دہشت گردی مخالف جنگکچھ زمینی حقائق
بڈھ بیر سیکوئنس بھی دہشت گردی کی ایک ہولناک واردات سے جڑا ہوا ہے
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ سلامتی پر مامور فورسز نے بڈھ بیر کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ رکھا ،
بڈھ بیر میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر حملے میں مارے جانے والے 14 دہشت گردوں میں سے پانچ کی شناخت ہوگئی ہے جن میں تین کا تعلق باڑہ خیبرایجنسی جب کہ 2 کا سوات سے بتایا جاتا ہے جن کی تصاویر اورشناختی کارڈزکی کاپیاں، پولیس، پولیٹیکل حکام اورمیڈیاکوجاری کر دی گئی ہیں ،لیکن سانحے کے کئی اہم پہلو ابھی تشنہ تحقیقات رہیں گے جب تک کہ واقعے کے دیگر سہولت کاروں اور ان مجرموں کو پناہ دینے والوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، دہشت گرد ریاستی نظام کے خلاف ایک ایسے دہشتگردانہ ایجنڈے کی تکمیل پرکمر بستہ ہیں، جن کو داخلی طور پر مختلف شہروں،دشوارگزار سنگلاخ راستوں اور فاٹا کے دورافتادہ اور شہروں سے ملحقہ ''خفیہ ٹھکانوں'' سے افرادی ، رہائشی اورلاجسٹک سپورٹ ملتی رہتی ہے۔
یوں بڈھ بیر سانحے کوآسان ہدف بناتے ہوئے جو لوگ خونیں واردات کا سبب بنے وہ سلامتی، ریڈ الرٹ میں مضمرکوتاہیوں اور سیکیورٹی کی داخلی صورتحال کی کمزوریوں سے بھی کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا کر حملہ آور ہوئے، کراچی میں صفورا سانحے کے ملزمان کراچی میں موجود تھے۔ لہٰذا تحقیقات کی سمت اس جانب ہونی چاہیے کہ ملزمان کو سہولت کارکیسے اورکہاں سے میسر آئے، ان کی شناخت ناگزیر ہے تاکہ ان کی گرفتاری کے لیے فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک دشمن عناصر اور قومی اداروں پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اسی میکانزم اور انتھک محنت سے نتائج حاصل کرنے چاہئیں جیسی جرات اور پیشہ وارانہ مہارت اور بہترین انٹیلی جنس کے ذریعے 16 دسمبر2014 کے آرمی پبلک اسکول پشاور کے دردناک واقعے کے سہولت کاروں کوگرفتار کیا گیا۔
یہ وہ انسانیت دشمن غارت گران قوم و ملک تھے جنھوں نے خود کش حملہ آوروں کے لیے سہولت کارکا کردار ادا کیا۔بڈھ بیر سیکوئنس بھی دہشت گردی کی ایک ہولناک واردات سے جڑا ہوا ہے ، دہشت گرد نیٹ ورک نے بڈھ بیر ایئر بیس پر حملہ اپنی خوفناک موجودگی کا احساس دلانے کے لیے بھی کیا ہوگا کیونکہ ملکی اور عالمی میڈیا اس کے تتر بتر ہونے کا اعلان جس شدو مد سے کررہا تھا اس میں انتہا پسندوں اور دہشتگردوں نے اپنی بقا اایک اور واردات کے ارتکاب میں ہی مضمر سمجھی۔اس لیے سانحہ بڈھ بیر پر سیکیورٹی اور اہداف کے تحفظ کے اقدامات اور الرٹ کے حوالے سے چند سوال اٹھ رہے ہیں ۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ سلامتی پر مامور فورسز نے بڈھ بیر کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ رکھا ، دہشت گرد مطلوبہ حساس شعبوں تک رسائی حاصل کرلیتے اور بروقت مارے نہ جاتے تو جانی ، مالی اورتنصیباتی نقصان کا تصور بھی محال تھا۔