علما جعلی عاملوں کے پاس جانیوالوں کی رہنمائی کریں ناصرہ جاوید
بنگالی بابوں کے اشتہارات چلانیوالے سوچیں سوسائٹی پرانکاکیا اثر پڑیگا، بات سے بات میںگفتگو
بنگالی بابوں کے اشتہارات چلانیوالے سوچیں سوسائٹی پرانکاکیا اثر پڑیگا، بات سے بات میں گفتگو ، فوٹو: فائل
پاکستان میں جعلی پیر،عامل معصوم اور مسائل سے دوچارشہریوں کو لوٹنے کے لیے بہت سارے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ۔
جعلی پیر غریب مہنگائی بیروزگاری سے تنگ عوام کواپنی باتوں میں بہلا پھسلا کر ان سے ہزاروںلاکھوں ہتھیالیتے ہیں بلکہ ان کی عزتوںکو بھی پامال کردیتے ہیں، پروگرام بات سے بات میں جعلی پیروںکے کرتوتوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ۔
جسٹس (ر)ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ علماکو چاہیے کہ وہ جعلی پیروں فقیروں روحانی علاج گاہوںاور جادوٹونے کرنے والوںکے پاس جانے والے لوگوں کی رہنمائی کریںاوران کوصحیح راستے کے انتخاب میں مدد دیں، اینکر پرسن ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار خان سے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہا بنگالی بابوں اورپیروں کے اشتہارات چلانے والوںکوبھی سوچناچاہیے کہ اس سے ہماری سوسائٹی پر کیا اثر پڑے گا۔
پیرکی ہوس کا نشانہ بننے والی خاتون نے کہاکہ اپنے سسرال میں تھی کہ میرے خاوندکے پیر نے کہاکہ یہ ٹھیک نہیںہے اس کوطلاق دے دومیرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی میں اپنے بھائیوں کے گھر آگئی اورپیر نے کہاکہ اس کومیرے گھرچھوڑدو میں اس کی پھر شادی کرادوںگا اورمیں ان کے گھر رہنے لگی جہاں اس نے میری مجبوری کا فائدہ اٹھایا میں نے اپنے بھائی کوبتایا جو مجھے وہاں سے اپنے گھر لے آیا میں چاہتی ہوں کہ اس کو سزاملے ،بات سے بات کی ٹیم نے ثبوت کے طورپرریکارڈ کی جانے والی ٹیلی فونک گفتگو کو بنیادبناکرجعلی پیرکوجیل کی سلاخوں پیچھے پہنچا دیا ۔
پیر کا کہناتھاکہ یہ مجھ پر غلط الزامات لگا رہی ہے میرا اس سے کوئی تعلق نہیںہے اس کواس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی پھر بعد میں اس نے رجوع کرلیا۔ پروگرام میں بنگالی بابونامی جعلی پیر نے کہا کہ میں آپ سے بات تب کروںگا جب آپ میرے موبائل پر گیارہ سو روپے کا ایزی لوڈ کرائیں گے اور پھر فون کاٹ دیا ۔
انیس سالہ کرن نے کہا کہ میرے والد فوت ہوچکے ہیں،وزیرآباد میںمیرے بہنوئی کے جاننے والے حاجی صاحب تھے جن کے پاس ہم نے امانت کے طور پر تین لاکھ روپے رکھ دیئے لیکن حاجی صاحب نے پیسے نہیں دیئے، پچھتر برس کے قریب عمر کے حاجی صاحب نے کہا تم میرے ساتھ شادی کرلو اور میرے گھر میں ہی رہو ، جس پر مجھے بہت دکھ ہوا اور ہم وہاں سے واپس آگئے، ابھی تک حاجی صاحب نے پیسے واپس نہیں کیے۔ایک خاتون نے کہا میں پیرومرشد والی ہوں ہماری مشکالات پیروں کے وسیلے سے پوری ہوتی ہیں اور ہم مطمئن ہیں ۔ایک شخص کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں اصل اور نقل کی پہچان بہت ہی مشکل ہوچکی ہے ۔ایک ادھیڑ عمر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پیر یا بابا جی نماز پڑھنے کا کہیں تو ان کی بات ماننی چاہیے ۔
