دہشت گردی کا غرور توڑنے کی ضرورت
فغانستان میں موجود طالبان دہشت گرد ٹولہ اپنی پاکستان مخالف منتقمانہ ذہنیت اور ہولناک ایجنڈے کا حصہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی دہشت گردی مخالف اسٹرٹیجی پر مشترکہ عمل کریں۔ فوٹو : فائل
پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بڈھ بیر ائیربیس پر حملے کا منصوبہ افغانستان میں بنا، دہشتگرد وہیں سے آئے اور وہیں سے کنٹرول کیے گئے، واقعے میں کالعدم تحریک طالبان کا ایک گروپ ملوث ہے، افغان حکومت کے ملوث ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے، دہشتگردوں میں کوئی بھی خود کش حملہ آور نہیں تھا، سب کو گھیرے میں لے کر مارا گیا، حملے میں 29 افراد شہید جب کہ 29 ہی زخمی ہوئے، کوئیک رسپانس فورس نے 10 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ کر دہشتگردوں کو 50 میٹر کے ایریا میں محدود کیا۔ وہ جمعے کو یہاں بڈھ بیر حملے اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشن سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔
عسکری تناظر میں اس تزویراتی منظر نامے کا جس کا آئی ایس پی آر کے میجر جنرل عاصم باجوہ نے حوالہ دیا ہے وہ لائق غور ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان دہشت گرد ٹولہ اپنی پاکستان مخالف منتقمانہ ذہنیت اور ہولناک ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس سانحے میں براہ راست افغان حکومت ملوث نہیں تاہم قوم کے اجتماعی شعور میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے اس خلفشار کا ازالہ ضروری ہے کہ دہشت گرد اس قدر طاقتور کیسے بن جاتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایئر بیس پر عیاری اور جعلسازی کے ذریعے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ان کا یہ دیو مالائی غرور خاک میں ملنا چاہیے۔ اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے انہیں گھیر لیا اور اس خطرناک ہدف تک نہیں پہنچنے دیا جس کے بعد ہولناکی مزید دوچند ہو سکتی تھی، اس لیے اس تناظر میں سیاسی اور عسکری قیادت کا یہ صائب اور بروقت فیصلہ ہے کہ اس بزدلانہ اور غیر انسانی واقعہ کے پیش نظر پاکستان اپنا ایک وفد افغانستان بھیجے گا جو پشاور ائیربیس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہونے کے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔
اس فیصلہ پر عمل کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، اور اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد اور پشاور میں سول و عسکری حکام سے ملاقاتوں میں اس اقدام کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم حکام کا مزید کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح کا وفد بھیجنے کا حتمی فیصلہ سیاسی و عسکری قیادت کرے گی۔ یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر افغان صدر سے ملاقات میں بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے۔
بہر کیف صورتحال کی سنگینی اور دہشت گردی کی واردات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاک افغان اعلیٰ سطح کی بات چیت تقاضائے وقت ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان اطلاعات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے جن میں بتایا گیا ہے کہ حساس اداروں اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم لشکر اسلام، لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کے 5 دہشت گرد وانا پہنچ گئے ہیں جو صوبہ کی اہم شخصیات اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایک اور اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت نے افغانستان سے دہشت گردوں کے حملے روکنے کے لیے مربوط سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
ادھر ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پشاور حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ظالمانہ، بزدلانہ اور غیر انسانی فعل قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، اور دہشت گردوں کے خلاف سیاسی و عسکری قیادت کے شانہ بشانہ لڑتی رہیگی۔ رہنماؤں نے دہشتگرد حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے افسر کیپٹن اسفندیار، جوانوں اور دیگر کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید کی موت قوم کی حیات ہے۔
دریں اثنا بڈھ بیر مین پاک فضائیہ کے کیمپ پر حملہ میں مارے جانے والے تمام 13 دہشت گردوں کی تصاویر میڈیا کو جاری کر دی گئیں جب کہ پشاور سانحہ میں استعمال ہونے والی پک اپ کے اصل مالک تک پہنچنے کے لیے حساس اداروں نے صادق آباد و مضافاتی علاقوں میں چھاپہ مار کر ایک نوجوان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
تاہم یہ انکشاف حیران کن ہے کہ ایئر فورس کیمپ پر حملہ کی پیشگی اطلاع محکمہ انسداد دہشت گردی پولیس نے دی تھی، اور حملہ آوروں کی تعداد بھی بتائی تھی؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشتگرد پاکستان سے بھاگ کر اب افغانستان میں منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بڈھ بیر ایئر بیس پر حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں۔ جہاں تک دہشت گردوں کو عسکری تنصیبات، حساس اہداف اور شہروں علاقوں کے اہداف تک روکنے کا سوال ہے تو کسی کو سیکیورٹی لیپس یا دہشت گردوں کے اپر ہینڈ کا یقین نہیں ہے۔