مگر جہاں تک داخلی صورتحال کا تعلق ہے اسے ہماری عسکری ڈاکٹرائن کے تحت بیرونی جارحیت سے زیادہ خطرناک اور اعصاب شکن قرار دیا گیا، اس اندر کے دشمن نے کس طرح سوات اور افغانستان کے دور دراز علاقوں سے لاجسٹک سپورٹ دے کر دہشت گردں کو سیف ہیون مہیا کیے، ٹرانسپورٹ دلائی، اس کا کھوج لگانا اولین شرط ہے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بڈھ بیر کیمپ پر حملہ کرنیوالے دہشتگردوں کے کوائف افشاء کرنے کی تحقیقات کا حکم دیدیا اور کہا ہے کہ اس مرحلے پر واقعے میں ملوث دہشتگردوں کے کوائف ظاہر کرنے سے تفتیش پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔بلاشبہ دہشتگردوں کے کوائف ظاہر کرنے کی عجلت سے تفتیش پرمنفی اثر پڑسکتا ہے لیکن جو دہشت گرد پاکستانی نہیں لگتے ان کی شہریت کے لیے اب جتنا وقت درکار ہو اسے کم سے کم کرنے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے اور ایک ریپڈ فورس کی طرح کی ریپڈ انوسٹی گیشن ناگزیر ہے ۔
تاہم اگرانٹیلی جنس شیئرنگ پاور فل ہوتی ، فاٹا کی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا کی پولیس اپنے تھانوں کی حدود میں دہشت گردوں کی نقل و حمل میں چابک دستی دکھاتی ، پولیٹیکل پارٹیاں متحرک ہوتیں ، جب کہ پاک افغان سرحد سے پاکستان میں داخل ہونے والوں کی مانیٹرنگ میں لمحے کی خطا بھی نہ ہوتی تو ایسی واردات کی پیش بندی بھی کی جا سکتی تھی۔
اب بھی وقت ہے کہ تحقیقات کوکامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے فاٹا سمیت پورے ملک کی سول ایڈمنسٹریشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرنا اشد ضروری ہے۔پولیٹیکل ایجنٹ خیبرایجنسی شہاب علی شاہ نے بتایا کہ ہلاک ہونیوالے تین حملہ آور جن کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے جنھوں نے نہ صرف سہولت کار کا کام کیا بلکہ راستہ بھی انھوں نے پلان کیا تھا اور حملے میں خود حصہ لے کر ہلاک ہوگئے ان کے مزید سہولت کاروں کو جلد گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اب اس سانحے کے تناظر میں ایک سیاسی حقیقت کا اظہار اس لیے بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں کا عملی کردار بڑھ گیا ہے، سیاسی فورمز پر نہ تو دہشت گردی سے نمٹنے کی فکری نشستیں ہیں اور نہ مقتدر پی پی ، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی قیادت دہشت گردی مخالف مہم چلانے کی زحمت گوارا کرتی ہیں، ایسا محسوس ہوتا کہ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کی ساری ذمے داری فوج پر ڈال دی ہے۔جب کہ یہ قومی جنگ ہے اس میں سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔یہ مشترکہ عمل کا وقت ہے۔
یوں بڈھ بیر سانحے کوآسان ہدف بناتے ہوئے جو لوگ خونیں واردات کا سبب بنے وہ سلامتی، ریڈ الرٹ میں مضمرکوتاہیوں اور سیکیورٹی کی داخلی صورتحال کی کمزوریوں سے بھی کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا کر حملہ آور ہوئے، کراچی میں صفورا سانحے کے ملزمان کراچی میں موجود تھے۔ لہٰذا تحقیقات کی سمت اس جانب ہونی چاہیے کہ ملزمان کو سہولت کارکیسے اورکہاں سے میسر آئے، ان کی شناخت ناگزیر ہے تاکہ ان کی گرفتاری کے لیے فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک دشمن عناصر اور قومی اداروں پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اسی میکانزم اور انتھک محنت سے نتائج حاصل کرنے چاہئیں جیسی جرات اور پیشہ وارانہ مہارت اور بہترین انٹیلی جنس کے ذریعے 16 دسمبر2014 کے آرمی پبلک اسکول پشاور کے دردناک واقعے کے سہولت کاروں کوگرفتار کیا گیا۔
