وزیراعظم کا کسان پیکیج
زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘ بدقسمتی سے اس شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے
کسانوں کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ دینے کا کوئی میکنزم بنایا جانا چاہیے۔ 5سے 12 ایکڑ تک کے کسان کے لیے بجلی مفت ہونی چاہیے. فوٹو: فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں کسانوں کے لیے ریلیف پیکیج کے اعلان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 341 ارب روپے کے کسان پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے چھوٹے کسانوں کے لیے سو ارب روپے کے اضافی قرضے کا اعلان کر دیا ، سولر ٹیوب ویل لگانے کے لیے چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے دیے جائیں گے ۔ انھوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو امدادی رقوم دینے پر 20 ارب روپے خرچ ہوں گے۔
زرعی قرضوں کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ مارک اپ کی سطح تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مارک اپ میں 2 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کسانوں کو قرض فراہم کرنے کے لیے ون ونڈو آپریشن کے آغاز کی نوید بھی سنا دی۔ وزیراعظم نے چاول کی خریداری کے لیے لیے گئے قرضے کی مدت بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔
زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے' بدقسمتی سے اس شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہمارا کسان جو کبھی خوشحال ہوا کرتا تھا' اب حکومت کی ناقص زرعی پالیسیوں کے باعث غربت کا شکار ہے' اس خطے کے دیہات خوشحالی کی علامت ہوا کرتے تھے' کسی کو غربت اور بے روز گاری کا احساس نہیں تھا' دیہات کے نوجوان اپنی طاقت اور تندرستی کے لیے مشہور تھے لیکن آج ہمارے دیہات غربت اور مفلسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور دیہاتی نوجوان غربت سے تنگ آ کر کراچی' لاہور اور اسلام آباد میں یومیہ اجرت پر مزدوری کر رہے ہیں' یہ سب کیسے اور کیوں ہوا۔
ارباب اختیار اس سے بخوبی آگاہ ہیں اور اگر حکمران طبقات چاہتے تو صورت حال کو بدلا جا سکتا تھا لیکن کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ چھوٹا کسان سب سے زیادہ مسائل کا شکارہے کیونکہ اس کے زرعی مداخل اتنے زیادہ ہیں کہ اس کی فی ایکڑ لاگت پیداوار کی قیمت سے بڑھ جاتی ہے۔
پھر جب وہ زرعی اجناس شہروں میں فروخت کے لیے لاتا ہے تو سرکاری اہلکار اور آڑھتی اسے لوٹ لیتے ہیں۔وزیراعظم نے دیر سے سہی لیکن مثبت سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ ہمارے منصوبہ سازوں کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ پاکستان سے غربت کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک زرعی شعبے کو ترقی یافتہ نہیں بنایا جا سکتا۔زرعی شعبہ اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا جب تک چھوٹے کسان کو خوشحال نہیں بنایا جا سکتا۔ چھوٹا کسان اس وقت تک خوشحال نہیں ہو سکتا جب تک اسے سستی بجلی 'مفت پانی'مفت بیج 'سستی کھاد اور زرعی ادویات نہیں ملتیں۔
اس کے ساتھ ساتھ کسان کو سرکاری اہلکاروں کے ظلم و ستم سے محفوظ نہیں بنایا جاتا اور اسے منڈی کے آڑھتی کی لوٹ مار سے بچانے کا بندوبست نہیں کیا جاتا ۔اس وقت پاکستان میں اگر کوئی سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے تو وہ چھوٹا کسان ہے۔ بڑے زمیندار اپنے سیاسی اثرورسوخ کی بنا پر ہر قسم کی مراعات حاصل کر لیتے ہیں۔
