پشاور شہر کو نمونہ بنانے کا عزم

بلکہ ہمارا سوتیلاپن عام سوتیلے پن سے بڑھ کر تقریباً ’’عاق شدہ‘‘ تک پہنچا ہوا ہے

barq@email.com

بڑی اچھی خبر بلکہ خوش خبری ہے اور خوش خبری میں مزید خوش خبری یہ ہے کہ یہ کسی ایسے ویسے ایرے غیرے یا ہم جسے ''ارے ارے ارے'' کے بجائے ایک نہایت ہی باوثوق منہ سے نکلی ہے۔ ہمارے ضلع کے نئے حاکم یا اولی الامر جناب ارباب عاصم شکل و صورت سے اچھے خاصے ثقہ و باوثوق لگتے ہیں اوپر سے ارباب بھی ہیں اور تکنیکی طور پر پورے ضلع کے سب سے بڑے ذمے دار ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں تو یقیناً ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کہ پشاور کو ماڈل شہر بنائیں گے، اگرچہ ہمیں پوری طرح ''ماڈل'' کے معنی معلوم نہیں ہیں صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس کا اردو ترجمہ ''نمونہ'' بنتا ہے اب نمونے تو نمونے ہوتے ہیں اچھے بھی برے بھی ۔۔۔ مثلاً ''نمونہ عبرت'' بھی تو نمونہ ہوتا ہے اس لحاظ سے پشاور شہر کو دیکھا جائے تو کئی لحاظ سے اب بھی ''نمونہ'' ہی ہے اور اتنا زیادہ نمونہ ہے کہ بہت زیادہ نمونہ ہونے کی وجہ سے ایک اور ''ن'' کا متقاضی ہو جاتا ہے ویسے اس کی حالت سے لگتا بھی ایسا ہی ہے جیسے اسے نمونیا بلکہ ڈبل نمونیا ہوا ہو جو کرانک ہو کر ''پلورسی'' کے درجے میں داخل ہو چکا ہے جگہ جگہ اور قدم قدم پر اس کے وجود میں گندہ مواد بھرا ہوا ہے، مطلب یہ کہ ''نمونے'' کی حد تک تو پشاور اب بھی اچھا خاصا نمونہ ہے بلکہ مجموعہ نمونیات بھی کہہ سکتے ہیں چنانچہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا اور خاص طور پر ہم جیسے سوتیلوں کے لیے تو بالکل ہی کہنا ممکن نہیں ہے کہ موصوف اسے کس قسم بلکہ کس نمونے کا نمونہ بنائیں گے، ہم نے اپنے لیے سوتیلے کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ

یاں کے سپیدو سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا دن کو جوں توں شام کیا

بلکہ ہمارا سوتیلاپن عام سوتیلے پن سے بڑھ کر تقریباً ''عاق شدہ'' تک پہنچا ہوا ہے کیوں کہ پچاس سال سے اس کی سڑکوں پر جوتے گھسا رہے ہیں دھول پھانک رہے ہیں اور دھکے کھا رہے ہیں لیکن آج تک اس ''جان جہاں'' نے ہمیں اپنا نہیں سمجھا ہے آج بھی وہی حال ہے کہ ؎

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

چنانچہ بالکل بھی اندازہ نہیں ہے کہ اس ماڈلستان یا مجموعہ نمونیات کو اب اور کس قسم کا نمونہ بنایا جائے گا

حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ
کوئی ہم کو یہ تو سمجھا دے کہ سمجھاویں گے کیا؟

جتنے بھی ممکن اور رائج الوقت نمونے ہو سکتے تھے وہ تو پشاور کے بن چکے ہیں بلکہ بنائے جا چکے ہیں حتیٰ کہ اسے پہلے کی طرح پھولوں (Phool s) کا شہر بھی بنایا جا چکا ہے لیکن ہم نے اپنی نالائقی کی بناء پر (PH) کا ترجمہ (F) سمجھا، اگر کسی کو ثبوت چاہیے ہو تو وہ شہر میں پِھر، ٹُر کر بہ چشم خود دیکھ سکتا ہے خاص طور پر پلوں (کیا زبردست اتفاق ہے پلوں پھولوں اور فواروں کی) دیواروں اور سڑک کنارے کے مقامات پر کیا زبردست گلکاری اور گرینری ''لٹکائی'' گئی ہے اگرچہ یہ گلکاری اور گرینری فی الحال ''پلاسٹک'' کی ہے لیکن عین ممکن ہے کہ کچھ دنوں بعد یہ ''گرینری'' اصلی بن جائے بلکہ کاغذات میں تو شاید اب بھی ہو اور وہ دن دور اس لیے نہیں کہ اس کا بھی وہ حشر شروع ہو چکا ہے جو شہر میں لوہے کے جنگلوں اور پنجروں کا ہو رہا ہے امید ہے کہ مہینے ڈیڑھ مہینے میں یہ ساری گرینری غائب ہو چکی ہو گی اور صرف کاغذات میں اس کے تذکرے باقی رہے ہوں گے، ویسے وہ قبرستانوں والا شعر بھی یہاں کیا خوب بیٹھتا ہے کیوں کہ پلاسٹک کے یہ غنچے ۔۔۔ مرجھا نہیں بلکہ غائب ہونے والے ہیں

