عدالتی نظام سستا انصاف نہیں دے سکا
کہا جاتا ہے کہ کسی ملک اور معاشرے کی بہتر یا بدتر صورت حال کا اندازہ کرنا ہو تو یہ دیکھا جائے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
کہا جاتا ہے کہ کسی ملک اور معاشرے کی بہتر یا بدتر صورت حال کا اندازہ کرنا ہو تو یہ دیکھا جائے کہ اس ملک اس معاشرے میں انصاف کی صورت حال کیا ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم پاکستان کا جائزہ لیں تو ہمارے ملک کی بدتر صورت حال کا اندازہ ہمارے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس جسٹس جواد ایس خواجہ کے اعتراف سے سامنے آ جاتا ہے جس میں محترم چیف جسٹس صاحب نے فرمایا ہے کہ ''ہمارا عدالتی نظام عوام کو سستا انصاف نہیں دے سکا۔ تمام ریاستی ادارے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں۔'' چیف جسٹس صاحب نے اپنے اعزاز میں دیے گئے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کا وعدہ ہمارا آئین عوام سے کرتا ہے، ہم اس وعدے کو نبھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ جسٹس صاحب نے فرمایا کہ عدلیہ پولیس اور وکلا کے علاوہ دیگر سرکاری و نیم سرکاری ادارے عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، نظام میں بہتری نہیں آ رہی ہے بلکہ بتدریج انحطاط ہو رہا ہے، جس کا اعتراف تمام ریاستی اداروں کو کرنا چاہیے۔
محترم چیف جسٹس نے فرمایا کہ جب جج حلف اٹھاتے ہیں تو یہ قسم بھی کھاتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں میں کسی خارجی محرک، لالچ یا خوف کو اثرانداز نہیں ہونے دیں گے لیکن بصد احترام عرض ہے کہ بعض اوقات انھوں نے عدل کے ایوانوں میں خوف کے کئی بہروپ دیکھے ہیں، اس کا سبب کہیں دھونس اور دباؤ تو کہیں پیسے والوں یا اثر و رسوخ والوں کی ناراضی رہا ہے۔ ایوان عدل کی رونق بے خوف چہروں سے ہوتی ہے۔ انھوں نے عدالتی نظام کی ناکامی میں وکلا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کی ایک تعداد اپنی حیثیت کو نظام کی بہتری اور انصاف کی جلد اور سستی ترسیل کے لیے استعمال نہیں کر رہی ہے، عوام چند سال میں وکلا کے خلاف 7500 شکایتیں کر چکے ہیں لیکن بار کونسلوں نے تحقیق کی، نہ ہی کسی کو سزاوار ٹھہرایا، ایک دعوے کے عدالت میں دائر ہونے سے لے کر سپریم کورٹ میں اس کا فیصلہ ہونے تک اوسطاً 25 سال لگ جاتے ہیں، بہت سے دعوے تو 3-3 پشتوں تک کھنچ جاتے ہیں۔ نظام عدل کے حوالے سے دنیا کے کئی ملکوں میں جو تحقیقاتی نظام رائج ہے، ہمیں اس کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
سابق چیف جسٹس صاحب کے خطاب کا ہم نے ذرا تفصیل سے ذکر اس لیے کیا ہے کہ محترم چیف جسٹس صاحب نے بڑی اخلاقی جرأت کے ساتھ خود اپنے شعبے میں پائی جانے والی کوتاہیوں اور خرابیوں کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے آغاز میں کسی معاشرے کی بہتری اور بدتری جاننے کے لیے اس ملک میں انصاف کی صورت حال کا جائزہ لینے کی ضرورت کا ذکر کیا ہے، اس حوالے سے ہمارے معاشرے کی تصویر سابق چیف جسٹس صاحب کے خطاب سے دیکھی جا سکتی ہے۔ آج ہمارا پورا معاشرہ اعلیٰ سطح کرپشن سمیت جس طرح برائیوں، جرائم اور بدعنوانیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جس کا تفصیلی ذکر سابق چیف جسٹس صاحب نے اپنے خطاب میں کیا ہے۔
