کر تو رہے ہیں جو کرنا چاہیے

گزشتہ روز بڑی مدت کے بعد ایک دانشورانہ قسم کی تقریب کا ’’شکار‘‘ ہونا پڑا،

barq@email.com

KARACHI:
گزشتہ روز بڑی مدت کے بعد ایک دانشورانہ قسم کی تقریب کا ''شکار'' ہونا پڑا، کیا بتائیں نظریہ پاکستان سے لے کر نظریہ ضرورت تک آپریشن گڈ ڈے سے لے کر آپریشن بلیک نائٹ تک اور مسئلہ فلسطین سے لے کر مسئلہ کشمیر تک کیا کیا گل فشانیاں سننی بلکہ سہنی پڑیں، کیونکہ کچھ دانشوروں کے لیے ''انسانی کان'' ایک طرح سے پیمانہ صہبا ہوتے ہیں جنھیں اپنے سامنے دیکھ کر ایسی ایسی گل افشانیوں پر اتر آتے ہیں کہ جی جانتا ہے، اس قسم کی تقریبات سے کافی عرصہ ہوا ہم بڑی سختی سے پرہیز کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں ان سے بڑی شدید قسم کی الرجی لاحق ہو جاتی ہے اور یہ الرجی اگر خارش یا نزلے کی صورت میں ہوتی تو پھر بھی ہم الرجی کی گولیاں پہلے سے کھا کر گزارہ کر لیتے لیکن ہماری یہ الرجی آنکھیں بند کرنے کی شکل میں ہوتی ہے' جیسے ہی تقریب کا آغاز ہوتا ہے ہمارے پیوٹے بھاری ہونے لگتے ہیں۔

بعض اوقات تو ہمارے خراٹوں سے قرب و جوار کے سونے والے تو کیا مقررین تک ڈسٹرب ہو جاتے ہیں، لیکن پرابلم یہ ہے کہ انسان کے ساتھ ہزار مجبوریاں لگی ہوئی ہیں جن میں سے ایک یہ دو ''عدد کان'' بھی ہیں جو سر کے ایک اور دوسری طرف لگے ہوئے ہوتے ہیں اور بے چاری کھوپڑی ان دو عذاب کے فرشتوں کے درمیان بری طرح پھنسی ہوئی ہوتی ہے، آنکھیں تو انسان کے اختیار میں ہوتی ہیں اور ان کے اوپر پیوٹوں کی صورت میں ڈھکن بھی ہوتے ہیں لیکن ان کم بخت کانوں کا کیا علاج ہو کہ ان بغیر دروازے کے راستے کو ہم بند بھی نہیں کر سکتے ایک طرح سے شاہراہ عام سمجھ لیجیے کہ جس کا جی چاہیے منہ اٹھائے گھسی چلی آتی ہے، چنانچہ دانشورانہ تقریب میں آنکھیں تو ہم بند کر لیتے ہیں لیکن کانوں میں کچھ نہ کچھ پڑتا ہی رہتا ہے جسے ہم حتی الوسع ٹریفک حوالدار کی طرح ہاتھ سیدھا کر کے ''راستہ'' دیتے رہتے ہیں لیکن کچھ نہ کچھ ''گھس بیٹھیے'' ''گھس بیٹھ'' کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں پریشان کرتے رہتے ہیں

کوئی کشش تو عدمؔؔ ہے غریب خانے میں
تمام ''دہر'' کے آلام آئے بیٹھے ہیں

جس تقریب سعید کا ہم ذکر کر رہے تھے' بدقسمتی اور پھر مزید بدقسمتی سے اس میں زیادہ تعداد ''بھوت'' دانشوروں کی تھی، بھوت دانشوروں کے بارے میں تو ہم آپ کو کئی بار بتا چکے ہیں جو سرکاری نوکری سے ''ریٹائرڈ'' ہونے کی موت مرتے ہیںاور اپنی جگہ اپنی اولادوں کو بٹھا کر قوم سے وہ ادھورا انتقام لینے کے لیے دانشور بن جاتے ہیں جو سرکاری ملازمت میں پورا نہیں کر پائے ہوتے ہیں اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ بھوت وہ لوگ بنتے ہیں جن کی کوئی آرزو کوئی خواہش تشنہ رہ گئی ہو، حالانکہ یہ ریٹائرمنٹ کی موت مرنے والے زندگی یعنی عرصہ ملازمت میں جی بھر کر قوم سے انتقام لیتے ہیں لیکن پھر بھی