حیف در چشم زدں صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد


ویسے ہمیں تعجب اس پر ہو رہا ہے کہ شہر کو اتنا ''گرین کلین'' بنایا جا چکا ہے اور اس کی نہ ابھی تک کوئی خبر آئی ہے کہ ہم نے ایک اور وعدہ پورا کر کے پختونوں کو گرین بنا دیا ۔۔۔ یا بدل رہا ہے خیبر پختون خوا ۔۔۔ جدھر دیکھیے ادھر گل ہی گل اور سبزہ ہی سبزہ،

اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالبؔ
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

کیا ہوا اگر یہ بہار پلاسٹک کی ہے کون جا کر ان پھولوں کو سونگھے گا یا سبزے کو ہاتھ لگائے، ''نظرے خوش گزرے'' کی حد تک تو سرسبز ہو گیا ہے پشاور، ویسے تعریف تو بنتی ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے کیا زبردست کم خرچ بالا نشین آئیڈیا نکالا ہے کم خرچ کا تو خیر یقین سے نہیں کہہ سکتے کیوں کہ جب کھجور کا ایک درخت تین چار لاکھ کا ہو سکتا ہے تو پلاسٹک کے اصلی پھولوں کے اصلی گملوں پر یقیناً خرچہ آیا ہو گا، لیکن جس کا یہ آئیڈیا ہے اسے کم از کم ''ستارہ پشاور'' یا ستارہ کے پی کے کا ایوارڈ تو ملنا چاہیے، ہم تو مشورہ دیں گے کہ نئے حاکم ضلع اس خیال کے موجد کو خصوصی مراعات دے کر اپنے پاس رکھ لیں کیونکہ ایسی چنگاریاں ہر خاکستر میں نہیں ہوتیں کہ یہ سعادت صرف پشاور ہی کے حصے میں آئی ہے

اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ''ہریالی'' تماشا ہو
مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا

ایسے میں ہمیں اپنی کم عقلی نالائقی اور ناسمجھی کا برملا اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ پشاور کے تنگ و ترین شہر کو ''کشادہ'' کرنے کے لیے جب اس کی سڑکوں پر ''پلوں'' کے یہ ''اژدھے'' لٹائے گئے تو ہم اپنی ''کوتاہ بینی'' کے باعث خواہ مخواہ اعتراض کرنے لگے کہ آخر اتنے بڑے بڑے اژدھے اور ایناکونڈے زرکثیر صرف کر کے سڑکوں پر بٹھانے سے کیا فائدہ جو ٹریفک میں سہولت کے بجائے مزید بگاڑ کا باعث ہیں، بلکہ اکثر ہم ان پلوں اور ان کی بے پناہ افادیت دیکھ کر باقیؔ صدیقی بن جاتے تھے کہ

سوچتا ہوں سر ساحل باقیؔ
یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں

لیکن اب کہیں جا کر سمجھ میں آیا کہ ہم غلطی پر تھے، کوتاہ بین تھے، ناسمجھ اور نالائق تھے اور یہ جان ہی نہیں پائے تھے کہ حاکمان شہر کو کتنی دور کی سوجھی ہے۔ یہ سب کچھ تو اس پلاسٹک کی ''گرینری'' کو لٹکانے کا بندوبست تھا۔ سڑک کے بیچوں بیچ اتنی زبردست ''بہار'' کسی اور طریقے سے لائی ہی نہیں جا سکتی تھی، اتنے فصیح و بلیغ انداز میں ''بدل رہا ہے خیبر پختون خوا'' کو واضح کیا نہیں جا سکتا تھا، ''منفی تنقیدیے'' انصاف کے دشمن، تبدیلی کے مخالف اور نیا پاکستان کے دشمن ہو سکتا ہے پلاسٹک کی گرینری پر اعتراض کریں کہ اس سے تو زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ ان پلوں، دیواروں اور ریلینگوں پر بہار کو پینٹ کیا جاتا ہے بلکہ آپ سے کیا چھپانا ایک ایسے ہی انصاف دشمن اور نیا پاکستان مخالف نے یہ اعتراض کیا بھی ہے کہ پلاسٹک کی یہ گرینری اور ''باغ و بہار'' تو لوگ چرا کر کباڑ میں بیج بھی سکتے ہیں لیکن اگر پینٹ کر کے شہر کو ''گرین'' بنا دیا جاتا تو کوئی اس ''گرینری'' کو ہر گز چرا نہیں سکتا تھا۔ یوں پشاور شہر میں گلشن سدا بہار ہو جاتا۔ لیکن ایسے منفی تنقیدیے نہیں جانتے کہ ''تبدیلی'' کے ساتھ کتنی برکتیں اور ہوتی ہیں اور کتنے گھروں کے چولہے اور چراغ اس سے روشن ہوتے ہیں، کہاں ہر سال نئی نئی بہار اور کہاں پینٹ شدہ بہار اور گرینری۔ بہرحال نئے حاکم ضلع کی آواز مکے مدینے۔ لیکن چونکہ ابھی وہ نئے نئے ہیں اور ماڈل بنانے کے کام ہیں اتنے ماہر نہیں ہوں گے اس لیے ''پرانے تجربہ کار'' ماڈل سازوں کو ہر گز نہ بھولیں، پشاور کو طرح طرح کے ماڈل بنانے میں ان کو ستر سال کا طویل تجربہ حاصل ہے

لے میرے تجربے سے سبق اے مرے عزیز
دس بیس سال عمر میں تم سے بڑا ہوں میں
Load Next Story