مچل اسٹارک کا تیز باؤنسر ہیلمٹ پر لگنے پر ایون مورگن میدان بدر ہونے پر مجبور
ورگن کی ہیلمٹ پر باؤنسر پڑا تب خود آسٹریلوی کرکٹرز بھی گھبرا گئے
گیند لگنے کے بعد مورگن دوبارہ میدان میں نہیں اترے ان کی جگہ قیادت کے فرائض جیمز ٹیلر نے انجام دیے۔ فوٹو: فائل
انگلینڈ کے خلاف پانچویں اور آخری ون ڈے میں آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے اپنے خطرناک باؤنسر سے میزبان کپتان ایون مورگن کے حواس معطل کردیے۔
برطانوی شہر مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے میچ کے دوران کینگروز ٹیم کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی۔ طوفانی باؤنسر سے بچنے کیلیے مورگن نے مڑنا چاہا مگر ان کے ہیلمٹ پر اس زور سے ٹکرائی کہ وہ چکرا کر رہ گئے، انہوں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اس دوران ٹیم فزیو اور ڈاکٹر بھی وہاں پہنچ گئے، انہوں نے مورگن کی حالت کی جائزہ لیا اور پھر انہیں میدان چھوڑ کر ڈریسنگ روم واپس لوٹنے کا مشورہ دیا، انہوں نے تب تک 6 بالز پر صرف ایک ہی رن بنایا تھا، وہ دوبارہ میدان میں نہیں اترے ان کی جگہ قیادت کے فرائض جیمز ٹیلر نے انجام دیے۔
جس وقت مورگن کی ہیلمٹ پر باؤنسر پڑا تب خود آسٹریلوی کرکٹرز بھی گھبرا گئے تھے، کوچ ڈیرن لی مین باؤنڈری لائن کے نزدیک اسٹارک سے بات کرتے ہوئے دکھائی دیے جو اس وقت بھی سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ہی موجود تھے جب ایسے ہی ایک خطرناک باؤنسر نے ان کے ساتھی بیٹسمین فل ہیوز کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کردیا تھا۔
برطانوی شہر مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے میچ کے دوران کینگروز ٹیم کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی۔ طوفانی باؤنسر سے بچنے کیلیے مورگن نے مڑنا چاہا مگر ان کے ہیلمٹ پر اس زور سے ٹکرائی کہ وہ چکرا کر رہ گئے، انہوں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اس دوران ٹیم فزیو اور ڈاکٹر بھی وہاں پہنچ گئے، انہوں نے مورگن کی حالت کی جائزہ لیا اور پھر انہیں میدان چھوڑ کر ڈریسنگ روم واپس لوٹنے کا مشورہ دیا، انہوں نے تب تک 6 بالز پر صرف ایک ہی رن بنایا تھا، وہ دوبارہ میدان میں نہیں اترے ان کی جگہ قیادت کے فرائض جیمز ٹیلر نے انجام دیے۔
جس وقت مورگن کی ہیلمٹ پر باؤنسر پڑا تب خود آسٹریلوی کرکٹرز بھی گھبرا گئے تھے، کوچ ڈیرن لی مین باؤنڈری لائن کے نزدیک اسٹارک سے بات کرتے ہوئے دکھائی دیے جو اس وقت بھی سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ہی موجود تھے جب ایسے ہی ایک خطرناک باؤنسر نے ان کے ساتھی بیٹسمین فل ہیوز کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کردیا تھا۔