ملتان دھماکاسیکیورٹی سسٹم مربوط بنانے کی ضرورت
پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا ٹارگٹ کوئی اور جگہ تھی صرف سیکیورٹی کی وجہ سے وہ وہاں تک نہ پہنچ سکا۔
سیکیورٹی اداروں کو جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کو گرفت میں لانے کے لیے معمول سے ہٹ کر کارروائیاں کرنے کے علاوہ جاسوسی کا نیٹ ورک مزید موثر بنانا ہو گا۔ فوٹو : فائل
جنرل بس اسٹینڈ ملتان کے قریب گنجان چوراہے وہاڑی چوک پر دھماکے کے نتیجہ میں 10 افراد جاں بحق جب کہ خواتین اور بچوں سمیت 60 کے قریب زخمی ہوگئے، دھماکا اتنا خوفناک تھا کہ اس کی آواز 4کلومیٹر دور تک سنائی دی، قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد آگ کا ایک گولا آسمان کی طرف اٹھا اور آسمان تیز نیلا ہوگیا اور ہر طرف انسانی اعضا بکھر گئے جب کہ کچھ افراد کئی فٹ تک اچھلے ، قریب کھڑی اور گزرنے والی گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور قریبی ریڑھیاں بھی تباہ ہوگئیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، آصف علی زرداری، گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ملتان میں ہونے والا دھماکا ایک افسوسناک واقعہ ہے، ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکا کس نوعیت کا تھا اس کا پتہ تو فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی چلے گا۔ دھماکے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اخباری خبر کے مطابق ایک نا معلوم موٹر سائیکل سوار مظفر گڑھ روڈ پر مخالف سمت سے وہاڑی چوک آیا اور راستے میں گزرنے والے رکشہ سے ٹکرا گیا جس سے زور دار دھماکا ہوا۔ سیکیورٹی ذرایع کے مطابق خود کش حملہ آور بس سے اترا تھا اس کا ہدف کوئی اور تھا تاہم ہو سکتا ہے کہ خود کش جیکٹ میں خرابی کی وجہ سے دھماکا ہوا ہو۔ پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا ٹارگٹ کوئی اور جگہ تھی صرف سیکیورٹی کی وجہ سے وہ وہاں تک نہ پہنچ سکا۔
پولیس حکام کے مطابق ایک مشکوک شخص کی نعش قبضہ میں لی گئی ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ خود کش حملہ آور ہو سکتا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب ملک میں چاروں طرف دہشت گردوں کا خوف چھایا ہوا تھا اور بم دھماکے روزمرہ کا معمول بن چکے تھے، آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی آ گئی ، اب دہشت گردی کی کبھی کبھار رونما ہونے والی واردات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دہشت گرد شمالی وزیرستان سے بھاگ کر ملک کے مختلف حصوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار اب بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو انھیں مالی امداد، دہشت گردی میں استعمال ہونے والا تخریبی مواد اور مطلوبہ ٹارگٹ تک پہنچنے کے لیے تمام وسائل اور سہولتیں مہیا کر رہے ہیں۔ جب تک کسی گروہ کو طاقتور مافیا کی پشت پناہی حاصل نہ ہو وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سیکیورٹی اداروں نے بڑی تعداد میں کارروائیاں کر کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو پکڑا ہے مگر دہشت گردوں کا نیٹ ورک اس قدر مضبوط اور وسیع ہے کہ اسے ختم کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہے۔
دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی سے قبل حکومتی سطح پر یہ الرٹ تو جاری کر دیا جاتا ہے کہ دہشت گرد فلاں فلاں علاقے میں داخل ہو گئے ہیں لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ دہشت گرد پکڑے نہیں جاتے اور وہ باآسانی اپنا ٹارگٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ دہشت گردوں کو کسی کارروائی سے قبل ہی پکڑ لیا جائے تاکہ وہ ملک میں افراتفری نہ پھیلا سکیں کیونکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کا فرض اولین ہے۔ امریکا میں نائن الیون کے بعد نہ کوئی اس طرح کا بڑا واقعہ دوبارہ رونما ہوا ہے اور نہ دہشت گردی کی کوئی لہر چلی، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کے سیکیورٹی اداروں نے اس قدر منظم انداز میں کام کیا کہ دوبارہ ایسا کوئی واقعہ رونما ہو ہی نہیں سکا اور انھوں نے امریکا کی ایک پرامن اور محفوظ ملک کی حیثیت کو برقرار رکھا۔
مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوسکا، ایک کے بعد دوسرا بم دھماکا ہوتا رہا اور ہمارے سیکیورٹی ادارے انھیں روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اس سے عیاں ہوتا ہے کہ سیکیورٹی پالیسی میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی موجود ہے جسے دور کرنا اشد ضروری ہے۔ ملتان میں ہونے والے دھماکے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد اپنے مطلوبہ ٹارگٹ پر پہنچنے سے قبل ہی راستے میں ہلاک ہو گیا، اس کا ٹارگٹ کیا تھا یہ تو معلوم نہیں ہو سکا اگر اس نے کسی اہم ادارے کو نشانہ بنانا تھا اور وہ اس میں خدانخواستہ کامیاب ہو جاتا تو بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی کیونکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں پانچ کلو سے زیادہ بارود استعمال کیا گیا۔
