کیپٹن اسفند یار کا جسد خاکی اٹک منتقل دیدار کیلیے پورا علاقہ امڈ آیا
08ء کوپاس آؤٹ،اعزازشمشیرملی تھی،شطرنج ٹیم کے کپتان، پنجاب انڈر19ہاکی ٹیم کیلیے بھی کھیلے
اٹک:شہید کیپٹن اسفندیار کا جسدخاکی ان کی رہائش گاہ لایا جارہاہے ،چھوٹی تصویر شہیدکیپٹن کی ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس
KARACHI:
بڈھ بیر میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر حملہ آور دہشت گردوں کیخلاف فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنیوالے کیپٹن اسفندیار بخاری کا قومی پرچم میں لپٹا جسد خاکی گزشتہ رات اٹک میں ان کے آبائی علاقے چھوئی روڈ پر واقع ان کے گھر منتقل کیا گیا تو رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور شہید کیپٹن کے دیدار کیلیے پورا علاقہ امڈ آیا۔
کیپٹن اسفندیار بخاری جناح ونگ کے کمانڈر تھے اور کوئیک رسپانس ایکشن کے دوران اپنے گروپ کی کمانڈ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔14 اگست 1988 کو پیدا ہونیوالے اسفندیار بخاری نے ابتدائی تعلیم اے پی ایس ،کیڈٹ کالج حسن ابدال میں حاصل کی۔ پی ایم اے 118 لانگ کورس میں پاس ہوئے تھے اور ان کا تعلق 11 ایف ایف رجمنٹ سے تھا۔ ان کا شمار بہترین کیڈٹس میں ہوتا تھا۔ کاکول اکیڈمی میں 25 اکتوبر 2008 کو پاسنگ آؤٹ پریڈ میں اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انھیں اعزازی شمشیر عطاکی تھی۔
شہید کیپٹن بخاری کالج کی شطرنج ٹیم کے کپتان رہے ہیں جبکہ پنجاب انڈر 19ہاکی ٹیم کیلیے بھی کھیلتے رہے۔ کیپٹن اسفندیار شہید کے والد ڈاکٹر فیاض بخاری معروف پیتھالوجسٹ اور پی ایم اے کے سابق صدر ہیں۔ ان کے ماموں ڈاکٹر سید تنویر گیلانی آئی اسپیشلسٹ ہیں۔ ان کے بڑے بھائی شہریار بخاری لندن میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی احسان بخاری آرمی میڈیکل کالج میں سال آخرکے طالب علم ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں شہید کیپٹن اسفندیارکے والد ڈاکٹر فیاض بخاری سے ملاقات کرکے تعزیت کی اور ان کے شہید بیٹے کے درجات کی بلندی کیلیے دعا کی۔ وزیراعظم نے کیپٹن اسفندیار شہید کی جرات اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم نے دہشتگردی کے خاتمے کیلیے بڑی قربانیاں دی ہیں، دہشتگردی کیخلاف مشن پورے عزم سے جاری رکھیں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں شہید کیپٹن کے والد نے کہا مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے، اسفندیار نے پیغام دیا ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی، پاک فوج کے ہوتے ہوئے دہشت گرد کچھ نہیں کر سکتے، شہید نے ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ملک سے کرپشن بھی ختم ہونی چاہیے، آپ کرپشن ختم کریں، فوج اندر کسی کو نہیں آنے دیں گے، اسفندیار نے اعزازی شمشیر حاصل کی تھی، ان کی والدہ نے کہا تھا کہ جو تلوار انھیں ملی ہے یہ حق کی تلوار ہے جو دشمنوں پر گرے گی، یقین تھابیٹے کو ملنے والی اعزازی تلوار دشمن پرضرور گرے گی۔
میری شدید خواہش تھی کہ بیٹا ڈاکٹر بنے، مگر وہ فوجی وردی پہننا چاہتا تھا، میں نے بیٹے کی ضد کے سامنے اپنی خواہش قربان کردی، میرا بیٹا ہر میدان میں جیتتا رہا ہے اور آج شدت پسندوں کیساتھ بھی مقابلے میں اس نے میدان مار لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسفندیار کی تدفین اس کے بڑے بھائی کی لندن سے آنے کے بعد ہو گی۔ بڈھ حملے میں شہید ہونے والے ٹیکنیشن شان شوکت کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔
1990 میں پیدا ہونیوالے شان شوکت نے 7 سال قبل ایئرفورس جوائن کرلی تھی اور ایک ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی، وہ 7 ستمبر کو ایک ماہ چھٹیاں گزارنے کے بعد ڈیوٹی پر چلے گئے تھے۔حملے میں پنڈی گھیب کے محلہ ہری والا کا ایک نوجوان یاسر بھی شہید ہوگیا ہے جوکام کے سلسلے میں پشاور گیا تھا، وہ گزشتہ روز مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو دیگر نمازیوں کے ہمراہ دہشتگردوں کے حملے کا نشانہ بنا۔
