بدعنوانی کا خاتمہ لازمی ہونا چاہیے

اس وقت ملکی ترقی کی راہ میں حائل متعدد رکاوٹوں میں سے کرپشن کو سرفہرست قرار دیا جا رہا ہے

اس وقت ملکی ترقی کی راہ میں حائل متعدد رکاوٹوں میں سے کرپشن کو سرفہرست قرار دیا جا رہا ہے:فوٹو فائل

حکومت نے ٹیکس چوری اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے موجودہ قوانین کے موثر اطلاق کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو حاصل اختیارات ختم کر کے نیا خود مختار اور آزاد ادارہ پاکستان ریونیو ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ ادارہ براہ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرے گا، یہ پانچ افراد پر مشتمل ہوگا جس میں تین معیشت دان' ایک قانون دان اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہو گا۔ کالے دھن اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس مجریہ 2001 کی سیکشن 111 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ بھیجنے پر لامحدود استثنیٰ ختم ہو جائے گا۔ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر بھی اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کسی بھی ادارے میں کرپشن کے الزامات کے لیے ادارے کا سربراہ ذمے دار ہو گا۔


اس وقت ملکی ترقی کی راہ میں حائل متعدد رکاوٹوں میں سے کرپشن کو سرفہرست قرار دیا جا رہا ہے، بعض سیاستدان اور تجزیہ کار یہ مسلسل کہتے چلے آ رہے ہیں کہ جب تک بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہوتا ترقی، خوشحالی اور تبدیلی کا کوئی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ صورت حال یہ ہے کہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں بدعنوانی کا ناسور پھیلا ہوا نہ ہو۔ عوامی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ جائز کاموں کے لیے بھی جب تک پہیے یعنی رشوت کا دھکا نہ لگے وہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتے۔ سرکاری محکموں میں رشوت کے اس چلن کے ذمے دار بھی سیاستدان ہی ہیں چاہے وہ اقتدار میں ہیں یا اقتدار سے باہر، وہ اپنے ناجائز کاموں کے لیے رشوت کے علاوہ دھونس اور دھمکی کے منفی حربے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ بات بھی عام ہے کہ ایماندار اور محنتی افسروں کو آگے نہیں آنے دیا جاتا اور انھیں کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔

حکومت نے ٹیکس چوری اور بدعنوانی روکنے کے لیے خود مختار ادارہ بنانے کا صائب فیصلہ کیا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ ان ''جرائم'' میں عوام کے منتخب نمائندوں ہی کی بڑی تعداد ملوث ہے، اس لیے حکومت کو ان ''جرائم'' کے خاتمے کا آغاز منتخب عوامی نمائندوں ہی سے کر کے مثال قائم کرنا ہو گی۔ جب تک ان با اثر افراد کو قانون کی گرفت میں نہیں لایا جاتا سرکاری اداروں میں موجود کرپشن کا خاتمہ دیوانے کا خواب کہلائے گا۔

کسی بھی ادارے سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اس ادارے کے سربراہ کو ذمے دار قرار دینا بھی درست فیصلہ ہے کیونکہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ادارے کے سربراہ کی آشیرباد ہی سے اہلکار بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ نیا بنایا گیا ادارہ پی آر آر اے اسی وقت کامیاب ہو گا جب اس کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہیں کی جائیں گی، ٹیکس چوری اور بدعنوانی میں ملوث بڑے بااثر افراد کو بھی بلا امتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
Load Next Story