وہ پاک فوج کی طاقت و عظمت پر یقین رکھتے ہیں بس اسی یقین کو عملاً دہشت گردی مخالف حکمت عملی کی تصویر بننا چاہیے جس میں افغانستان یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں روپوش انتہا پسندوں ، دہشتگردوں اور تخریب کاروں کو شگاف ڈالنے کی جرات نہ ہو سکے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی دہشت گردی مخالف اسٹرٹیجی پر مشترکہ عمل کریں۔
عسکری تناظر میں اس تزویراتی منظر نامے کا جس کا آئی ایس پی آر کے میجر جنرل عاصم باجوہ نے حوالہ دیا ہے وہ لائق غور ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان دہشت گرد ٹولہ اپنی پاکستان مخالف منتقمانہ ذہنیت اور ہولناک ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس سانحے میں براہ راست افغان حکومت ملوث نہیں تاہم قوم کے اجتماعی شعور میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے اس خلفشار کا ازالہ ضروری ہے کہ دہشت گرد اس قدر طاقتور کیسے بن جاتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایئر بیس پر عیاری اور جعلسازی کے ذریعے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ان کا یہ دیو مالائی غرور خاک میں ملنا چاہیے۔ اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے انہیں گھیر لیا اور اس خطرناک ہدف تک نہیں پہنچنے دیا جس کے بعد ہولناکی مزید دوچند ہو سکتی تھی، اس لیے اس تناظر میں سیاسی اور عسکری قیادت کا یہ صائب اور بروقت فیصلہ ہے کہ اس بزدلانہ اور غیر انسانی واقعہ کے پیش نظر پاکستان اپنا ایک وفد افغانستان بھیجے گا جو پشاور ائیربیس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہونے کے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔
اس فیصلہ پر عمل کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، اور اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد اور پشاور میں سول و عسکری حکام سے ملاقاتوں میں اس اقدام کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم حکام کا مزید کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح کا وفد بھیجنے کا حتمی فیصلہ سیاسی و عسکری قیادت کرے گی۔ یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر افغان صدر سے ملاقات میں بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے۔
بہر کیف صورتحال کی سنگینی اور دہشت گردی کی واردات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاک افغان اعلیٰ سطح کی بات چیت تقاضائے وقت ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان اطلاعات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے جن میں بتایا گیا ہے کہ حساس اداروں اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم لشکر اسلام، لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کے 5 دہشت گرد وانا پہنچ گئے ہیں جو صوبہ کی اہم شخصیات اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایک اور اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت نے افغانستان سے دہشت گردوں کے حملے روکنے کے لیے مربوط سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
ادھر ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پشاور حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ظالمانہ، بزدلانہ اور غیر انسانی فعل قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، اور دہشت گردوں کے خلاف سیاسی و عسکری قیادت کے شانہ بشانہ لڑتی رہیگی۔ رہنماؤں نے دہشتگرد حملے میں شہادت پانے والے پاک فوج کے افسر کیپٹن اسفندیار، جوانوں اور دیگر کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید کی موت قوم کی حیات ہے۔
دریں اثنا بڈھ بیر مین پاک فضائیہ کے کیمپ پر حملہ میں مارے جانے والے تمام 13 دہشت گردوں کی تصاویر میڈیا کو جاری کر دی گئیں جب کہ پشاور سانحہ میں استعمال ہونے والی پک اپ کے اصل مالک تک پہنچنے کے لیے حساس اداروں نے صادق آباد و مضافاتی علاقوں میں چھاپہ مار کر ایک نوجوان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
تاہم یہ انکشاف حیران کن ہے کہ ایئر فورس کیمپ پر حملہ کی پیشگی اطلاع محکمہ انسداد دہشت گردی پولیس نے دی تھی، اور حملہ آوروں کی تعداد بھی بتائی تھی؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشتگرد پاکستان سے بھاگ کر اب افغانستان میں منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بڈھ بیر ایئر بیس پر حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں۔ جہاں تک دہشت گردوں کو عسکری تنصیبات، حساس اہداف اور شہروں علاقوں کے اہداف تک روکنے کا سوال ہے تو کسی کو سیکیورٹی لیپس یا دہشت گردوں کے اپر ہینڈ کا یقین نہیں ہے۔
وہ پاک فوج کی طاقت و عظمت پر یقین رکھتے ہیں بس اسی یقین کو عملاً دہشت گردی مخالف حکمت عملی کی تصویر بننا چاہیے جس میں افغانستان یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں روپوش انتہا پسندوں ، دہشتگردوں اور تخریب کاروں کو شگاف ڈالنے کی جرات نہ ہو سکے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی دہشت گردی مخالف اسٹرٹیجی پر مشترکہ عمل کریں۔