بڑے زمیندار گھرانے اسمبلیوں میں بھی ہیں اوران کے بچے اعلیٰ ملازمتوں پر بھی فائز ہیں اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے فیکٹریاں بھی لگا رکھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی شعبے سے منسلک ہونے کے باوجود جاگیردار طبقے نے زراعت کی ترقی کے لیے کبھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ویسے بھی جاگیردار اور بڑا زمیندار خود کاشتکار نہیں ہے۔ اس نے اپنی زمینیں ٹھیکے پر دے رکھی ہیں یا وہ زرعی مزدوروں سے کاشتکاری کا کام لے رہا ہے۔ وہ زرعی بینکوں سے قرضے بھی لے لیتاہے اور انھیں معاف بھی کرا لیتا ہے۔ اپنی فصل بھی وہ سرکاری قیمت پر فروخت کر دیتا ہے، اسے سرکاری اہلکاروں کا بھی کوئی ڈر نہیں ہوتا اور نہ ہی منڈی کے آڑھتی سے ۔یہیں سے حکومت کی ناقص زرعی پالیسی بے نقاب ہوتی ہے ۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے کسان کے تحفظ کے لیے پالیسیاں تشکیل دے۔ جب تک چھوٹے کسان کا تحفظ نہیں کیا جاتا زرعی شعبہ ترقی نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 341 ارب روپے کے کسان پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ یہ خوش آیند بات ہے لیکن اصل معاملہ یہ ہے کہ اس پیکیج کا فائدہ چھوٹے کسان کو پہنچنا چاہیے۔
اگر اس کا فائدہ بڑے زمیندار اٹھائیں گے تو اس سے زرعی شعبے ترقی نہیں کر سکے گا۔ بہر حال وزیراعظم نے کسانوں کے لیے ہمدردانہ فیصلہ کیا۔ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسانوں کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ دینے کا کوئی میکنزم بنایا جانا چاہیے۔ 5سے 12 ایکڑ تک کے کسان کے لیے بجلی مفت ہونی چاہیے۔ اسے زرعی مداخل ارزاں قیمتوں پر ملنے چاہئیںتاکہ یہ چھوٹا کسان اپنی پیداواری لاگت سے بڑھ کر منافع کما سکے۔ ہمارا کسان خوشحال ہو گاتو ہمارا گاؤں خوشحال ہو گا۔ گاؤں خوشحال ہو گا تو پاکستان خوشحال ہو گا۔
انھوں نے چھوٹے کسانوں کے لیے سو ارب روپے کے اضافی قرضے کا اعلان کر دیا ، سولر ٹیوب ویل لگانے کے لیے چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے دیے جائیں گے ۔ انھوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو امدادی رقوم دینے پر 20 ارب روپے خرچ ہوں گے۔
زرعی قرضوں کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ مارک اپ کی سطح تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مارک اپ میں 2 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کسانوں کو قرض فراہم کرنے کے لیے ون ونڈو آپریشن کے آغاز کی نوید بھی سنا دی۔ وزیراعظم نے چاول کی خریداری کے لیے لیے گئے قرضے کی مدت بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔
زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے' بدقسمتی سے اس شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہمارا کسان جو کبھی خوشحال ہوا کرتا تھا' اب حکومت کی ناقص زرعی پالیسیوں کے باعث غربت کا شکار ہے' اس خطے کے دیہات خوشحالی کی علامت ہوا کرتے تھے' کسی کو غربت اور بے روز گاری کا احساس نہیں تھا' دیہات کے نوجوان اپنی طاقت اور تندرستی کے لیے مشہور تھے لیکن آج ہمارے دیہات غربت اور مفلسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور دیہاتی نوجوان غربت سے تنگ آ کر کراچی' لاہور اور اسلام آباد میں یومیہ اجرت پر مزدوری کر رہے ہیں' یہ سب کیسے اور کیوں ہوا۔