بڈھ بیر میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر حملہ آور دہشت گردوں کیخلاف فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنیوالے کیپٹن اسفندیار بخاری کا قومی پرچم میں لپٹا جسد خاکی گزشتہ رات اٹک میں ان کے آبائی علاقے چھوئی روڈ پر واقع ان کے گھر منتقل کیا گیا تو رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور شہید کیپٹن کے دیدار کیلیے پورا علاقہ امڈ آیا۔
کیپٹن اسفندیار بخاری جناح ونگ کے کمانڈر تھے اور کوئیک رسپانس ایکشن کے دوران اپنے گروپ کی کمانڈ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔14 اگست 1988 کو پیدا ہونیوالے اسفندیار بخاری نے ابتدائی تعلیم اے پی ایس ،کیڈٹ کالج حسن ابدال میں حاصل کی۔ پی ایم اے 118 لانگ کورس میں پاس ہوئے تھے اور ان کا تعلق 11 ایف ایف رجمنٹ سے تھا۔ ان کا شمار بہترین کیڈٹس میں ہوتا تھا۔ کاکول اکیڈمی میں 25 اکتوبر 2008 کو پاسنگ آؤٹ پریڈ میں اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انھیں اعزازی شمشیر عطاکی تھی۔
شہید کیپٹن بخاری کالج کی شطرنج ٹیم کے کپتان رہے ہیں جبکہ پنجاب انڈر 19ہاکی ٹیم کیلیے بھی کھیلتے رہے۔ کیپٹن اسفندیار شہید کے والد ڈاکٹر فیاض بخاری معروف پیتھالوجسٹ اور پی ایم اے کے سابق صدر ہیں۔ ان کے ماموں ڈاکٹر سید تنویر گیلانی آئی اسپیشلسٹ ہیں۔ ان کے بڑے بھائی شہریار بخاری لندن میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی احسان بخاری آرمی میڈیکل کالج میں سال آخرکے طالب علم ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں شہید کیپٹن اسفندیارکے والد ڈاکٹر فیاض بخاری سے ملاقات کرکے تعزیت کی اور ان کے شہید بیٹے کے درجات کی بلندی کیلیے دعا کی۔ وزیراعظم نے کیپٹن اسفندیار شہید کی جرات اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم نے دہشتگردی کے خاتمے کیلیے بڑی قربانیاں دی ہیں، دہشتگردی کیخلاف مشن پورے عزم سے جاری رکھیں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں شہید کیپٹن کے والد نے کہا مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے، اسفندیار نے پیغام دیا ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی، پاک فوج کے ہوتے ہوئے دہشت گرد کچھ نہیں کر سکتے، شہید نے ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ملک سے کرپشن بھی ختم ہونی چاہیے، آپ کرپشن ختم کریں، فوج اندر کسی کو نہیں آنے دیں گے، اسفندیار نے اعزازی شمشیر حاصل کی تھی، ان کی والدہ نے کہا تھا کہ جو تلوار انھیں ملی ہے یہ حق کی تلوار ہے جو دشمنوں پر گرے گی، یقین تھابیٹے کو ملنے والی اعزازی تلوار دشمن پرضرور گرے گی۔
میری شدید خواہش تھی کہ بیٹا ڈاکٹر بنے، مگر وہ فوجی وردی پہننا چاہتا تھا، میں نے بیٹے کی ضد کے سامنے اپنی خواہش قربان کردی، میرا بیٹا ہر میدان میں جیتتا رہا ہے اور آج شدت پسندوں کیساتھ بھی مقابلے میں اس نے میدان مار لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسفندیار کی تدفین اس کے بڑے بھائی کی لندن سے آنے کے بعد ہو گی۔ بڈھ حملے میں شہید ہونے والے ٹیکنیشن شان شوکت کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔
1990 میں پیدا ہونیوالے شان شوکت نے 7 سال قبل ایئرفورس جوائن کرلی تھی اور ایک ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی، وہ 7 ستمبر کو ایک ماہ چھٹیاں گزارنے کے بعد ڈیوٹی پر چلے گئے تھے۔حملے میں پنڈی گھیب کے محلہ ہری والا کا ایک نوجوان یاسر بھی شہید ہوگیا ہے جوکام کے سلسلے میں پشاور گیا تھا، وہ گزشتہ روز مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو دیگر نمازیوں کے ہمراہ دہشتگردوں کے حملے کا نشانہ بنا۔