سالوں نے ’’مہینوں‘‘ کو قتل کر ڈالا

جسے سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی، یقین کریں اپنی سمجھ پر ہمیں فخر تو کبھی نہیں رہا ہے

barq@email.com

KARACHI:
بات ہی ایسی تھی کہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہنس دیں یا رو پڑیں ویسے بھی ہم نہ تو پرانے زمانے کی شہزادی یا شہزادے تھے اور نہ ہی یہ کوئی ''طلسم ہوشربا'' تھا بلکہ اخبار کی سرخی تھی ''سالوں نے مہینوں کو قتل کر ڈالا'' آخر مہینوں سے ایسا کیا گناہ کبیرہ سرزد ہوا تھا کہ سالوں پر ان کا قتل کرنا واجب ٹھہر گیا تھا اور یہ ''مہینے'' آخر کون سے تھے۔

سال کے بارہ مہینوں میں ہمیں تو کوئی ایسا مہینہ دکھائی نہیں دے رہا تھا جو اتنا برا اور بدمعاش ہو کہ قتل سے کم سزا نہیں تھی ... جہاں تک ''سالوں'' کا تعلق ہے تو وہ یقیناً اتنے ظالم ہو سکتے تھے کہ قتل پر اتر آئیں تاریخ میں اتنے نہ جانے کتنے سن و سال ہوئے ہیں جن میں کشتوں کے پشتے لگائے گئے تھے مثلاً وہ سال جب چنگیز خان قہر بن کر نازل ہوا یا وہ سال جب ہلاکو خان باقاعدہ دعوت پر بغداد آیا تھا، انقلاب روس، انقلاب فرانس، جنگ عظیم اول و دوم، فال آف رومن، ایمپائر فال آف برلن، سقوط بابل، سقوط اندلس، سقوط ڈھاکا، سقوط بغداد، سقوط کابل کے خونیں واقعات کسی نہ کسی ''سال'' میں تو ہوئے تھے۔

مہینے بھی ساتھ تھے لیکن ''یاد'' بڑوں کو کیا جاتا ہے چھوٹوں کو نہیں تاریخ میں صرف ایک واقعہ ایسا ہے جس میں مہینہ اور دن بھی انوالو ہیں اور وہ ہے نائن الیون ... باقی سارے واقعات سالوں سے منسوب ہیں، ایک اور نئی بات جو اس خبر میں تھی یہ ہوئی تھی کہ جن جن ''سالوں'' سے قتل کے واقعات منسوب ہیں ان میں ''انسان'' ہی قتل ہوتے رہے ہیں جب کہ یہاں سالوں نے ''مہینوں'' کو قتل کر دیا تھا، عام طور پر تو ہم خبر کی صرف سرخی پڑھتے ہیں یا یوں کہئے کہ صرف سونگھنے پر اکتفا کرتے ہیں لیکن یہ خبر عام نہیں تھی خاص بلکہ خاص الخاص تھی، سالوں نے مہینوں کو قتل کر دیا تھا چنانچہ مزید پڑھنا لازمی ٹھہرا کہ آخر سالوں نے مہینوں کو کیوں قتل کر ڈالا اور کون سے سالوں نے کن کن مہینوں کو صرف قتل ہی نہیں قتل کر ڈالا تھا، لیکن نیچے اترتے ہی اتنی خجالت ہوئی کہ سالم پانچ منٹ تک اپنی سمجھ کا ماتم کرتے رہے۔

جسے سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی، یقین کریں اپنی سمجھ پر ہمیں فخر تو کبھی نہیں رہا ہے لیکن اتنی شرمندگی بھی کبھی نہیں ہوئی تھی، یہ تو صاف صاف ہم نے ''دعا'' کو ''دغا'' اور ''محرم'' کو ''مجرم'' پڑھ لیا تھا بلکہ نامزد کو نامرد بنا ڈالا تھا، قاتل ''سال'' نہیں بلکہ ''سالے'' تھے اور بے چارا مقتول ''بہنوئی'' تھا چوں کہ کسی جوابی کارروائی کا خدشہ نہیں تھا اس لیے اپنے آپ کو خوب ہی لتاڑا کوسا اور شرمندہ کیا، اپنی ناقابل فخر ''سمجھ'' پر ہمیں غصہ تو آتا رہتا تھا لیکن اتنا زیادہ کبھی نہیں آیا تھا، سیدھی سادی بات تھی، سیدھے سادے ''سالوں'' نے اپنے بہنوئی کو کیفر کردار تک پہنچایا تھا اور ہم بجائے بارہ مہینوں والے سالوں کے بارے میں ایسا ویسا سوچ رہے تھے۔

