جاپان نے سیکیورٹی قانون بدل دیا
نئے قانون کے تحت حکومت جاپان اپنے فوجیوں کو سمندر پار تنازعات میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے بھیج سکے گی۔
جاپان نے پہلی مرتبہ 1992 میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے لیے اپنے دستے بھیجے جب کہ 2004میں عراق میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے فوجی بھجوائے۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر امریکا نے جاپان کے دو سب سے بڑے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر دو ایٹم بم گرا کرلاکھوں کی آبادی ہلاک کر دی جس پر جاپان ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا' تب فتح یاب ہونے والی اتحادی طاقتوں نے، جن کے برطانیہ اور امریکا سرخیل تھے، جاپان کو ایک ایسے عالمی معاہدے میں جکڑ دیا کہ وہ اپنی فوج نہیں رکھ سکتا سوائے اپنے دفاع کے لیے۔ اس پابندی کا فائدہ جاپان کو یہ ہوا کہ اس نے اپنی تمام توجہ اور وسائل صنعتی ترقی کے لیے وقف کر دیے جس کے نتیجے میں وہ سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ اب سات دہائیوں کے بعد جاپان نے اپنی فوج پر محض دفاعی فوج ہونے کی پابندی ختم کرتے ہوئے اسے بیرون ملک تنازعات میں اپنے حواریوں کی مدد کرنے کی اجازت دیدی ہے، جس کے لیے نیا قانون وضع کر لیا گیا ہے۔ جاپان حکومت کا موقف ہے کہ اسے اپنے ارد گرد شمالی کوریا جیسا ایٹمی صلاحیت والا ملک دوسری طرف کوریا کا بڑا سرپرست ملک چین موجود ہے جو کہ دور افتادہ جاپانی جزیروں پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے کی توسیع پسند پالیسیوں کو بروئے کار لا رہا ہے۔
دوسری طرف چین نے جاپان کے اپنی فوج کے بارے میں قانون میں تبدیلی کو تشویش کی نظر سے دیکھا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے جاپان ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ چین نے کہا ہے کہ جاپانی فوج پر صرف ملکی دفاع کی پابندی ختم ہونے سے پورے ریجن کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ جاپان کی حکمران مخلوط حکومت کی قیادت قوم پرست لیڈر شنزو ایبے کر رہے ہیں جنہوں نے اس قانون کو منظور کرانے کے لیے بہت فعال کردار کیا۔ اس کے بل (مسودہ قانون) پر کئی دن تک نہایت پر جوش بحث ہوتی رہی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت حکومت جاپان اپنے فوجیوں کو سمندر پار تنازعات میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے بھیج سکے گی۔
اس سے قبل مغربی ممالک نے جاپان پر جس قسم کی فوجی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جاپان اپنے ملک کے اوپر سے گزر کر کسی دوسرے ملک پر حملہ کے لیے جانے والے میزائل کو بھی مار کر نہیں گراسکتا تاآنکہ اس میزائل کا ہدف خود جاپان ہو تو اس صورت حال میں وہ خود حفاظتی کے اصول پر اس میزائل کو گرا سکے گا لیکن نئے قانون میں جاپان کو اب اپنے میزائل چلانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ تاہم جاپانی اپوزیشن بھی اس قانون سے مطمئن نہیں کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی شقیں پوری طرح واضح نہیں ہیں بلکہ ان میں ایک ابہام موجود ہے جو بعدازاں سنجیدہ مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ جب کہ جاپانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات کے تحت جاپان کو ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔ یاد رہے جاپان نے پہلی مرتبہ 1992 میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے لیے اپنے دستے بھیجے جب کہ 2004میں عراق میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے فوجی بھجوائے۔
دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر امریکا نے جاپان کے دو سب سے بڑے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر دو ایٹم بم گرا کرلاکھوں کی آبادی ہلاک کر دی جس پر جاپان ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا' تب فتح یاب ہونے والی اتحادی طاقتوں نے، جن کے برطانیہ اور امریکا سرخیل تھے، جاپان کو ایک ایسے عالمی معاہدے میں جکڑ دیا کہ وہ اپنی فوج نہیں رکھ سکتا سوائے اپنے دفاع کے لیے۔ اس پابندی کا فائدہ جاپان کو یہ ہوا کہ اس نے اپنی تمام توجہ اور وسائل صنعتی ترقی کے لیے وقف کر دیے جس کے نتیجے میں وہ سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ اب سات دہائیوں کے بعد جاپان نے اپنی فوج پر محض دفاعی فوج ہونے کی پابندی ختم کرتے ہوئے اسے بیرون ملک تنازعات میں اپنے حواریوں کی مدد کرنے کی اجازت دیدی ہے، جس کے لیے نیا قانون وضع کر لیا گیا ہے۔ جاپان حکومت کا موقف ہے کہ اسے اپنے ارد گرد شمالی کوریا جیسا ایٹمی صلاحیت والا ملک دوسری طرف کوریا کا بڑا سرپرست ملک چین موجود ہے جو کہ دور افتادہ جاپانی جزیروں پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے کی توسیع پسند پالیسیوں کو بروئے کار لا رہا ہے۔
دوسری طرف چین نے جاپان کے اپنی فوج کے بارے میں قانون میں تبدیلی کو تشویش کی نظر سے دیکھا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے جاپان ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ چین نے کہا ہے کہ جاپانی فوج پر صرف ملکی دفاع کی پابندی ختم ہونے سے پورے ریجن کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ جاپان کی حکمران مخلوط حکومت کی قیادت قوم پرست لیڈر شنزو ایبے کر رہے ہیں جنہوں نے اس قانون کو منظور کرانے کے لیے بہت فعال کردار کیا۔ اس کے بل (مسودہ قانون) پر کئی دن تک نہایت پر جوش بحث ہوتی رہی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت حکومت جاپان اپنے فوجیوں کو سمندر پار تنازعات میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے بھیج سکے گی۔
اس سے قبل مغربی ممالک نے جاپان پر جس قسم کی فوجی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جاپان اپنے ملک کے اوپر سے گزر کر کسی دوسرے ملک پر حملہ کے لیے جانے والے میزائل کو بھی مار کر نہیں گراسکتا تاآنکہ اس میزائل کا ہدف خود جاپان ہو تو اس صورت حال میں وہ خود حفاظتی کے اصول پر اس میزائل کو گرا سکے گا لیکن نئے قانون میں جاپان کو اب اپنے میزائل چلانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ تاہم جاپانی اپوزیشن بھی اس قانون سے مطمئن نہیں کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی شقیں پوری طرح واضح نہیں ہیں بلکہ ان میں ایک ابہام موجود ہے جو بعدازاں سنجیدہ مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ جب کہ جاپانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات کے تحت جاپان کو ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔ یاد رہے جاپان نے پہلی مرتبہ 1992 میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے لیے اپنے دستے بھیجے جب کہ 2004میں عراق میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے فوجی بھجوائے۔