سیکیورٹی اداروں کو جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کو گرفت میں لانے کے لیے معمول سے ہٹ کر کارروائیاں کرنے کے علاوہ جاسوسی کا نیٹ ورک مزید موثر بنانا ہو گا۔ دہشت گرد پوری قوم اور ملک کے دشمن ہیں انھیں کسی طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔
ملتان میں ہونے والا دھماکا ایک افسوسناک واقعہ ہے، ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکا کس نوعیت کا تھا اس کا پتہ تو فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی چلے گا۔ دھماکے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اخباری خبر کے مطابق ایک نا معلوم موٹر سائیکل سوار مظفر گڑھ روڈ پر مخالف سمت سے وہاڑی چوک آیا اور راستے میں گزرنے والے رکشہ سے ٹکرا گیا جس سے زور دار دھماکا ہوا۔ سیکیورٹی ذرایع کے مطابق خود کش حملہ آور بس سے اترا تھا اس کا ہدف کوئی اور تھا تاہم ہو سکتا ہے کہ خود کش جیکٹ میں خرابی کی وجہ سے دھماکا ہوا ہو۔ پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا ٹارگٹ کوئی اور جگہ تھی صرف سیکیورٹی کی وجہ سے وہ وہاں تک نہ پہنچ سکا۔
پولیس حکام کے مطابق ایک مشکوک شخص کی نعش قبضہ میں لی گئی ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ خود کش حملہ آور ہو سکتا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب ملک میں چاروں طرف دہشت گردوں کا خوف چھایا ہوا تھا اور بم دھماکے روزمرہ کا معمول بن چکے تھے، آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی آ گئی ، اب دہشت گردی کی کبھی کبھار رونما ہونے والی واردات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دہشت گرد شمالی وزیرستان سے بھاگ کر ملک کے مختلف حصوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار اب بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو انھیں مالی امداد، دہشت گردی میں استعمال ہونے والا تخریبی مواد اور مطلوبہ ٹارگٹ تک پہنچنے کے لیے تمام وسائل اور سہولتیں مہیا کر رہے ہیں۔ جب تک کسی گروہ کو طاقتور مافیا کی پشت پناہی حاصل نہ ہو وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سیکیورٹی اداروں نے بڑی تعداد میں کارروائیاں کر کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو پکڑا ہے مگر دہشت گردوں کا نیٹ ورک اس قدر مضبوط اور وسیع ہے کہ اسے ختم کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہے۔
دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی سے قبل حکومتی سطح پر یہ الرٹ تو جاری کر دیا جاتا ہے کہ دہشت گرد فلاں فلاں علاقے میں داخل ہو گئے ہیں لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ دہشت گرد پکڑے نہیں جاتے اور وہ باآسانی اپنا ٹارگٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ دہشت گردوں کو کسی کارروائی سے قبل ہی پکڑ لیا جائے تاکہ وہ ملک میں افراتفری نہ پھیلا سکیں کیونکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کا فرض اولین ہے۔ امریکا میں نائن الیون کے بعد نہ کوئی اس طرح کا بڑا واقعہ دوبارہ رونما ہوا ہے اور نہ دہشت گردی کی کوئی لہر چلی، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کے سیکیورٹی اداروں نے اس قدر منظم انداز میں کام کیا کہ دوبارہ ایسا کوئی واقعہ رونما ہو ہی نہیں سکا اور انھوں نے امریکا کی ایک پرامن اور محفوظ ملک کی حیثیت کو برقرار رکھا۔
مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوسکا، ایک کے بعد دوسرا بم دھماکا ہوتا رہا اور ہمارے سیکیورٹی ادارے انھیں روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اس سے عیاں ہوتا ہے کہ سیکیورٹی پالیسی میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی موجود ہے جسے دور کرنا اشد ضروری ہے۔ ملتان میں ہونے والے دھماکے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد اپنے مطلوبہ ٹارگٹ پر پہنچنے سے قبل ہی راستے میں ہلاک ہو گیا، اس کا ٹارگٹ کیا تھا یہ تو معلوم نہیں ہو سکا اگر اس نے کسی اہم ادارے کو نشانہ بنانا تھا اور وہ اس میں خدانخواستہ کامیاب ہو جاتا تو بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی کیونکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں پانچ کلو سے زیادہ بارود استعمال کیا گیا۔
سیکیورٹی اداروں کو جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کو گرفت میں لانے کے لیے معمول سے ہٹ کر کارروائیاں کرنے کے علاوہ جاسوسی کا نیٹ ورک مزید موثر بنانا ہو گا۔ دہشت گرد پوری قوم اور ملک کے دشمن ہیں انھیں کسی طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