ایم کیو ایم اور کراچی کی صورتحال
ایم کیوایم کے دو کارکن مرزا ذیشان بیگ اور سید تنویر احمد 8 ماہ سے لاپتہ تھے۔
tauceeph@gmail.com
ایم کیوایم کے دو کارکن مرزا ذیشان بیگ اور سید تنویر احمد 8 ماہ سے لاپتہ تھے۔ رینجرز کے وکیل نے اب سندھ ہائی کورٹ میں بتایا ہے کہ ان کارکنوں کو 90 دن کے لیے نظر بند کر دیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان کے بہت سے کارکن لاپتہ ہیں۔ وزیر اعظم کراچی آپریشن کی نگرانی کے لیے غیرجانبدار افراد پر مشتمل کمیٹی کے قیام، ایم کیو ایم کے قائد کی ٹی وی چینلز پر لاء یو تقریر پر پابندی کے خاتمے کے مطالبے کو منوانے کے لیے ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلیوں سے مستعفی ہونا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان مصالحت کی کوشش کی مگر وہ مایوس ہو گئے ۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ہیں، اس صورتحال کا پس منظر یوں بیان کرتے ہیں کہ تمام معاملات طے ہو چکے تھے۔ ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم اچانک کراچی چلی گئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لندن میں وزیر داخلہ چوہدری نثار خان کی برطانوی ہم منصب سے ملاقات اسلام آباد میں نظر بند محسن نامی ملزم کو برطانوی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش کرنے کے بعد مذاکرات معطل کرنے کا اقدام کیا گیا ہے۔ کراچی آپریشن کے بارے میں مختلف نوعیت کے رائے پائی جاتی ہے۔
شہر میں امن و امان کی صورتحال بظاہر بہتر ہوئی ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بازاروں میں ریکارڈ خریداری ہوئی۔ لوگوں نے کئی ارب روپے خرچ کیے۔ ایسی گہما گہمی برسوں بعد نظر آئی۔ پھر 14 اگست کا جشن شہر کی ہر سڑک پر منایا گیا۔ 13 اور 14 اگست کی رات کو شہر میں ایسے ٹریفک جام رہا جیسے رمضان، عید کے تہواروں پر ہوتا ہے۔ شہر میں بینک لوٹنے، اغواء برائے تاوان اور بھتے کی وارداتوں میں کمی ہوئی۔ اسی طرح مختلف نوعیت کی ٹارگٹ کلنگ کی شرح کم ہوئی۔ اسی دوران لیاری میں نمایاں تبدیلی نظر آئی۔
گینگ وار میں ملوث گروہوں کے بہت سے کارکن پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔ لیاری کے بازاروں اور سڑکوں پر رونق بحال ہوئی۔ صورتحال اس حد تک بہتر ہوئی کہ معروف صحافی و دانشور نادر شاہ عادل اپنے گھر منتقل ہو گئے۔ انھیں گینگ وار میں ملوث ایک گروہ کے گھر پر حملے اور بچوں پر قاتلانہ حملے کے بعد اپنا آبائی علاقہ چھوڑنا پڑا تھا مگر ابھی سب ٹھیک نہیں ہوا۔ مذہبی انتہا پسندوں کے نئے گروہ ابھر کر سامنے آئے۔
ان گروہوں نے اسماعیلیوں کی بس کو نشانہ بنایا، کراچی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر وحید الرحمن، سماجی کارکن سبین محمود نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ رشید گوڈیل قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ وہ صحت یابی کی منزل کے نزدیک ہیں مگر سیکیورٹی خدشات کی بناء پر اسپتال سے گھر منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ایک وکیل بھی قتل ہوئے۔ نامعلوم افراد نے ٹریفک کے سپاہیوں کو نشانہ بنایا، اب ٹریفک والے کلاشنکوف اور بندوقوں سے مسلح اور بلٹ پروف جیکٹ میں ملبوس نظر آتے ہیں۔
رینجرز کے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر 90 پر چھاپے کے بعد ایم کیو ایم کی سرگرمیاں معطل ہیں۔ اس آپریشن کی بناء پر ایم کیو ایم کی سماجی خدمت کی تنظیم رمضان کے مہینے میں فطرہ اور زکوٰۃ کی رقوم وصول نہیں کر سکی اور اب یہ صورتحال برقرار رہی تو قربانی کی کھالیں بھی ایم کیو ایم کو نہیں ملیں گی اور اس کا مالیاتی خسارہ بڑھ جائے گا۔ کراچی آپریشن کا تجزیہ کیا جائے تو مثبت منفی دونوں قسم کی صورتحال واضح ہوتی ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں غیر سرکاری تنظیم NGO ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ ماورا ئے عدالت ہلاکتوں کی روک تھام ضروری ہے۔ اس طرح لاپتہ افراد کا معاملہ بھی اس آپریشن کے منفی تصور کو ظاہر کرتا ہے۔ کراچی کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی رائے ہے کہ بعض معاملات میں قانونی انوسٹی گیشن کے بجائے میڈیا ٹرائل پر زیادہ توجہ دی گئی۔
اس بناء پر جب عدالتوں میں معاملات گئے تو جمع کی جانے والی دستاویزات میں ان الزامات کا ذکر نہیں تھا جو میڈیا پر عائد کیے گئے تھے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو متعلقہ افراد کو رہا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کا شکار ہونے والے افراد کے پاس اپنی کردار کشی کی دادرسی کے لیے کوئی فورم موجود نہیں ہے، ایسے افراد کو مظلوم بننے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کا موقع ملا۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم نگراں کمیٹی کے قیام پر زور دے رہی ہے۔
مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان اور مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی مالیاتی پائپ لائن میں ایک بڑا حصہ زکوٰۃ، فطرے اور قربانی کی کھالوں سے آنے والی آمدنی کا ہوتا ہے۔ انھیں بھی چندہ اور کھالیں اکٹھی کرنے سے سختی سے روکنا چاہیے۔
اکتوبر، نومبر میں بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں۔ ایم کیو ایم اردو بولنے والی برادری کی اکثریت کی نمایندگی کرتی ہے۔ چند ماہ قبل عزیز آباد میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں یہ صورتحال واضح ہو چکی ہے۔ اگر ایم کیو ایم ان انتخابات میں متحرک نہ ہوئی تو پھر یہ خلا کون پُر کرے گا۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔
سیاسی جماعتوں کے ارتقا پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے دانشوروں کو اب حقائق کو پہچان لینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل خرابی ایم کیو ایم کے اپنے اندر موجود ہے۔ ایم کیو ایم اب ایک کھلی تنظیم Open Party نہیں ہے۔ اس کا ایک بند ڈھانچہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم میں فیصلے کس سطح پر ہوتے ہیں یہ واضح نہیں۔
کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ لندن میں موجود رابطہ کمیٹی کے اراکین حتمی فیصلے کرتے ہیں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ سیکٹر انچارج فیصلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران رابطہ کمیٹی توڑنے، رہنماؤں کو اس کمیٹی میں شامل کرنے اور نکالنے کے فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم تنظیمی بحران کا شکار ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما کئی بار یہ بات دہرا چکے ہیں کہ ان کا عسکری ونگ نہیں۔ ایم کیو ایم کے پہلے چیئرمین عظم طارق سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق سمیت کئی افراد کے قتل کے اشارے ادھر بھی جاتے ہیں۔ ایک قانونی ماہر کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایم کیو ایم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے۔
ایم کیو ایم سندھ کی ایک اسٹیک ہولڈر ہے۔ ایم کیو ایم کی پارلیمنٹ، سندھ اسمبلی میں نمایندگی ضروری ہے۔ حکومت کو نگراں کمیٹی کے قیام کا معاملہ حل کرنا چاہیے۔ ایم کیو ایم کو ایک جدید سیاسی جماعت کے طور پر سیاسی نظام کو مستحکم کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان کے بہت سے کارکن لاپتہ ہیں۔ وزیر اعظم کراچی آپریشن کی نگرانی کے لیے غیرجانبدار افراد پر مشتمل کمیٹی کے قیام، ایم کیو ایم کے قائد کی ٹی وی چینلز پر لاء یو تقریر پر پابندی کے خاتمے کے مطالبے کو منوانے کے لیے ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلیوں سے مستعفی ہونا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان مصالحت کی کوشش کی مگر وہ مایوس ہو گئے ۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ہیں، اس صورتحال کا پس منظر یوں بیان کرتے ہیں کہ تمام معاملات طے ہو چکے تھے۔ ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم اچانک کراچی چلی گئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لندن میں وزیر داخلہ چوہدری نثار خان کی برطانوی ہم منصب سے ملاقات اسلام آباد میں نظر بند محسن نامی ملزم کو برطانوی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش کرنے کے بعد مذاکرات معطل کرنے کا اقدام کیا گیا ہے۔ کراچی آپریشن کے بارے میں مختلف نوعیت کے رائے پائی جاتی ہے۔
شہر میں امن و امان کی صورتحال بظاہر بہتر ہوئی ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بازاروں میں ریکارڈ خریداری ہوئی۔ لوگوں نے کئی ارب روپے خرچ کیے۔ ایسی گہما گہمی برسوں بعد نظر آئی۔ پھر 14 اگست کا جشن شہر کی ہر سڑک پر منایا گیا۔ 13 اور 14 اگست کی رات کو شہر میں ایسے ٹریفک جام رہا جیسے رمضان، عید کے تہواروں پر ہوتا ہے۔ شہر میں بینک لوٹنے، اغواء برائے تاوان اور بھتے کی وارداتوں میں کمی ہوئی۔ اسی طرح مختلف نوعیت کی ٹارگٹ کلنگ کی شرح کم ہوئی۔ اسی دوران لیاری میں نمایاں تبدیلی نظر آئی۔
گینگ وار میں ملوث گروہوں کے بہت سے کارکن پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔ لیاری کے بازاروں اور سڑکوں پر رونق بحال ہوئی۔ صورتحال اس حد تک بہتر ہوئی کہ معروف صحافی و دانشور نادر شاہ عادل اپنے گھر منتقل ہو گئے۔ انھیں گینگ وار میں ملوث ایک گروہ کے گھر پر حملے اور بچوں پر قاتلانہ حملے کے بعد اپنا آبائی علاقہ چھوڑنا پڑا تھا مگر ابھی سب ٹھیک نہیں ہوا۔ مذہبی انتہا پسندوں کے نئے گروہ ابھر کر سامنے آئے۔
