زمبابوے کا شکار کرنے کیلئے پاکستانی ہتھیاروں کی جانچ مکمل
تربیتی کیمپ کے اختتامی روز کھلاڑیوں کی مشقیں، قومی اسکواڈ 22اور 23 ستمبرکی درمیانی شب ہرارے روانہ ہوگا
انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیوں کی ضرورت نہیں،ورلڈ ٹی 20سے قبل تجربات کرسکتے ہیں، ہیڈ کوچ وقار یونس۔ فوٹو: فائل
SUKKUR/KARACHI:
کمزور زمبابوے کا شکار کرنے کیلیے پاکستان نے ہتھیاروں کی جانچ مکمل کرلی، تربیتی کیمپ کے آخری روزکھلاڑیوں کو وکٹوں کے درمیان دوڑنے کی طویل مشقیں کرائی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق کمزور حریف زمبابوے پر پوری شدت سے حملہ آور ہونے کیلیے پاکستان نے ہتھیاروں کی آزمائش کرلی، مختصر تربیتی کیمپ کا قذافی اسٹیڈیم میں اختتام ہوگیا، 2 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچز کھیلنے کیلیے قومی اسکواڈ 22اور 23 ستمبرکی درمیانی شب ہرارے روانہ ہوگا، اتوارکوکیمپ کے دوران موسم خاصا خوشگوار رہا،کھلاڑیوں نے فیلڈنگ کے دوران اونچے اسٹروکس پر کیچ تھامنے پر خصوصی توجہ دی، بعد ازاں بیٹنگ اور بولنگ پریکٹس کی گئی، ہیڈکوچ وقار یونس اور معاون اسٹاف نے وکٹوں کے درمیان دوڑنے کی طویل مشقیں کرائیں، عمر اکمل بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کی توجہ کا مرکز رہے، دیگر بیٹسمین بھی صلاحتیں نکھارنے میں سرگرم رہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہیڈ کوچ وقار یونس نے کہا کہ قومی ٹیم میں نئے ٹیلنٹ کی شمولیت خوش آئند ہے، نوجوان کھلاڑی عمدہ پرفارمنس دکھا رہے ہیں، انھیں محمد حفیظ، شاہد آفریدی، عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسے سینئرز کی مدد بھی حاصل رہے گی، میری پوری توجہ اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ ٹیم اچھا کھیلے، زمبابوے کیخلاف بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے سیریز جیتنے کی کوشش کریں گے، میزبان ملک کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے پلیئنگ الیون کا انتخاب کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ ڈومیسٹک اسٹرکچر کو بہتر کریں گے تو انٹرنیشنل کرکٹ بہتر ہو گی،حال ہی میں ملکی سطح پر اچھے مقابلوں سے نئے ٹیلنٹ کو بہت فائدہ حاصل ہوا ہے، بتدریج نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے۔
ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم کافی عرصے سے اچھا کھیل پیش کر رہی ہے اس لیے انہیں آسان نہیں لیں گے،ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری کارکردگی اچھی ہے، قومی ٹیم میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے، اس وقت ہم بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، بھارت میں آئندہ برس شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ سے پہلے درست کمبی نیشن بنانے کیلیے کافی سیریز ہیں، تیز کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کیلیے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں تجربات کرسکتے ہیں تاکہ میگا ایونٹ سے قبل اچھے کھلاڑی منتخب کرلیں،مستقبل کی تیاری کیلیے زمبابوے کیخلاف سیریز سے بھی فائدہ اٹھائیں گے۔
عمران خان جونیئر کی کارکردگی سے سب ہی متاثر ہیں، میرا طریقہ کار کچھ لوگوں کو پسند ہے اور کچھ کو نہیں، تنقید مثبت ہو تو برا نہیں مناتا اور خوشدلی سے سنتا ہوں، بلا وجہ ہو تو ہنس کر ٹال دیتا ہوں، صرف اور صرف گرین شرٹس کی کارکردگی میں بہتری لانے پر نظر ہوتی ہے، سری لنکا کیخلاف کامیابی کے بعد تنقید سمجھ سے باہر ہے، میر ی کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم اچھا کھیلے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو، فی الحال میری توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ٹیم نہ صرف زمبابوے بلکہ بعد ازاں انگلینڈ کیخلاف سیریز میں بھی کامیابی حاصل کرے،یاسر شاہ ٹیم کے اہم بولر ہیں، ان سے ہمیشہ توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔
کمزور زمبابوے کا شکار کرنے کیلیے پاکستان نے ہتھیاروں کی جانچ مکمل کرلی، تربیتی کیمپ کے آخری روزکھلاڑیوں کو وکٹوں کے درمیان دوڑنے کی طویل مشقیں کرائی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق کمزور حریف زمبابوے پر پوری شدت سے حملہ آور ہونے کیلیے پاکستان نے ہتھیاروں کی آزمائش کرلی، مختصر تربیتی کیمپ کا قذافی اسٹیڈیم میں اختتام ہوگیا، 2 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچز کھیلنے کیلیے قومی اسکواڈ 22اور 23 ستمبرکی درمیانی شب ہرارے روانہ ہوگا، اتوارکوکیمپ کے دوران موسم خاصا خوشگوار رہا،کھلاڑیوں نے فیلڈنگ کے دوران اونچے اسٹروکس پر کیچ تھامنے پر خصوصی توجہ دی، بعد ازاں بیٹنگ اور بولنگ پریکٹس کی گئی، ہیڈکوچ وقار یونس اور معاون اسٹاف نے وکٹوں کے درمیان دوڑنے کی طویل مشقیں کرائیں، عمر اکمل بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کی توجہ کا مرکز رہے، دیگر بیٹسمین بھی صلاحتیں نکھارنے میں سرگرم رہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہیڈ کوچ وقار یونس نے کہا کہ قومی ٹیم میں نئے ٹیلنٹ کی شمولیت خوش آئند ہے، نوجوان کھلاڑی عمدہ پرفارمنس دکھا رہے ہیں، انھیں محمد حفیظ، شاہد آفریدی، عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسے سینئرز کی مدد بھی حاصل رہے گی، میری پوری توجہ اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ ٹیم اچھا کھیلے، زمبابوے کیخلاف بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے سیریز جیتنے کی کوشش کریں گے، میزبان ملک کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے پلیئنگ الیون کا انتخاب کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ ڈومیسٹک اسٹرکچر کو بہتر کریں گے تو انٹرنیشنل کرکٹ بہتر ہو گی،حال ہی میں ملکی سطح پر اچھے مقابلوں سے نئے ٹیلنٹ کو بہت فائدہ حاصل ہوا ہے، بتدریج نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے۔
ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم کافی عرصے سے اچھا کھیل پیش کر رہی ہے اس لیے انہیں آسان نہیں لیں گے،ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری کارکردگی اچھی ہے، قومی ٹیم میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے، اس وقت ہم بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، بھارت میں آئندہ برس شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ سے پہلے درست کمبی نیشن بنانے کیلیے کافی سیریز ہیں، تیز کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کیلیے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں تجربات کرسکتے ہیں تاکہ میگا ایونٹ سے قبل اچھے کھلاڑی منتخب کرلیں،مستقبل کی تیاری کیلیے زمبابوے کیخلاف سیریز سے بھی فائدہ اٹھائیں گے۔
عمران خان جونیئر کی کارکردگی سے سب ہی متاثر ہیں، میرا طریقہ کار کچھ لوگوں کو پسند ہے اور کچھ کو نہیں، تنقید مثبت ہو تو برا نہیں مناتا اور خوشدلی سے سنتا ہوں، بلا وجہ ہو تو ہنس کر ٹال دیتا ہوں، صرف اور صرف گرین شرٹس کی کارکردگی میں بہتری لانے پر نظر ہوتی ہے، سری لنکا کیخلاف کامیابی کے بعد تنقید سمجھ سے باہر ہے، میر ی کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم اچھا کھیلے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو، فی الحال میری توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ٹیم نہ صرف زمبابوے بلکہ بعد ازاں انگلینڈ کیخلاف سیریز میں بھی کامیابی حاصل کرے،یاسر شاہ ٹیم کے اہم بولر ہیں، ان سے ہمیشہ توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