سالوں نے بہنوئی کو قتل کیا ان کی مرضی ہمیں کسی سے کیا لینا دینا سالے جانیں اور بہنوئی ... ویسے بھی بے چارا بہنوئی تو اسی روز مقتولین میں شمار ہو گیا ہو گا جس دن ان کی بہن نے اس کے گھر میں پرویش کیا ہو گا، باقی کام بھائیوں نے پورا کر دیا تو ہمیں کیا ... ہم یونہی بے چارے بارہ مہینوں والے معصوم سالوں اور تیس دن والے مظلوم مہینوں کا معاملہ سمجھ رہے تھے۔


اپنی سمجھ میں شاید ہم نے کچھ زیادہ ہی خبر کو لتاڑ دیا کہ بے چاری چیخ اٹھی اور جب ہم نے اس کے اشارے کی سیدھ میں سرخی پر نظر دوڑائی تو وہاں صاف صاف ''مہینوں'' لکھا ہوتا تھا اور اس کا کچھ زیادہ دوش ہم کمپوزر کو بھی نہیں دے سکتے تھے کیوں کہ مہینوں اور بہنوئی میں حد درجہ مماثلت اور مشابہت پائی جا رہی تھی ''بہنوئی'' کے ''ب'' کو ''م'' اور ئی کو ''ں'' بننے میں لگتا ہی کیا تھا اور پھر پروف ریڈر بھی کچھ زیادہ قصور وار نہیں تھا سوائے گردن زدنی کے ... بلکہ عین ممکن ہے کہ دونوں کو مہینوں سے تنخواہ نہ ملی ہو اور انھوں نے مہینوں کو سالوں کے ہاتھوں قتل کرنا ہی مناسب سمجھا ہو یا ہو سکتا ہے کہ اس خبر سے تعلق رکھنے والا کوئی ایسا سالا ہو جو اپنے بہنوئی کے لیے دل میں ایسے ہی نیک جذبات رکھتا ہو۔

کتاب اور کمپوزنگ کی غلطیاں تو ہوتی رہتی ہیں کیوں کہ انسان غلطیوں کا پتیلہ اور اخبارات غلطیوں کی دیگ ہوتے ہیں لیکن اس تازہ ترین ''سالوں مہینوں'' والی خبر سے ہمیں ایک بہت پرانا واقعہ یاد آیا، ایک روزنامہ پشاور کا مشہور اخبار تھا جس کی ہڈیوں پر بعد میں ٹرسٹ کا اخبار پلا بڑھا،اخبار میں ایک دن ایک شہ سرخی (لیڈ) آئی کہ محمد خان سفید ریش کو پھانسی دے دی گئی، ایک تو اس وقت محمد خان نامی کوئی مشہور آدمی موجود نہیں، ڈاکو محمد خان بہت بعد میں مشہور ہوا تھا اور دوسرے یہ کہ کسی ''سفید ریش'' کو پھانسی پر لٹکانا کچھ اچھی بات نہیں تھی۔

چاہے اس نے اپنے بال دھوپ میں یا صحافت میں کیوں نہ سفید کیے ہوں اور پھر اگر سفید ریش محمد خان کو پھانسی دے دی گئی تو محمد خان کے ساتھ ''سفید ریش'' لکھنا کیا ضروری تھا، ہمیں لگا کہ اخبار نے پھانسی دینے والوں پر ایک طرح سے ''مرموز'' طنز کی ہے کہ بے چارے سفید ریش کے ساتھ اتنا ظلم کیا گیا، لیکن سرخی کے نیچے خبر کہ قبر میں اتر گئے تو پتہ چلا کہ معاملہ ترکی کا ہے اور وہاں کے لیڈر ''عدنان میندریس'' کو انقلابیوں نے تختہ دار پر لٹکایا تھا، بے چارے عدنان میندریس پر جو ظلم اس کے اپنے وطن والے انقلابیوں نے کیا تھا وہ تو ان کا اپنا گھریلو معاملہ تھا لیکن ہمارے اخبار نے اس بے چارے پر یہ دہرا اتیاچار توڑا تھا کہ کسی ''محمد خان سفید ریش'' کو قبر میں لٹا دیا تھا گویا

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

جس طرح ہمیں عدنان میندریس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اسی طرح ہمیں ان سالوں اور ان کے مقتول بہنوئی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی ہم اس پر کچھ کہنا چاہتے ہیں ایک دفعہ بہنوئی بنا کر ادھ موا کر دینے کے بعد کیا ضروری تھا کہ بے چارے کو پورا قتل کیا جائے ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس بہنوئی نے خود ہی اپنے اعمال کے ذریعے خود مستوجب قتل بنا لیا ہو۔
Load Next Story