقہ فارم کی فیس جمع ہی نہیں کرائی گئی ہے اور چالان پر ثبت مہر جعلی ہے۔
چنانچہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون نے اس سلسلے میں باقاعدہ انکوائری رجسٹرڈ کرکے معاملے کی جامع تحقیقات کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد مالک نے بتایا کہ سابق کمشنر کے دور میں جعلی بینک چالان کے ذریعے اسلحہ لائسنس جاری کیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کی تصدیق کی انھوں نے بتایا کہ اس وقت تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں اور کمشنر آفس کے ریکارڈ کی تفصیلی چھان بین کے بعد ہی اس سلسلے میں حتمی طور پر بتایا جاسکے گا کہ قومی خزانے کا کتنا نقصان پہنچایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے اسلحہ لائسنس فیس کی مد میںہونے والے فراڈ کی تحقیقات کیلیے باقاعدہ انکوائری رجسٹرڈ کرلی ہے، ذرائع کے مطابق کمشنر آفس کا عملہ نئے اسلحہ لائسنس کے اجرا کے وقت گورنمنٹ فیس کی مد میں جعلی چالان پیش کرنے میں ملوث ہے جس کیلیے عملے کے نے ایک قومی بینک کی جعلی مہریں بنارکھی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اسلحہ لائسنس فیس کی مد میں حال ہی میں اپنے عہدے سے تبادلہ کیے جانے والے کمشنر کراچی روشن علی شیخ براہ راست ملوث ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ روشن علی شیخ اور ان کے عملے نے ان کی تعیناتی کے دوران بڑے پیمانے پر جعلی مہروں کے حامل چالان فارمز کے ذریعے نئے اسلحہ لائسنس کا اجراء کیا، ذرائع نے بتایا کہ تاحال ایف آئی اے حکام نے ابتدائی طور پرقومی بینک کی مہر کے حامل چند مشکوک چالان کی تصدیق کی تو انکشاف ہوا کہ نیشنل بینک میں متعلقہ فارم کی فیس جمع ہی نہیں کرائی گئی ہے اور چالان پر ثبت مہر جعلی ہے۔
چنانچہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون نے اس سلسلے میں باقاعدہ انکوائری رجسٹرڈ کرکے معاملے کی جامع تحقیقات کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد مالک نے بتایا کہ سابق کمشنر کے دور میں جعلی بینک چالان کے ذریعے اسلحہ لائسنس جاری کیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کی تصدیق کی انھوں نے بتایا کہ اس وقت تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں اور کمشنر آفس کے ریکارڈ کی تفصیلی چھان بین کے بعد ہی اس سلسلے میں حتمی طور پر بتایا جاسکے گا کہ قومی خزانے کا کتنا نقصان پہنچایا گیا۔