جعلی پیر غریب مہنگائی بیروزگاری سے تنگ عوام کواپنی باتوں میں بہلا پھسلا کر ان سے ہزاروںلاکھوں ہتھیالیتے ہیں بلکہ ان کی عزتوںکو بھی پامال کردیتے ہیں، پروگرام بات سے بات میں جعلی پیروںکے کرتوتوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ۔
جسٹس (ر)ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ علماکو چاہیے کہ وہ جعلی پیروں فقیروں روحانی علاج گاہوںاور جادوٹونے کرنے والوںکے پاس جانے والے لوگوں کی رہنمائی کریںاوران کوصحیح راستے کے انتخاب میں مدد دیں، اینکر پرسن ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار خان سے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہا بنگالی بابوں اورپیروں کے اشتہارات چلانے والوںکوبھی سوچناچاہیے کہ اس سے ہماری سوسائٹی پر کیا اثر پڑے گا۔
پیرکی ہوس کا نشانہ بننے والی خاتون نے کہاکہ اپنے سسرال میں تھی کہ میرے خاوندکے پیر نے کہاکہ یہ ٹھیک نہیںہے اس کوطلاق دے دومیرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی میں اپنے بھائیوں کے گھر آگئی اورپیر نے کہاکہ اس کومیرے گھرچھوڑدو میں اس کی پھر شادی کرادوںگا اورمیں ان کے گھر رہنے لگی جہاں اس نے میری مجبوری کا فائدہ اٹھایا میں نے اپنے بھائی کوبتایا جو مجھے وہاں سے اپنے گھر لے آیا میں چاہتی ہوں کہ اس کو سزاملے ،بات سے بات کی ٹیم نے ثبوت کے طورپرریکارڈ کی جانے والی ٹیلی فونک گفتگو کو بنیادبناکرجعلی پیرکوجیل کی سلاخوں پیچھے پہنچا دیا ۔
پیر کا کہناتھاکہ یہ مجھ پر غلط الزامات لگا رہی ہے میرا اس سے کوئی تعلق نہیںہے اس کواس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی پھر بعد میں اس نے رجوع کرلیا۔ پروگرام میں بنگالی بابونامی جعلی پیر نے کہا کہ میں آپ سے بات تب کروںگا جب آپ میرے موبائل پر گیارہ سو روپے کا ایزی لوڈ کرائیں گے اور پھر فون کاٹ دیا ۔
انیس سالہ کرن نے کہا کہ میرے والد فوت ہوچکے ہیں،وزیرآباد میںمیرے بہنوئی کے جاننے والے حاجی صاحب تھے جن کے پاس ہم نے امانت کے طور پر تین لاکھ روپے رکھ دیئے لیکن حاجی صاحب نے پیسے نہیں دیئے، پچھتر برس کے قریب عمر کے حاجی صاحب نے کہا تم میرے ساتھ شادی کرلو اور میرے گھر میں ہی رہو ، جس پر مجھے بہت دکھ ہوا اور ہم وہاں سے واپس آگئے، ابھی تک حاجی صاحب نے پیسے واپس نہیں کیے۔ایک خاتون نے کہا میں پیرومرشد والی ہوں ہماری مشکالات پیروں کے وسیلے سے پوری ہوتی ہیں اور ہم مطمئن ہیں ۔ایک شخص کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں اصل اور نقل کی پہچان بہت ہی مشکل ہوچکی ہے ۔ایک ادھیڑ عمر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پیر یا بابا جی نماز پڑھنے کا کہیں تو ان کی بات ماننی چاہیے ۔