ان گروہوں نے اسماعیلیوں کی بس کو نشانہ بنایا، کراچی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر وحید الرحمن، سماجی کارکن سبین محمود نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ رشید گوڈیل قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ وہ صحت یابی کی منزل کے نزدیک ہیں مگر سیکیورٹی خدشات کی بناء پر اسپتال سے گھر منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ایک وکیل بھی قتل ہوئے۔ نامعلوم افراد نے ٹریفک کے سپاہیوں کو نشانہ بنایا، اب ٹریفک والے کلاشنکوف اور بندوقوں سے مسلح اور بلٹ پروف جیکٹ میں ملبوس نظر آتے ہیں۔
رینجرز کے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر 90 پر چھاپے کے بعد ایم کیو ایم کی سرگرمیاں معطل ہیں۔ اس آپریشن کی بناء پر ایم کیو ایم کی سماجی خدمت کی تنظیم رمضان کے مہینے میں فطرہ اور زکوٰۃ کی رقوم وصول نہیں کر سکی اور اب یہ صورتحال برقرار رہی تو قربانی کی کھالیں بھی ایم کیو ایم کو نہیں ملیں گی اور اس کا مالیاتی خسارہ بڑھ جائے گا۔ کراچی آپریشن کا تجزیہ کیا جائے تو مثبت منفی دونوں قسم کی صورتحال واضح ہوتی ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں غیر سرکاری تنظیم NGO ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ ماورا ئے عدالت ہلاکتوں کی روک تھام ضروری ہے۔ اس طرح لاپتہ افراد کا معاملہ بھی اس آپریشن کے منفی تصور کو ظاہر کرتا ہے۔ کراچی کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی رائے ہے کہ بعض معاملات میں قانونی انوسٹی گیشن کے بجائے میڈیا ٹرائل پر زیادہ توجہ دی گئی۔
اس بناء پر جب عدالتوں میں معاملات گئے تو جمع کی جانے والی دستاویزات میں ان الزامات کا ذکر نہیں تھا جو میڈیا پر عائد کیے گئے تھے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو متعلقہ افراد کو رہا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کا شکار ہونے والے افراد کے پاس اپنی کردار کشی کی دادرسی کے لیے کوئی فورم موجود نہیں ہے، ایسے افراد کو مظلوم بننے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کا موقع ملا۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم نگراں کمیٹی کے قیام پر زور دے رہی ہے۔
مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان اور مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی مالیاتی پائپ لائن میں ایک بڑا حصہ زکوٰۃ، فطرے اور قربانی کی کھالوں سے آنے والی آمدنی کا ہوتا ہے۔ انھیں بھی چندہ اور کھالیں اکٹھی کرنے سے سختی سے روکنا چاہیے۔
اکتوبر، نومبر میں بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں۔ ایم کیو ایم اردو بولنے والی برادری کی اکثریت کی نمایندگی کرتی ہے۔ چند ماہ قبل عزیز آباد میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں یہ صورتحال واضح ہو چکی ہے۔ اگر ایم کیو ایم ان انتخابات میں متحرک نہ ہوئی تو پھر یہ خلا کون پُر کرے گا۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔
سیاسی جماعتوں کے ارتقا پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے دانشوروں کو اب حقائق کو پہچان لینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل خرابی ایم کیو ایم کے اپنے اندر موجود ہے۔ ایم کیو ایم اب ایک کھلی تنظیم Open Party نہیں ہے۔ اس کا ایک بند ڈھانچہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم میں فیصلے کس سطح پر ہوتے ہیں یہ واضح نہیں۔
کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ لندن میں موجود رابطہ کمیٹی کے اراکین حتمی فیصلے کرتے ہیں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ سیکٹر انچارج فیصلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران رابطہ کمیٹی توڑنے، رہنماؤں کو اس کمیٹی میں شامل کرنے اور نکالنے کے فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم تنظیمی بحران کا شکار ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما کئی بار یہ بات دہرا چکے ہیں کہ ان کا عسکری ونگ نہیں۔ ایم کیو ایم کے پہلے چیئرمین عظم طارق سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق سمیت کئی افراد کے قتل کے اشارے ادھر بھی جاتے ہیں۔ ایک قانونی ماہر کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایم کیو ایم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے۔
ایم کیو ایم سندھ کی ایک اسٹیک ہولڈر ہے۔ ایم کیو ایم کی پارلیمنٹ، سندھ اسمبلی میں نمایندگی ضروری ہے۔ حکومت کو نگراں کمیٹی کے قیام کا معاملہ حل کرنا چاہیے۔ ایم کیو ایم کو ایک جدید سیاسی جماعت کے طور پر سیاسی نظام کو مستحکم کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