سابق چیف جسٹس صاحب نے انتہائی جرأت سے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہمارے جج صاحبان اپنے فیصلوں میں اس حلف کی کہ، وہ کسی خارجی محرک خوف اور لالچ کو اثرانداز نہیں ہونے دیں گے، بدقسمتی سے اس حلف کی پاسداری نہیں کی جا رہی ہے۔ اور دیگر ریاستی اداروں کا بھی یہی حال ہے۔ اس حوالے سے اس بدنما حقیقت کی نشان دہی ضروری ہے کہ ہم جس سرمایہ دارانہ نظام میں سانس لے رہے ہیں وہ کرپشن اور بدعنوانیوں سے شروع ہوتا ہے اور کرپشن اور بدعنوانیوں پر ہی ختم ہوتا ہے۔ جس نظام میں انسانوں کا پہلا اور آخری مقصد زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول اور وہ بھی ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہو، اس نظام کے حامل ملکوں کا وہی حال ہوتا ہے جو ہمارے ملک کا ہو رہا ہے۔
یہ کیسا المیہ ہے جس کا اعتراف ہمارے سابق چیف جسٹس صاحب نے کیا ہے کہ عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے لے کر سپریم کورٹ میں اس کا فیصلہ ہونے تک اوسطاً 25 سال لگ جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں 3-3 پشتوں تک یہ کیس چلتے رہتے ہیں۔ اگر انصاف کی فراہمی کا یہ عالم ہو تو مظلوموں کی دادرسی کا حال کیا ہو سکتا ہے اور بدقسمتی سے اس صورت حال کا سامنا ان طبقات ہی کو زیادہ کرنا ہوتا ہے جو دولت اور اثر و رسوخ سے محروم ہوتے ہیں۔ اہل ثروت اس نظام میں اپنا ہر کام دولت کے بل بوتے پر تیزی کے ساتھ کروا لیتے ہیں، یہی ہمارے انصاف کا دہرا معیار ہے۔سابق چیف جسٹس صاحب نے وکلا برادری سے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے، ہمارے معاشرے میں وکلا کا طبقہ ایک ایسا طبقہ ہے جس کا ہر فرد لازماً اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتا ہے، وکلا برادری میں جو کوتاہیاں نظر آتی ہیں اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جس کا ذکر ہم نے کیا ہے یعنی ہمارے نظام میں پائی جانے والی منی ریس، لیکن ایک بڑی خامی وکیل کے بڑے ہونے کا معیار ہے۔
ہمارے ملک میں وہی وکیل بڑا مانا جاتا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے جھوٹ کو سچ ثابت کر دے۔ اس معیار کی وجہ سے وکلا برادری ایک ایسے ٹریک پر آ جاتی ہے جس کا انصاف سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اس معیار کو بدلنے کی ضرورت ہے اور وکلا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جھوٹ کے مقابلے میں سچ کی برتری ثابت کرنے پر صرف ہونا چاہیے اگر یہ کلچر پروان چڑھتا ہے تو انصاف کے شعبے میں پائی جانے والی آدھی سے زیادہ خرابیاں از خود ختم ہو سکتی ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ عشروں پر محیط سچ پر جھوٹ کی برتری کے اس کلچر کو ختم کرنے کے لیے پہلا قدم کون اٹھائے گا؟
