میڈیا لاجک ریٹنگ کیس جس نے زیادتی کی اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے رانا ثنا اللہ
خاتون کو ہراساں کرنے کا معاملہ سب سے اہم ہے، انصاف دلائیں گے ، ذمے دار کو معافی نہیں ملے گی، عظمٰی بخاری
خاتون کو ہراساں کرنے کا معاملہ سب سے اہم ہے، ہمیں ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، انصاف دلائیں گے ، ذمے دار کو معافی نہیں ملے گی، عظمٰی بخاری ۔ فوٹو : فائل
صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ میڈیا ریٹنگ کمپنی ''میڈیا لاجک'' اور ایکسپریس نیوز کا معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں ہے، انھوں نے آئی جی پنجاب کوفیکٹ فائنڈنگ کا حکم دیا ۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''جی فار غریدہ'' میں میزبان غریدہ فاروقی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ معاملے کے فریقین کی مشاورت سے ایک کمیٹی بنائی جائے جس پرکسی کو اعتراض نہ ہو اور چھان بین کی جائے۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک پروگرام میں ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر ایاز خان کہہ رہے تھے کہ جے آئی ٹی بنائی جائے توجے آئی ٹی کے حالات کچھ اور ہوتے ہیں۔ میرے علم میں نہیں کہ ایف آئی آر درج ہوئی ہے یا نہیں، اگر ہوئی ہے تو کن دفعات کے تحت درج ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ دونوں فریقین کی مشاورت سے جو بہترین آفیسرز ہیں ان کو تفتیش دے دی جائے جو بھی متاثرہ فریق ہو اس کا مقدمہ درج کیا جائے اور جس نے زیادتی کی ہے تو اس کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ ماضی میں پولیس کے آفیسرز نے ہی پولیس والوں کیخلاف تحقیقات کی، ان کو سزائیں ہوئیں۔
جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم سے مراد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ہے جو شائستہ بی بی کے الزام کی تحقیقات کرے۔ اس میں پولیس کے لوگوں کا پتہ چل جائیگا کہ انھوں نے کہاں پر قانون سے تجاوز کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس معاملے پر اگلے تین یا چار روز میں بہت سی چیزیں فائنل ہو جائیں گی۔ مقدمہ ریاست نے درج کرنا ہے لیکن جب تک متاثرہ خاتون شائستہ بیان نہیں دیں گی اور تفتیش میں داخل نہیں ہوں گی معاملہ آگے نہیں بڑھے گا، ان کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آنا پڑیگا۔
انکوائری کے بغیر کسی کوسزادینا درست نہیں۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ تحقیقات ہو تو پھر جس کو بھی سزا دینی ہو دی جائیگی، ابھی تو کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ دونوں طرف میڈیا کے لوگ ہیں ہم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کوتیار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جس خاتون کو ہراساں کیا گیا ہمیں اس کیساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ یہ بظاہرمیڈیا کے دو سیگمنٹس کا ایشو ہے لیکن ہمارے لیے خاتون کو ہراساں کرنے کا معاملہ سب سے اہم ہے۔
وزیراعلیٰ کے تحفظات بھی شائستہ بی بی کے ساتھ سلوک پر ہیں۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے قیام کے بعد چیزیں مرحلہ وار چلیں گی جیسے ہی کوئی طریقہ کار طے ہوگا تو یقینی طورپر کسی بھی ذمے دارکو معافی نہیں ہوگی۔ ہم سب شائستہ کے ساتھ ہیں اور ان کو انصاف دلائیں گے۔ حکومت کی طرف سے ایکسپریس نیوزکو بند کرنے کی کوئی سازش نہیں ہو رہی اور نہ ہی کوئی ایسی سازش کر سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما صمصام بخاری نے کہا کہ تحقیقات ہوگی تو سب کچھ پتہ چل جائیگا لیکن خاتون کے ساتھ جو سلوک کیا گیا میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ باقی معاملات کے بارے میں میں کلیئر نہیں ہوں۔
پولیس حکومت کے ساتھ ہی ہوتی ہے جو حکومت کہے جائز ہو یا ناجائزہو وہ کرتی ہے، ریٹنگ کا طریقہ کار غلط ہے۔ ہر بندے کی اپنی رائے ہے اکثر جو سروے ہوتے ہیں ان کی رائے پہلے سے طے کرلی جاتی ہے۔ سینئرصحافی ڈاکٹر جبار خٹک نے کہا کہ میڈیا لاجک کا ادارہ بظاہر الیکٹرانک میڈیا کی ریٹنگ کو جانچنے کا ادارہ ہے جب ملک میں صرف ایک ادارہ کام کر رہا ہے تو پھر اس کی مناپلی ہے۔
