عدالتی حکم عدولی پر ایس ایچ او کی گرفتاری کا حکم منشیات کے اسمگلر کو عمر قید کی سزا

برآمد ادویہ عدالت میں پیش کی نہ خود پیش ہوا،ایس ایس پی کو پولیس افسر کی گرفتاری کا حکم .

14برس سے زیر التوا منشیات اسمگلنگ کیس کا فیصلہ،مجرم شیخ ریاض الدین کو عمر قید،ضمانت منسوخ اور فوری حراست میں لیکر جیل بھیج دیا گیا. فوٹو: فائل

چیئرمین ساتھی محمد اسحاق ممبران ڈاکٹر جاوید بخاری اور ڈاکٹر نگہت قادری پر مشتمل ڈرگ کورٹ نے عدالتی حکم عدولی پر ایس ایچ او تھانہ مومن آباد کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے اور شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پولیس افسر نے مارچ 2004 کو مومن آباد کے علاقے میں واقع مقامی میڈیکل اسٹورز پر چھاپہ مارا تھا اور ممنوع ادویہ برآمد کی تھی 8 برس گزر نے کے باوجود پولیس افسر نے ملزمان سے برآمد ادویہ عدالت میں پیش نہیں کی متعدد بار نوٹس جاری کیے جانے پر کورٹ کو بتایا گیا کہ تمام کیس پراپرٹی ڈرگ اتھارٹی کے حوالے کردی ہیں کورٹ نے ڈرگ اتھارٹی کو طلب کیا جنھوں نے بتایا کہ انھیں کوئی سامان موصول نہیں ہوا کورٹ نے ایس ایچ او کو طلب کیا لیکن انھوں نے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا جس پر عدالت نے ایس ایس پی شرقی کو انکی گرفتاری کا حکم دیا ہے اور17نومبر کو کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے،علاوہ ازیں 14برس سے زیر التوا منشیات کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا گیا ہے مجرم شیخ ریاض الدین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔


تفصیلات کے مطابق ہفتے کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج ثنا اﷲ غوری نے منشیات اسمگل کرنے کے الزام میں ملوث ملزم شیخ ریاض الدین کو پبلک پراسیکیوٹر نوراﷲ مخدوم کے دلائل مکمل ہونے کے بعد مجرم کے خلاف جر م ثابت ہونے پر عمر قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے مجرم کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید تین برس جیل میں رہنا ہوگا مجرم کو 7 برس قبل ضمانت پر رہا کیا گیا تھا تاہم فاضل عدالت نے فیصلہ سنانے کے بعد مجرم کی ضمانت منسوخ کردی اور فوری حراست میں لینے کا حکم دیا عدالت کے حکم پر مجرم کو حراست میں لیکر جیل بھیج دیا گیا۔

استغاثہ کے مطابق ملزم گلشن اقبال سے گرفتار ہوا اور اس کی نشاندہی پر 745 کلو چرس برآمد ہوئی تھی اور ایک برطانوی باشندہ ڈیوڈ ڈفرڈ بھی گرفتار کیا گیا تھا جو 5 برس بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا، ملزم کے خلاف پانچ چشم دید گواہوں کے بیانات اور ملزم کے اعترافی بیان سے جرم ثابت ہوا ہے۔

دریں اثنا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جوڈیشل منٹھار علی جتوئی نے پروفیسر زیبا زکیہ قتل کیس میں تفتیشی افسر شاہد قریشی کا بیان قلمبند کرلیا ہے تفتیشی افسر نے دونوں ملزمان سلیم اورخالدہ کو شناخت کیا اور انکی گرفتاری سے متعلق عدالت کو بتایا ملزمان کے قبضے سے برآمد شدہ سامان بھی عدالت میں پیش کیا ہے،تفصیلات کے مطابق تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈرائیور سلیم اور اس کی اہلیہ خالدہ مقتولہ کی گاڑی لے کر پنجاب فرار ہوگئے اور گاڑی خانیوال میں فروخت کردی ۔
Load Next Story