مشترکہ مفادات کونسل منتظر ہے

ملکی صورتحال کا تقاضا ہے کہ اہل سیاست مفاہمت، خیرسگالی، کثیر جہتی قومی یکجہتی اور تحمل کے ساتھ معاملات کو لے کے چلیں۔

ایک بنیادی حقیقت ہمارے سیاست دانوں کو ہمیشہ نظر رکھنی چاہیے کہ جب آئینی فورم موجود ہوں تو میڈیا میں تنقید برائے تنقید سے حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہیے۔ فوٹو : آن لائن

سندھ کے وزیر خزانہ و توانائی سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ توانائی کے منصوبوں اور گیس کے استعمال کے حوالے سے وفاقی حکومت کے اقدامات آئین کی سنگین خلاف ورزی ہیں، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب نہ کرنے اور اہم فیصلے دیگر فورمز کے ذریعے کرنے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف آئین توڑنے کے جرم کے تحت کارروائی ہونی چاہیے ۔

انھوں نے صوبائی وزرا نثارکھوڑو اور سکندر میندھرو کے ساتھ پریس کانفرنس میں دیگر صوبائی ایشوز اور حکومت کی وعدہ خلافی اور کرپشن کا ذکر کیا، جب کہ اصولی اور جمہوری اسپرٹ کے ساتھ دیکھا جائے تو ان معاملات کو مشترکہ مفادات کونسل ہی میں اٹھایا جانا چاہیے جو آئینی فورم ہے اور وفاق و صوبوں کے مابین مختلف قانونی ، انتظامی اور اقتصادی امور پر عدم اتفاق پیدا ہو تو کونسل مین اس پر افہام وتفہیم سے فیصلہ کیا جائے، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئین کے تحت ضرور بلانا چاہیے۔


وفاقی حکومت پابند ہے اور جن امور پر صوبہ سندھ کے مسائل اور پیدا شدہ صورتحال پر وزیرخزانہ اور دیگر وزرا نے اظہار خیال کیا ہے بہتر ہے کہ کسی قسم کی رنجش یا تلخی پیدا کیے بغیر تصفیہ طلب امور پر مشترکہ مفادات کونسل کے فورم ہی کو استعمال کیا جائے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ سابق صدر آصف زرداری ہی نے کونسل کی تنظیم کی تھی اور ایک طویل عرصہ کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کو فعال کیا گیا تھا، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کشیدگی اور تلخی اور الزامات کے پنگ پانگ کھیل کے بجائے جمہوری اور پارلیمانی روایات و جمہوری جذبہ کے ساتھ اسی آئینی فورم کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

جس سے نہ صرف جمہوریت اور جمہوری اداروں نیز وفاق اور صوبوں کے مابین مصالحت، افہام و تفہیم ، خیز اندیشی بلکہ اشترک عمل اور صحت مند تعلقات کار کی روایت ڈالی جاسکے گی۔ اس ضمن میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بہت صائب بات کی ہے کہ ہم عوامی ایشوز سے متعلق پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آواز اٹھاتے ہیں یہ جارحانہ سیاست نہیں بلکہ ہم اپوزیشن ہیں اور یہ اپوزیشن کی سیاست ہے۔ ہم 80 اور 90 کی دہائی کی سیاست نہیں کرنا چاہتے اور کبھی نہیں چاہیں گے کہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو نقصان پہنچے۔ یہی انداز نظر وفاق اور صوبوں کے درمیان خیرسگالی کو مزید فروغ دے گا ، نیز سیاسی عدم مرکزیت، صوبائی خود مختاری، 18 ویں ترمیم کے تحت حاصل ہونے والے وافر حقوق اور صوبائی اختیارات کے ثمرات سے عوام فیضیاب ہوں گے۔

ایک بنیادی حقیقت ہمارے سیاست دانوں کو ہمیشہ نظر رکھنی چاہیے کہ جب آئینی فورم موجود ہوں تو میڈیا میں تنقید برائے تنقید سے حتیٰ الامکان گریز کرنا چاہیے۔ ملکی صورتحال کا تقاضا ہے کہ اہل سیاست مفاہمت، خیرسگالی، کثیر جہتی قومی یکجہتی اور تحمل کے ساتھ معاملات کو لے کے چلیں۔ اسی میں سب کا بھلا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کا در بند نہیں ہوا کہ اسے کوئی کھول نہ سکے۔ بسم اللہ کیجیے۔
Load Next Story