تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ نے قومی زبان اردو کو سرکاری زبان بنانے کا تاریخی فیصلہ دے دیا۔

tauceeph@gmail.com

سپریم کورٹ نے قومی زبان اردو کو سرکاری زبان بنانے کا تاریخی فیصلہ دے دیا۔ سپریم کورٹ کے رخصت ہونے والے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ تاریخ میں اپنا نام درج کروا گئے ہیں۔ 1973 کے آئین کے تحت اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا تھا، مگر آئین کی اس شق پر 42 سال تک عمل نہیں ہوا۔

پاکستان میں قومی زبان کے تعین اور اس کے نفاذ کا معاملہ ہمیشہ تنازعے کا شکار رہا۔ قائد اعظم محمد عملی جناح نے آزادی کے فوراً بعد مشرقی پاکستان کے دورے کے موقعے پر ڈھاکا یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے اردو کو قومی زبان قرار دینے کا اعلان کیا۔ اس وقت مسلم لیگ کے ایک کارکن شیخ مجیب الرحمن نے قائد اعظم کے اس اعلان پر اعتراض کرتے ہوئے بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن بنگالی قوم پرست کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔

مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان کے حق میں طلباء نے تحریک چلائی اور اردو بنگلہ تنازعہ پیدا ہوا۔ بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ مل گیا مگر کبھی بھی انگریزی کی جگہ بنگالی اور اردو کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور عدلیہ نے انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ جاری کیا۔

جنرل ایوب خان کے دور میں اردو اور بنگلہ زبان میں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر امتحان دینے کی ہدایت دی گئی مگر یونیورسٹیوں میں انگریزی کو بطور میڈیم برقرار رکھا گیا۔ سرکاری اسکولوں، کالجوں میں سماجی علوم کی اردو میں تعلیم دی جانے لگی مگر سائنس، انجینئرنگ، میڈیکل کی تعلیم انگریزی میں ہی جاری رہی، سرکاری دفاتر، نجی اداروں، بینکوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں میں انگریزی کو بالادستی رہی۔

1972 میں جب سندھ میں سندھی زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کا فیصلہ ہوا، تو جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک استقلال نے سندھ اسمبلی میں منظور کردہ اس اعلان کے خلاف تحریک چلائی مگر بلوچستان، پنجاب اور صوبہ سرحد کی حکومتوں نے اردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ کیا، سندھ میں لسانی فسادات ہوئے، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور احتجاج میں ملوث جماعتوں کے رہنماؤں میں مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے میں اردو کی قومی حیثیت برقرار رکھنے کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسکول، کالجوں میں سندھی زبان کو بطور تدریسی زبان اختیار کرنے کے علاوہ کوئی اور اقدام نہیں کیا۔


جنرل ضیاء الحق برسراقتدار آئے تو انھوں نے اردو سے محبت کا اظہار کیا۔ کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے مشورے پر مقتدرہ قومی زبان کا ادارہ قائم کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں نجی تعلیمی اداروں کی اجازت ملی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ملک کے مختلف شہروں میں کیمپس قائم ہوئے، ابتدائی جماعتوں سے پی ایچ ڈی کی سطح تک انگریزی کو دوام حاصل ہوا۔ سرکاری اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں اردو میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کو عملی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انگریزی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی بناء پر ملازمتوں سے محروم ہوئے۔

عدالتوں میں ایسے مقدمات کی سماعت کے دوران ایک عام آدمی انگریزی میں ہونے والی بحث کو سمجھ نہیں پاتا۔ وکیلوں اور عدالتی عملے کی محتاجی اس کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم کرتی ہے، محسوس ہونے لگا کہ اردو میں تعلیم طبقاتی فرق کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ برسراقتدار حکومتوں نے اردو کی ترقی کے نام پر کئی ادارے قائم کیے۔ ان میں اردو سائنس بورڈ، اردو ڈکشنری بورڈ، مقتدرہ قومی زبان اکیڈمی، ادبیات پاکستان قابل ذکر ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کا 2002 میں قیام عمل میں آیا مگر بیوروکریسی کے منفی طرز عمل کی بناء پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔

گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک انقلاب برپا کیا۔ اس انقلاب کی بناء پر اردو ان پیج سوفٹ ویئر نے اردو پرنٹنگ کو آسان اور خوبصورت تو کیا مگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی زبان انگریزی تھی، یوں کمپیوٹر سائنس، بزنس ایڈمنسٹریشن جیسے مضامین کے پھیلاؤ نے انگریزی کی حیثیت کو مزید مستحکم کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم ہوا۔ ایچ ای سی نے ہر سطح پر انگریزی کو لازمی قرار دیا۔ معزز جج صاحبان نے سپریم کورٹ میں اردو کو نافذ کرنے کا ہدایت کی۔

اس دفعہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے تقرر کا خط اردو زبان میں صدر ممنون حسین نے پیش کیا۔ جسٹس خواجہ نے اردو میں حلف لیا۔ وزیر اعظم نواز شریف کے دفتر سے اردو میں مختصر تحریر (سمری) ایوان صدر بھیجنے کی روایت ڈالی۔ اردو کو مکمل طور پر قومی زبان کا درجہ اختیار کرنے کا یہ معاملہ ہنوز التواء کا شکار ہے۔ وفاقی حکومت کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی حکومت کو اعلیٰ ملازمتوں کے امتحانات اردو میں شروع کرنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ فوری طور پر حکومت کو انگریزی میں امتحان دینے کے ساتھ اردو میں امتحان دینے کی اجازت ہے۔

اردو کی ترویج کے لیے موجود اداروں کی تنظیم نو ضروری ہے، یونیورسٹیاں کتابوں کے اردو ترجمہ میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں، مگر اردو کو وفاق کی سطح پر رابطے کی زبان قرار دینے کے ساتھ دو اہم معاملات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ انگریزی بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے۔

اس لیے ہر سطح پر انگریزی کی تعلیم ضروری ہے۔ اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ سندھ، پنجاب، پشتو، بلوچی اور سرائیکی اس خطے میں آباد ہیں۔ آبادی کی اکثریت کی ان زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کے لیے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ ان زبانوں کا اردو سے کوئی تضاد نہیں ہے، کسی قسم کے ٹکراؤ اور استحصال کی شکل نہیں بننی چاہیے۔ اردو کو وفاق کی سطح پر سرکاری زبان قرار دینے سے غریب آدمی کی زندگی آسان ہو گی اور ترقی کا عمل تیز ہو گا۔
Load Next Story