ہماری آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ دیہات میں رہتا ہے جہاں دو ایسی برائیاں مستحکم ہیں جو دیہی آبادی کو نسلوں تک عدالتوں کے چکر میں گھن چکر بنا کر رکھ دیتی ہیں، ایک یہ کہ دیہی معاشروں میں خاندانی دشمنیاں نسل درنسل تک چلتی رہتی ہیں جو عدالتوں میں بھی لڑی جاتی ہیں ان عشروں پر محیط لڑائیوں کا نتیجہ فریقین کی معاشی زندگی کو تباہ و برباد کر دیتا ہے جس سے ایسے المیے جنم لیتے ہیں جو کہانیوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں ہمارے فکشن کا ایک حصہ ایسے ہی المیوں پر مشتمل ہے۔ ہمارے دیہی علاقوں کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ ہماری وڈیرہ شاہی کسانوں ہاریوں کو غلام ہی دیکھنا چاہتی ہے اور غلام کے فرائض میں حکم عدولی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اگر سرپھرے لوگ وڈیروں کے حکم کی خلاف ورزی کی جرأت کرتے ہیں تو ان کو جھوٹے مقدموں کے جال میں اس طرح لپیٹا جاتا ہے کہ وہ پوری زندگی اس جال ہی میں گزار دیتے ہیں اس کی نجات کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔
محترم چیف جسٹس نے فرمایا کہ جب جج حلف اٹھاتے ہیں تو یہ قسم بھی کھاتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں میں کسی خارجی محرک، لالچ یا خوف کو اثرانداز نہیں ہونے دیں گے لیکن بصد احترام عرض ہے کہ بعض اوقات انھوں نے عدل کے ایوانوں میں خوف کے کئی بہروپ دیکھے ہیں، اس کا سبب کہیں دھونس اور دباؤ تو کہیں پیسے والوں یا اثر و رسوخ والوں کی ناراضی رہا ہے۔ ایوان عدل کی رونق بے خوف چہروں سے ہوتی ہے۔ انھوں نے عدالتی نظام کی ناکامی میں وکلا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کی ایک تعداد اپنی حیثیت کو نظام کی بہتری اور انصاف کی جلد اور سستی ترسیل کے لیے استعمال نہیں کر رہی ہے، عوام چند سال میں وکلا کے خلاف 7500 شکایتیں کر چکے ہیں لیکن بار کونسلوں نے تحقیق کی، نہ ہی کسی کو سزاوار ٹھہرایا، ایک دعوے کے عدالت میں دائر ہونے سے لے کر سپریم کورٹ میں اس کا فیصلہ ہونے تک اوسطاً 25 سال لگ جاتے ہیں، بہت سے دعوے تو 3-3 پشتوں تک کھنچ جاتے ہیں۔ نظام عدل کے حوالے سے دنیا کے کئی ملکوں میں جو تحقیقاتی نظام رائج ہے، ہمیں اس کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
سابق چیف جسٹس صاحب کے خطاب کا ہم نے ذرا تفصیل سے ذکر اس لیے کیا ہے کہ محترم چیف جسٹس صاحب نے بڑی اخلاقی جرأت کے ساتھ خود اپنے شعبے میں پائی جانے والی کوتاہیوں اور خرابیوں کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے آغاز میں کسی معاشرے کی بہتری اور بدتری جاننے کے لیے اس ملک میں انصاف کی صورت حال کا جائزہ لینے کی ضرورت کا ذکر کیا ہے، اس حوالے سے ہمارے معاشرے کی تصویر سابق چیف جسٹس صاحب کے خطاب سے دیکھی جا سکتی ہے۔ آج ہمارا پورا معاشرہ اعلیٰ سطح کرپشن سمیت جس طرح برائیوں، جرائم اور بدعنوانیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جس کا تفصیلی ذکر سابق چیف جسٹس صاحب نے اپنے خطاب میں کیا ہے۔
سابق چیف جسٹس صاحب نے انتہائی جرأت سے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہمارے جج صاحبان اپنے فیصلوں میں اس حلف کی کہ، وہ کسی خارجی محرک خوف اور لالچ کو اثرانداز نہیں ہونے دیں گے، بدقسمتی سے اس حلف کی پاسداری نہیں کی جا رہی ہے۔ اور دیگر ریاستی اداروں کا بھی یہی حال ہے۔ اس حوالے سے اس بدنما حقیقت کی نشان دہی ضروری ہے کہ ہم جس سرمایہ دارانہ نظام میں سانس لے رہے ہیں وہ کرپشن اور بدعنوانیوں سے شروع ہوتا ہے اور کرپشن اور بدعنوانیوں پر ہی ختم ہوتا ہے۔ جس نظام میں انسانوں کا پہلا اور آخری مقصد زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول اور وہ بھی ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہو، اس نظام کے حامل ملکوں کا وہی حال ہوتا ہے جو ہمارے ملک کا ہو رہا ہے۔