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

چنانچہ آج کل تقریبات میں، ٹی وی ٹاک شوز میں اور اخباری صفحات پر ایسے ''بھوت دانشور'' باقاعدہ یلغار کیے ہوئے ہیں۔ یہ ایک طرح سے ''فرائی پان'' ہوتے ہیں، فرائی پان کو دیہاتی اصطلاح میں ''ہرکار'' کہا جاتا تھا یہ ایک لوہے کی کڑچھی سی ہوتی تھی اور جو بھی فوری کام آ پڑتا تھا۔ اس سے لیا جاتا ہے مثلاً جلدی سے آملیٹ بنانا، کسی چیز کو بگھار دینا حتیٰ کہ ٹکور دینے کے لیے تیل ہلدی گرم کرنا، فوری طور پر مکھن پگھلانا، ایک دو افراد کے لیے جلدی سے کچھ بنانا چنانچہ آج کل یہ ہرکارے بھوت دانشور عرف ماہرین تقریباً ہر جگہ نظر آتے ہیں اور اپنی مصنوعی دانش اور تجربات سے قوم کا دماغ جو پہلے ہی سے کچھ اچھی حالت میں نہیں مزید خراب کر کے انتقام لیتے رہتے ہیں ؎

یعنی شامت اعمال ما صورت نادر گرفت


نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
جو واں نہ کھچ سکے وہ یہاں آ کے دم ہوئے

تقریب بالکل ہی ویسی تھی جو ہوا کرتی ہے۔ ایک صدر ایک مہمان خصوصی تلاوت کلام پاک اور پھر ایک نہایت ہی ظالمانہ جابرانہ اور وحشیانہ یلغار شروع ہوئی، دماغوں کے کشتوں کے پشتے لگے گئے اور حاضرین آہستہ آہستہ محو خواب ہونے لگے، سو ملی گرام خواب آور تقریریں تو عام سی بات ہے لیکن چند تقریریں کچھ ڈبل ٹرپل ایکشن اور سپر ایکشن بھی ہوئیں، اور کمال کی بات یہ ہے کہ انڈین فلموں، سیاسی پارٹیوں رومانوی شاعری اور پاکستانی ترانوں کی طرح سب میں ایک ہی بات ایک ہی آئیڈیا اور ایک ہی مرکزی خیال تھا وہی جانا پہچانا ایک لاکھ چوبیس ہزار سال پرانا خیال ۔۔۔۔ کہ ہم کہاں کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے ہیں ہم کہاں جا رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے وہ تو جس نے بقدر ہمت اور منتظمین کے دیے ہوئے وقت تو جس نے جو بولنا تھا بول ڈالا اور ایسا بول ڈالا کہ اگر نہ بھی بولتے تو بھی بول دیا جاتا کیونکہ ستر سال سے جو بولا جا رہا ہے وہ تو اب دیواروں ہواؤں فضاؤں اور دریا صحراؤں کو بھی ازبر ہو چکا ہے

اشک سے میرے فقط دامن صحرا نہیں تر
کوہ بھی سب ہیں کھڑے تا بہ کمر پانی میں

نئی بات ساری تقریب میں یہ ہوئی کہ کوئی نئی بات نہیں ہوئی اور سننے کی لائق یہ بات ہوئی کہ کچھ بھی سننے لائق نہیں سنا گیا' وہی پرانی گلی سڑی بدبو دار اور بوریت کی بوریاں کہ ''چاروں طرف سے بلکہ شش جہات سے کیونکہ زمینی اور سماوی آفات بھی شامل کر لیجیے ہمارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں کیونکہ ہماری بے پناہ ترقی دشمنوں سے دیکھی نہیں جا رہی ہے خاص طور پر یہود و ہنود چونکہ ہم سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہم بس آج ہی کل میں ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے ہیں، بحر ظلمات اور دشت افلاک میں گھوڑے دوڑانے والے ہیں تمام ضروریات میں نہ صرف خود کفیل ہو چکے ہیں بلکہ تقریباً ساری دنیا کو ہم ہی کھلا پلا رہے ہیں۔ اپنی مٹی کو ہم سونا پتھروں کو لعل و جواہر پانیوں کو شیر و شہد اور ہواؤں کو قلعوں اور محلوں کی تعمیر کے لیے تیار کر چکے ہیں جب کہ یہ کم بخت ابھی تک پسماندہ غربت زدہ اور خوار و زار ہیں اس اکیسویں صدی میں بھی ''قبل آدم'' میں رہ رہے ہیں۔