ارباب اختیار اس سے بخوبی آگاہ ہیں اور اگر حکمران طبقات چاہتے تو صورت حال کو بدلا جا سکتا تھا لیکن کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ چھوٹا کسان سب سے زیادہ مسائل کا شکارہے کیونکہ اس کے زرعی مداخل اتنے زیادہ ہیں کہ اس کی فی ایکڑ لاگت پیداوار کی قیمت سے بڑھ جاتی ہے۔
پھر جب وہ زرعی اجناس شہروں میں فروخت کے لیے لاتا ہے تو سرکاری اہلکار اور آڑھتی اسے لوٹ لیتے ہیں۔وزیراعظم نے دیر سے سہی لیکن مثبت سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ ہمارے منصوبہ سازوں کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ پاکستان سے غربت کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک زرعی شعبے کو ترقی یافتہ نہیں بنایا جا سکتا۔زرعی شعبہ اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا جب تک چھوٹے کسان کو خوشحال نہیں بنایا جا سکتا۔ چھوٹا کسان اس وقت تک خوشحال نہیں ہو سکتا جب تک اسے سستی بجلی 'مفت پانی'مفت بیج 'سستی کھاد اور زرعی ادویات نہیں ملتیں۔
اس کے ساتھ ساتھ کسان کو سرکاری اہلکاروں کے ظلم و ستم سے محفوظ نہیں بنایا جاتا اور اسے منڈی کے آڑھتی کی لوٹ مار سے بچانے کا بندوبست نہیں کیا جاتا ۔اس وقت پاکستان میں اگر کوئی سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے تو وہ چھوٹا کسان ہے۔ بڑے زمیندار اپنے سیاسی اثرورسوخ کی بنا پر ہر قسم کی مراعات حاصل کر لیتے ہیں۔
بڑے زمیندار گھرانے اسمبلیوں میں بھی ہیں اوران کے بچے اعلیٰ ملازمتوں پر بھی فائز ہیں اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے فیکٹریاں بھی لگا رکھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی شعبے سے منسلک ہونے کے باوجود جاگیردار طبقے نے زراعت کی ترقی کے لیے کبھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ویسے بھی جاگیردار اور بڑا زمیندار خود کاشتکار نہیں ہے۔ اس نے اپنی زمینیں ٹھیکے پر دے رکھی ہیں یا وہ زرعی مزدوروں سے کاشتکاری کا کام لے رہا ہے۔ وہ زرعی بینکوں سے قرضے بھی لے لیتاہے اور انھیں معاف بھی کرا لیتا ہے۔ اپنی فصل بھی وہ سرکاری قیمت پر فروخت کر دیتا ہے، اسے سرکاری اہلکاروں کا بھی کوئی ڈر نہیں ہوتا اور نہ ہی منڈی کے آڑھتی سے ۔یہیں سے حکومت کی ناقص زرعی پالیسی بے نقاب ہوتی ہے ۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے کسان کے تحفظ کے لیے پالیسیاں تشکیل دے۔ جب تک چھوٹے کسان کا تحفظ نہیں کیا جاتا زرعی شعبہ ترقی نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 341 ارب روپے کے کسان پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ یہ خوش آیند بات ہے لیکن اصل معاملہ یہ ہے کہ اس پیکیج کا فائدہ چھوٹے کسان کو پہنچنا چاہیے۔
اگر اس کا فائدہ بڑے زمیندار اٹھائیں گے تو اس سے زرعی شعبے ترقی نہیں کر سکے گا۔ بہر حال وزیراعظم نے کسانوں کے لیے ہمدردانہ فیصلہ کیا۔ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسانوں کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ دینے کا کوئی میکنزم بنایا جانا چاہیے۔ 5سے 12 ایکڑ تک کے کسان کے لیے بجلی مفت ہونی چاہیے۔ اسے زرعی مداخل ارزاں قیمتوں پر ملنے چاہئیںتاکہ یہ چھوٹا کسان اپنی پیداواری لاگت سے بڑھ کر منافع کما سکے۔ ہمارا کسان خوشحال ہو گاتو ہمارا گاؤں خوشحال ہو گا۔ گاؤں خوشحال ہو گا تو پاکستان خوشحال ہو گا۔