جب یہ ادارہ بنا تو میں نے پی بی اے کے لوگوں کی زبانی سنا کہ ڈھونگ رچانے کیلیے یہ ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے میٹر ایک ہزار سے کم ہیں، جو پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کی ریٹنگ اور مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میڈیا لاجک نے خود ہی اپنے سر پر ایک ٹوپی رکھ لی اورمیڈیاکے اداروں نے اس کو معتبر بنا دیا۔ ارباب اختیار کو بتانا چاہیے کہ یہ سسٹم کیسے بنا۔ میڈیا لاجک بہت سے علاقائی چینلز کو نظر اندازکرتا ہے یہ بھی سنا گیا ہے کہ میڈیا لاجک اچھی ریٹنگ کے لیے رشوت مانگتا ہے میڈیا لاجک تو اصل میں میڈیا ان لاجک ہے۔
سابق آئی جی شوکت جاوید نے کہا کہ ایف آئی آر اور کسی وارنٹ کے بغیر کسی ثبوت کے بغیر کسی کے گھر میں جانا غیرقانونی حرکت ہے۔ جو کچھ ایکسپریس پر بتایا گیا ہے اگرویسا ہی ہوا ہے تو یہ غیرقانونی کام ہے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ہونی چاہے اورقانونی کارروائی بھی ہونی چاہئے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پس پردہ ہاتھ کون سا ہے جس نے یہ سب کچھ کیا کسی ادارے کی ریٹنگ کم یا زیادہ سے حکومت کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ پی یو ایف جے کے صدر رانا عظیم نے کہا کہ ہم نے ایکسپریس نیوزکے ایشو پر حکومتی بے حسی کیخلاف احتجاج کیا ہے۔
حکمران اور وہ تمام قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ہم کسی بھی میڈیا ہاؤس کو بندکروالیں گے تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایکسپریس نیوز میںہزاروں کارکن کام کرتے ہیں اگر اس کو بند کرانیکی کوئی سازش کی گئی تو صحافی برادری انکے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اس معاملے کی تحقیقات وہ لوگ کریں جو خود نیوٹرل ہوں، اگرکسی نے جرم کیا ہے اس کو سزاملنی چاہیے۔ آئی جی پنجاب سے انصاف کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ پاکستان علما کونسل کے رہنما مولانا طاہر اشرفی نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''میں اور مولانا'' میں میزبان ذیشان ملک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے وزرا کا کوئی حال نہیں، ایکسپریس کی ریٹنگ کے ایشو کی طرف ہی دیکھ لیں ابھی تک کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا لاہور پولیس نے شائستہ اور اس کے بھائیوں کو اٹھایا تھا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اٹھایا آپ ہر چھوٹے چھوٹے معاملے میں جے آئی ٹی بناتے ہیں تواس معاملے میں بھی بنا دیں۔ میرا خیال ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور یہ کالا پولیس میں نہیں ہے کیونکہ پولیس کو تو استعمال کیا گیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی پرانی بات پر اب ردعمل ظاہر کیا جارہا ہو۔ یہ اختیار کسی نے بھی پولیس کو نہیں دیا کہ وہ کسی کے گھر میں لیڈی پولیس کے بغیر داخل ہو کسی کو اٹھا کر لاہور لے آئے۔ میں نہیں کہتا کہ ایکسپریس بے گناہ ہے چلیں ہم نے کوئی جرم کیا ہمارا فیصلہ پی بی اے کریگا لیکن جوجرم انھوں نے کیا ہے اس کی سزا کیسے اورکس کو ملے گی۔ حکومت ہرمعاملے میں فیصلہ کرنے میں دیر کرتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
کیا شائستہ اوران کی والدہ کے آنسوؤں پر کسی کو ترس نہیں آتا۔ انھوں نے جس انداز میں چھاپہ مارا یہ اختیار پولیس کوکس نے دیا ہے بس اس کا جواب ہمیں دے دیں۔ جوکمپنی اتنی غیرمحفوظ ہے جس کو کوئی بھی پیسے دے کر اپنی ریٹنگ لے لے توکیا اس کمپنی کو رہنا چاہیے۔