بھوکوں مر رہے ہیں' ننگے پھر رہے ہیں' کاسئہ گدائی لیے ہوئے ہیں اس لیے ہماری بے پناہ ترقی سے جل کر ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں'' یہاں تک تو تشبیب یا تمہید سمجھ لیجیے اس کے بعد ''گریز'' کا مرحلہ بھی جانا پہچانا ہے یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے، پس چہ بائد کرد، ظاہر ہے کہ اس کے بعد کا بھی ہر کسی کو پتہ ہوتا ہے کہ اب کیا کہا جائے گا، خود ہمارا تجربہ تو اتنا ہے کہ ہم پہلے ہی سے بتا سکتے ہیں کہ اب یہ کیا کہے گا لفظ لفظ حرف حرف اور فل اسٹاپ اور کوئسچن مارک تک طے شدہ ہوتے ہیں، یعنی ہمیں حکومت اور اس کے کل پرزوں کے ہاتھ مضبوط کر کے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے حالانکہ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کے پارٹنرز کے ہاتھ پہلے ہی سے اتنے مضبوط ہیں' اتنے آہنی ہیں اتنے فولادی اور محفوظ ہیں کہ عوام کی گردن کا منکہ ٹوٹنے کے قریب ہے لیکن پھر بھی ایسے مقررین باز کیسے رہ سکتے ہیں کیونکہ اپنی پاپولر اور مشاعرہ لوٹ غزل کون سا شاعر سنانے سے باز رہ سکتا ہے۔

اس کلائمیکس کو اچھی طرح مکس اور فکس کرنے کے بعد وہ مقام آتا ہے جو موت کی طرح برحق اور اجل کی طرح اٹل ہے، یہاں یہاں شف شف چھوڑ کر باقاعدہ شفتالو کو باہر نکالا جاتا ہے اور دشمن بلکہ دشمنوں کو براہ راست للکار کر وہ مشہور و معروف ڈائیلاگ بولے جاتے ہیں جو شاید حضرت آدم نے تحریر کیے تھے کہ ۔۔۔ ''تم کو پتہ نہیں کہ تم نے کس کو للکارا ہے' ہم تمہاری آنکھیں نکال کر گوٹیاں کھیلیں گے اور دانت اکھاڑ کر شطرنج کے مہرے بنا دیں گے، تم کو پتہ نہیںکہ آخر ہم کن کن سورماؤں کی اولاد ہیں'' یہ مقام تھوڑا سا کامیڈی تاثر بھی دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس قسم کے ڈائیلاگ زیادہ تر وہی بھوت دانشور بولتے ہیں جو تین تین نوکریاں بھگتانے کے بعد کھڑے بھی نہیں ہو سکتے اور بیٹھ کر ہلتی گردن اور لرزتے کانپتے وجود کے ساتھ ''للکارتے'' ہیں۔

یہ سب کچھ بھگتانے بلکہ صحیح معنوں میں اپنی نیند پوری کرنے کے بعد وہ مرحلہ آیا جس کا سب کو انتظار تھا یعنی تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آ گیا، تقریروں سے حاضرین کو خوب تیز اور گرم کیا گیا تھا چنانچہ دشمن پر ٹوٹ پڑنے کا منظر دیکھنے والا تھا' تھوڑی ہی دیر میں دشمن مرغ اور دوسرے اجناس ''زد'' میں تھے، ہمارے ہی جیسا ایک دل جلا کونے میں کھڑا دشمن کے بخیئے ادھیڑ رہا تھا قریب جا کر پوچھا ، ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ وہ ہال پہ نظر ڈال کر بولا ، کر تو رہے ہیں جو کرنا چاہیے۔
Load Next Story