پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور افغان حکومت

افغان حکومت بڈھ بیر بیس کیمپ سانحہ کےسلسلےمیں یہ تردید تو کر رہی ہےکہ اس حملےکا پلان افغانستان میں تیار نہیں کیا گیا

افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخلصانہ طور پر پاکستان سے مل کر کوششیں کرے صرف بیان بازی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ فوٹو : فائل

افغان ایوان صدر کے نائب ترجمان نے ایک بیان میں پاکستانی حکام کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ پشاور میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر حملے کی منصوبہ بندی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی۔انھوں نے کہا کہ افغانستان کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ اس کی سرزمین سے کسی ملک پر حملہ کیا جائے ان کا ملک خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ وفاقی مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بڈھ بیر کیمپ پر حملے کے شواہد اور ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں جنھیں افغانستان کو فراہم کریں گے، دونوں ممالک اپنے اپنے علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے پابند ہیں جس کے لیے مشترکہ کوششیں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی ضرورت ہے، باہمی تعاون ہی سے خطے میں دیرپا اور مضبوط امن قائم ہو سکے گا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ جتنا نقصان پاکستان کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں ہوا ہے اتنا کسی اور ملک کو نہیں ہوا، فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والا حملہ ہولناک اور قابل مذمت بھی ہے یہ واقعہ نیا نہیں ہے لیکن لگتا ہے کہ یہ حملہ اس قسم کی کارروائیوں میں اضافہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائیوں کے دوران 28 دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاک افغان سرحد طورخم پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

افغان حکومت بڈھ بیر بیس کیمپ سانحہ کے سلسلے میں یہ تردید تو کر رہی ہے کہ اس حملے کا پلان افغانستان میں تیار نہیں کیا گیا مگر اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کے پاس اس تردید کے کیا ثبوت ہیں اور کس بنیاد پر وہ ایسا کر رہی ہے جب کہ حقیقت حال یہ ہے کہ افغانستان سے اکثر و بیشتر دہشت گردوں کے گروہ پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بناتے اور دوبارہ افغانستان فرار ہو جاتے ہیں جب کہ افغان سیکیورٹی ادارے انھیں روکنے یا گرفتار کرنے میں قطعی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ملا فضل اللہ سمیت پاکستان کو مطلوب بہت سے دہشت گرد اب بھی افغانستان میں موجود ہیں اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی بہت سی کارروائیوں میں ان کے رابطوں اور منصوبہ بندی کی تصدیق ہوئی ہے مگر افغان حکومت ابھی تک کوئی بھی دہشت گرد گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے نہیں کر سکی اور نہ اس کی جانب سے ایسے اقدامات ہی سامنے آئے ہیں جس سے یہ عیاں ہو کہ وہ پاکستان سے ملحقہ سرحدی دہشت گردی روکنے کے لیے سنجیدہ ہے' دوسری جانب پاکستان متعدد دہشت گرد پکڑ کر افغان حکومت کے حوالے کر چکا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ افغان حکومت بھی دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کرتی اور پاکستان کو مطلوب دہشت گرد گرفتار کر کے اس کے حوالے کرتی۔


دہشت گردی کی سابقہ کارروائیوں کے تناظر میں یہ کہنا کوئی مشکل نہیں کہ بڈھ بیر کیمپ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان کے اندر ہی سے کی گئی ہے، بلاشبہ اس حملے میں افغان ریاست اور حکومت کا کوئی کردار نہیں لیکن افغانستان میں موجود نان اسٹیٹ ایکٹرز اس میں ضرور شامل ہو سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگر پاکستان تمام ثبوت افغان حکومت کے حوالے کردیتا ہے تو افغان حکومت کا ردعمل کیا ہوتا ہے، آیا وہ دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرے گی یا ماضی کی طرح خاموش تماشائی کا کردار ادا کرے گی۔ اگر افغان حکومت پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرتی تو ممکن ہے کہ آج بڈھ بیر بیس کیمپ جیسے سانحات رونما نہ ہوتے۔آخر افغان حکومت پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہی، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں اس وقت بھارتی ایجنسی ''را'' کا بہت زیادہ اثر ہے افغان انٹیلی جنس ایجنسی خاد کے دل میں پاکستان کے لیے بہت بغض ہے اور بہت سے علاقوں میں افغان فورسز کی رٹ بھی نہیں ہے، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی طرف سے 1150 پوسٹیں ہیں جب کہ اس کے مقابل افغانستان کی طرف سے صرف 50 پوسٹیں قائم کی گئی ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ افغان حکومت سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی روکنے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔

پاکستان کے بارے میں افغان حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کا رویہ بھی بھارتی حکومت اور اداروں کی طرح متعصبانہ اور نفرت پر مبنی ہے جس طرح بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کا الزام بلاتاخیر پاکستان پر تھوپ دیا جاتا ہے اسی طرح افغانستان میں بھی ہونے والی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا الزام بلاتحقیق اور ثبوت کے پاکستان کے سر پر منڈھ دیا جاتا ہے، اس طرح پاکستان مشرقی اور شمال مغربی سرحد ہر دو جانب سے مشکلات کا شکار ہے۔ افغان انٹیلی جنس ادارے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جن سانپوں کو پال رہے ہیں آنے والے کل میں وہ ان کو بھی ڈس سکتے ہیں اس لیے افغانستان کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کے لیے افغان حکومت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانے کے علاوہ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں میں موجود بھارت کی حامی اور پاکستان مخالف لابی کو بھی بے اثر کرنا ہوگا۔

ایسی اطلاعات بھی سننے میں آ رہی ہیں کہ یہی لابی موجودہ افغان حکومت کو بھی اپنے زیر اثر لانے کی تگ ودو کر رہی ہے جس کے اشارے افغان صدر اشرف غنی کے روئیے میں تبدیلی اور پاکستان مخالف بعض بیانات سے ملتے ہیں۔ جب تک یہ لابی موجود ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات قائم نہیں ہو سکتے کیونکہ جب بھی دوستانہ تعلقات کی ہوا چلے گی تو امن مخالف یہ دشمن کوئی نہ کوئی ایسی دہشت گردی کی کارروائی کر دیں گے جس سے امن کی کوششیں پس منظر میں چلی جائیں گی۔ افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخلصانہ طور پر پاکستان سے مل کر کوششیں کرے صرف بیان بازی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
Load Next Story