کس بنیاد پر سوگھر منتخب کیے ہیں میرے لیے بہت حیران کن ہے کہ تین ہزار روپے دے کر کوئی بھی چینل لگا لے اسطرح کوئی اورآئے گا وہ پانچ ہزار دے دے گا۔ روٹین میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایکسپریس کی ریٹنگ زیرو نہیں تھی اورکسی چینل کی ریٹنگ بھی ایک جیسی رہ نہیں سکتی یہ معاملہ بیٹھ کر بات کرنے والا تھا لیکن جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ درست نہیں۔ اس واقعہ سے کم ازکم یہ پتہ چل گیا ہے کہ ریٹنگ سسٹم میں کتنی خامیاں ہیں، اس شخص کو تلاش کیا جانا چاہئے جس نے پولیس کو استعمال کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''جی فار غریدہ'' میں میزبان غریدہ فاروقی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ معاملے کے فریقین کی مشاورت سے ایک کمیٹی بنائی جائے جس پرکسی کو اعتراض نہ ہو اور چھان بین کی جائے۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک پروگرام میں ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر ایاز خان کہہ رہے تھے کہ جے آئی ٹی بنائی جائے توجے آئی ٹی کے حالات کچھ اور ہوتے ہیں۔ میرے علم میں نہیں کہ ایف آئی آر درج ہوئی ہے یا نہیں، اگر ہوئی ہے تو کن دفعات کے تحت درج ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ دونوں فریقین کی مشاورت سے جو بہترین آفیسرز ہیں ان کو تفتیش دے دی جائے جو بھی متاثرہ فریق ہو اس کا مقدمہ درج کیا جائے اور جس نے زیادتی کی ہے تو اس کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ ماضی میں پولیس کے آفیسرز نے ہی پولیس والوں کیخلاف تحقیقات کی، ان کو سزائیں ہوئیں۔
جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم سے مراد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ہے جو شائستہ بی بی کے الزام کی تحقیقات کرے۔ اس میں پولیس کے لوگوں کا پتہ چل جائیگا کہ انھوں نے کہاں پر قانون سے تجاوز کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس معاملے پر اگلے تین یا چار روز میں بہت سی چیزیں فائنل ہو جائیں گی۔ مقدمہ ریاست نے درج کرنا ہے لیکن جب تک متاثرہ خاتون شائستہ بیان نہیں دیں گی اور تفتیش میں داخل نہیں ہوں گی معاملہ آگے نہیں بڑھے گا، ان کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آنا پڑیگا۔
انکوائری کے بغیر کسی کوسزادینا درست نہیں۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ تحقیقات ہو تو پھر جس کو بھی سزا دینی ہو دی جائیگی، ابھی تو کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ دونوں طرف میڈیا کے لوگ ہیں ہم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کوتیار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جس خاتون کو ہراساں کیا گیا ہمیں اس کیساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ یہ بظاہرمیڈیا کے دو سیگمنٹس کا ایشو ہے لیکن ہمارے لیے خاتون کو ہراساں کرنے کا معاملہ سب سے اہم ہے۔
وزیراعلیٰ کے تحفظات بھی شائستہ بی بی کے ساتھ سلوک پر ہیں۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے قیام کے بعد چیزیں مرحلہ وار چلیں گی جیسے ہی کوئی طریقہ کار طے ہوگا تو یقینی طورپر کسی بھی ذمے دارکو معافی نہیں ہوگی۔ ہم سب شائستہ کے ساتھ ہیں اور ان کو انصاف دلائیں گے۔ حکومت کی طرف سے ایکسپریس نیوزکو بند کرنے کی کوئی سازش نہیں ہو رہی اور نہ ہی کوئی ایسی سازش کر سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما صمصام بخاری نے کہا کہ تحقیقات ہوگی تو سب کچھ پتہ چل جائیگا لیکن خاتون کے ساتھ جو سلوک کیا گیا میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ باقی معاملات کے بارے میں میں کلیئر نہیں ہوں۔
پولیس حکومت کے ساتھ ہی ہوتی ہے جو حکومت کہے جائز ہو یا ناجائزہو وہ کرتی ہے، ریٹنگ کا طریقہ کار غلط ہے۔ ہر بندے کی اپنی رائے ہے اکثر جو سروے ہوتے ہیں ان کی رائے پہلے سے طے کرلی جاتی ہے۔ سینئرصحافی ڈاکٹر جبار خٹک نے کہا کہ میڈیا لاجک کا ادارہ بظاہر الیکٹرانک میڈیا کی ریٹنگ کو جانچنے کا ادارہ ہے جب ملک میں صرف ایک ادارہ کام کر رہا ہے تو پھر اس کی مناپلی ہے۔