یہ کیسا المیہ ہے جس کا اعتراف ہمارے سابق چیف جسٹس صاحب نے کیا ہے کہ عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے لے کر سپریم کورٹ میں اس کا فیصلہ ہونے تک اوسطاً 25 سال لگ جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں 3-3 پشتوں تک یہ کیس چلتے رہتے ہیں۔ اگر انصاف کی فراہمی کا یہ عالم ہو تو مظلوموں کی دادرسی کا حال کیا ہو سکتا ہے اور بدقسمتی سے اس صورت حال کا سامنا ان طبقات ہی کو زیادہ کرنا ہوتا ہے جو دولت اور اثر و رسوخ سے محروم ہوتے ہیں۔ اہل ثروت اس نظام میں اپنا ہر کام دولت کے بل بوتے پر تیزی کے ساتھ کروا لیتے ہیں، یہی ہمارے انصاف کا دہرا معیار ہے۔سابق چیف جسٹس صاحب نے وکلا برادری سے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے، ہمارے معاشرے میں وکلا کا طبقہ ایک ایسا طبقہ ہے جس کا ہر فرد لازماً اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتا ہے، وکلا برادری میں جو کوتاہیاں نظر آتی ہیں اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جس کا ذکر ہم نے کیا ہے یعنی ہمارے نظام میں پائی جانے والی منی ریس، لیکن ایک بڑی خامی وکیل کے بڑے ہونے کا معیار ہے۔
ہمارے ملک میں وہی وکیل بڑا مانا جاتا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے جھوٹ کو سچ ثابت کر دے۔ اس معیار کی وجہ سے وکلا برادری ایک ایسے ٹریک پر آ جاتی ہے جس کا انصاف سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اس معیار کو بدلنے کی ضرورت ہے اور وکلا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جھوٹ کے مقابلے میں سچ کی برتری ثابت کرنے پر صرف ہونا چاہیے اگر یہ کلچر پروان چڑھتا ہے تو انصاف کے شعبے میں پائی جانے والی آدھی سے زیادہ خرابیاں از خود ختم ہو سکتی ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ عشروں پر محیط سچ پر جھوٹ کی برتری کے اس کلچر کو ختم کرنے کے لیے پہلا قدم کون اٹھائے گا؟
ہماری آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ دیہات میں رہتا ہے جہاں دو ایسی برائیاں مستحکم ہیں جو دیہی آبادی کو نسلوں تک عدالتوں کے چکر میں گھن چکر بنا کر رکھ دیتی ہیں، ایک یہ کہ دیہی معاشروں میں خاندانی دشمنیاں نسل درنسل تک چلتی رہتی ہیں جو عدالتوں میں بھی لڑی جاتی ہیں ان عشروں پر محیط لڑائیوں کا نتیجہ فریقین کی معاشی زندگی کو تباہ و برباد کر دیتا ہے جس سے ایسے المیے جنم لیتے ہیں جو کہانیوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں ہمارے فکشن کا ایک حصہ ایسے ہی المیوں پر مشتمل ہے۔ ہمارے دیہی علاقوں کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ ہماری وڈیرہ شاہی کسانوں ہاریوں کو غلام ہی دیکھنا چاہتی ہے اور غلام کے فرائض میں حکم عدولی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اگر سرپھرے لوگ وڈیروں کے حکم کی خلاف ورزی کی جرأت کرتے ہیں تو ان کو جھوٹے مقدموں کے جال میں اس طرح لپیٹا جاتا ہے کہ وہ پوری زندگی اس جال ہی میں گزار دیتے ہیں اس کی نجات کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