یہ وہ انسانیت دشمن غارت گران قوم و ملک تھے جنھوں نے خود کش حملہ آوروں کے لیے سہولت کارکا کردار ادا کیا۔بڈھ بیر سیکوئنس بھی دہشت گردی کی ایک ہولناک واردات سے جڑا ہوا ہے ، دہشت گرد نیٹ ورک نے بڈھ بیر ایئر بیس پر حملہ اپنی خوفناک موجودگی کا احساس دلانے کے لیے بھی کیا ہوگا کیونکہ ملکی اور عالمی میڈیا اس کے تتر بتر ہونے کا اعلان جس شدو مد سے کررہا تھا اس میں انتہا پسندوں اور دہشتگردوں نے اپنی بقا اایک اور واردات کے ارتکاب میں ہی مضمر سمجھی۔اس لیے سانحہ بڈھ بیر پر سیکیورٹی اور اہداف کے تحفظ کے اقدامات اور الرٹ کے حوالے سے چند سوال اٹھ رہے ہیں ۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ سلامتی پر مامور فورسز نے بڈھ بیر کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ رکھا ، دہشت گرد مطلوبہ حساس شعبوں تک رسائی حاصل کرلیتے اور بروقت مارے نہ جاتے تو جانی ، مالی اورتنصیباتی نقصان کا تصور بھی محال تھا۔مگر جہاں تک داخلی صورتحال کا تعلق ہے اسے ہماری عسکری ڈاکٹرائن کے تحت بیرونی جارحیت سے زیادہ خطرناک اور اعصاب شکن قرار دیا گیا، اس اندر کے دشمن نے کس طرح سوات اور افغانستان کے دور دراز علاقوں سے لاجسٹک سپورٹ دے کر دہشت گردں کو سیف ہیون مہیا کیے، ٹرانسپورٹ دلائی، اس کا کھوج لگانا اولین شرط ہے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بڈھ بیر کیمپ پر حملہ کرنیوالے دہشتگردوں کے کوائف افشاء کرنے کی تحقیقات کا حکم دیدیا اور کہا ہے کہ اس مرحلے پر واقعے میں ملوث دہشتگردوں کے کوائف ظاہر کرنے سے تفتیش پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔بلاشبہ دہشتگردوں کے کوائف ظاہر کرنے کی عجلت سے تفتیش پرمنفی اثر پڑسکتا ہے لیکن جو دہشت گرد پاکستانی نہیں لگتے ان کی شہریت کے لیے اب جتنا وقت درکار ہو اسے کم سے کم کرنے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے اور ایک ریپڈ فورس کی طرح کی ریپڈ انوسٹی گیشن ناگزیر ہے ۔
تاہم اگرانٹیلی جنس شیئرنگ پاور فل ہوتی ، فاٹا کی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا کی پولیس اپنے تھانوں کی حدود میں دہشت گردوں کی نقل و حمل میں چابک دستی دکھاتی ، پولیٹیکل پارٹیاں متحرک ہوتیں ، جب کہ پاک افغان سرحد سے پاکستان میں داخل ہونے والوں کی مانیٹرنگ میں لمحے کی خطا بھی نہ ہوتی تو ایسی واردات کی پیش بندی بھی کی جا سکتی تھی۔
اب بھی وقت ہے کہ تحقیقات کوکامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے فاٹا سمیت پورے ملک کی سول ایڈمنسٹریشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرنا اشد ضروری ہے۔پولیٹیکل ایجنٹ خیبرایجنسی شہاب علی شاہ نے بتایا کہ ہلاک ہونیوالے تین حملہ آور جن کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے جنھوں نے نہ صرف سہولت کار کا کام کیا بلکہ راستہ بھی انھوں نے پلان کیا تھا اور حملے میں خود حصہ لے کر ہلاک ہوگئے ان کے مزید سہولت کاروں کو جلد گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اب اس سانحے کے تناظر میں ایک سیاسی حقیقت کا اظہار اس لیے بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں کا عملی کردار بڑھ گیا ہے، سیاسی فورمز پر نہ تو دہشت گردی سے نمٹنے کی فکری نشستیں ہیں اور نہ مقتدر پی پی ، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی قیادت دہشت گردی مخالف مہم چلانے کی زحمت گوارا کرتی ہیں، ایسا محسوس ہوتا کہ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کی ساری ذمے داری فوج پر ڈال دی ہے۔جب کہ یہ قومی جنگ ہے اس میں سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔یہ مشترکہ عمل کا وقت ہے۔