جب یہ ادارہ بنا تو میں نے پی بی اے کے لوگوں کی زبانی سنا کہ ڈھونگ رچانے کیلیے یہ ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے میٹر ایک ہزار سے کم ہیں، جو پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کی ریٹنگ اور مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میڈیا لاجک نے خود ہی اپنے سر پر ایک ٹوپی رکھ لی اورمیڈیاکے اداروں نے اس کو معتبر بنا دیا۔ ارباب اختیار کو بتانا چاہیے کہ یہ سسٹم کیسے بنا۔ میڈیا لاجک بہت سے علاقائی چینلز کو نظر اندازکرتا ہے یہ بھی سنا گیا ہے کہ میڈیا لاجک اچھی ریٹنگ کے لیے رشوت مانگتا ہے میڈیا لاجک تو اصل میں میڈیا ان لاجک ہے۔
سابق آئی جی شوکت جاوید نے کہا کہ ایف آئی آر اور کسی وارنٹ کے بغیر کسی ثبوت کے بغیر کسی کے گھر میں جانا غیرقانونی حرکت ہے۔ جو کچھ ایکسپریس پر بتایا گیا ہے اگرویسا ہی ہوا ہے تو یہ غیرقانونی کام ہے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ہونی چاہے اورقانونی کارروائی بھی ہونی چاہئے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پس پردہ ہاتھ کون سا ہے جس نے یہ سب کچھ کیا کسی ادارے کی ریٹنگ کم یا زیادہ سے حکومت کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ پی یو ایف جے کے صدر رانا عظیم نے کہا کہ ہم نے ایکسپریس نیوزکے ایشو پر حکومتی بے حسی کیخلاف احتجاج کیا ہے۔
حکمران اور وہ تمام قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ہم کسی بھی میڈیا ہاؤس کو بندکروالیں گے تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایکسپریس نیوز میںہزاروں کارکن کام کرتے ہیں اگر اس کو بند کرانیکی کوئی سازش کی گئی تو صحافی برادری انکے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اس معاملے کی تحقیقات وہ لوگ کریں جو خود نیوٹرل ہوں، اگرکسی نے جرم کیا ہے اس کو سزاملنی چاہیے۔ آئی جی پنجاب سے انصاف کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ پاکستان علما کونسل کے رہنما مولانا طاہر اشرفی نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''میں اور مولانا'' میں میزبان ذیشان ملک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے وزرا کا کوئی حال نہیں، ایکسپریس کی ریٹنگ کے ایشو کی طرف ہی دیکھ لیں ابھی تک کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا لاہور پولیس نے شائستہ اور اس کے بھائیوں کو اٹھایا تھا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اٹھایا آپ ہر چھوٹے چھوٹے معاملے میں جے آئی ٹی بناتے ہیں تواس معاملے میں بھی بنا دیں۔ میرا خیال ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور یہ کالا پولیس میں نہیں ہے کیونکہ پولیس کو تو استعمال کیا گیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی پرانی بات پر اب ردعمل ظاہر کیا جارہا ہو۔ یہ اختیار کسی نے بھی پولیس کو نہیں دیا کہ وہ کسی کے گھر میں لیڈی پولیس کے بغیر داخل ہو کسی کو اٹھا کر لاہور لے آئے۔ میں نہیں کہتا کہ ایکسپریس بے گناہ ہے چلیں ہم نے کوئی جرم کیا ہمارا فیصلہ پی بی اے کریگا لیکن جوجرم انھوں نے کیا ہے اس کی سزا کیسے اورکس کو ملے گی۔ حکومت ہرمعاملے میں فیصلہ کرنے میں دیر کرتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
کیا شائستہ اوران کی والدہ کے آنسوؤں پر کسی کو ترس نہیں آتا۔ انھوں نے جس انداز میں چھاپہ مارا یہ اختیار پولیس کوکس نے دیا ہے بس اس کا جواب ہمیں دے دیں۔ جوکمپنی اتنی غیرمحفوظ ہے جس کو کوئی بھی پیسے دے کر اپنی ریٹنگ لے لے توکیا اس کمپنی کو رہنا چاہیے۔
کس بنیاد پر سوگھر منتخب کیے ہیں میرے لیے بہت حیران کن ہے کہ تین ہزار روپے دے کر کوئی بھی چینل لگا لے اسطرح کوئی اورآئے گا وہ پانچ ہزار دے دے گا۔ روٹین میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایکسپریس کی ریٹنگ زیرو نہیں تھی اورکسی چینل کی ریٹنگ بھی ایک جیسی رہ نہیں سکتی یہ معاملہ بیٹھ کر بات کرنے والا تھا لیکن جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ درست نہیں۔ اس واقعہ سے کم ازکم یہ پتہ چل گیا ہے کہ ریٹنگ سسٹم میں کتنی خامیاں ہیں، اس شخص کو تلاش کیا جانا چاہئے جس نے پولیس کو استعمال کیا ہے۔