گرمی کی شدت احتیاطی تدابیر ناگزیر
ایک اور رپورٹ میں ڈاکٹر آمنڈا سٹاڈ کا کہنا ہے کہ 2050 گرمی کے حساب سے شدید موسم ہوگا
ایک اور رپورٹ میں ڈاکٹر آمنڈا سٹاڈ کا کہنا ہے کہ 2050 گرمی کے حساب سے شدید موسم ہوگا۔فوٹو:فائل
دنیا بھر کے ماہرین ارضیات اور بعض حکومتی مدبران سیاست نے موسمی تبدیلیوں اور گرمی کی عالمی لہر سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے ہمراہ گرمی کی شدید لہریں آرہی ہیں جن سے آئندہ انسانی آبادیاں، جنگلی حیات اور زرعی شعبے سخت متاث ہونگے، فضائی آلودگی بڑھے گی، شہری اور دیہی علاقوں میں عمر رسیدہ افراد ، خواتین و بچوں کو گرمی کے اثرات سے بچانے کی تدبیر کی جائے ۔
کراچی میں جمعے سے جاری گرمی بدستور اتوار کو بھی رہی ، سورج سوا نیزے پر رہا۔ سمندری ہوائیں معطل ہونے سے دن بھر لو چلتی رہی، درجہ حرارت42.5ڈگری سینٹی گریڈ رہا، شدید گرمی سے متعدد افراد بے ہوش ہوگئے۔ تاہم گرمی سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر امکانی اقدامات کے باعث ہلاکتوں کا وہ ہولناک تناسب نہیں رہا جو حالیہ گرمیوں کو پیش آیا تھا جس میں ملک بھر میں دو ہزار سے زاید افراد جاں بحق ہوئے ۔ گلوبل وارمنگ موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک ہے، تمام صوبائی حکومتوں کو ہیٹ ویو سے بچانے کے لیے جنگلات ، زولوجیکل گارڈنز ، جھیلوں ، نہروں ، باغات اور تفریحی و ساحلی مقامات کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، یہ وہ مقامات ہیں جہاں لوگ گرمی سے بچتے ہوئے چند سکون کے لمحے گزارنے آجاتے ہیں۔
ایک اور رپورٹ میں ڈاکٹر آمنڈا سٹاڈ کا کہنا ہے کہ 2050 گرمی کے حساب سے شدید موسم ہوگا۔ دیگر ماہرین نے گرمی کی لہر کو ہجرتی پرندوں اور زرعی شعبے کے لیے بھی خطرناک اندیشوں سے لبریز قراردیا ہے۔ادھر فاٹا میں گلوبل وارمنگ اور بے دریغ کٹائی سے متاثرہ جنگلات کی حالت بہتر بنانے کے لیے چار نئے منصوبوں کی منظوری دیدی گئی، منصوبے حکومت پاکستان کے بین الاقوامی معاہدوں اور یادداشتوں پرعملدرآمد کا حصہ ہیں۔
پہلے منصوبے کے تحت باجوڑ ایجنسی میں نوجوان کے لیے روزگار کے نئے مواقعے فراہم کرنے، جنگلات کی حفاظت، واٹرشیڈز کی تعداد بڑھانے، جنگلات کی بہترنگہداشت، موسمی تغیرات ( گلوبل وارمنگ)سے جنگلات وزمین کی(سیم زدہ)سطح کے ضیاع کوروکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ سیلاب سے بچاؤکویقینی بنایاجاسکے ۔امید کی جانی چاہیے کہ اسی قسم کے مزید پلان دیگر صوبائی حکومتیں بھی مرتب کرسکتی ہیں تاکہ ہر ممکن طریقے سے گرمی اور موسمی تباہ کاریوں اور مسائل سے نمٹنے میں کسی نوعیت کی ناکامی پیش نہ آسکے۔
کراچی میں جمعے سے جاری گرمی بدستور اتوار کو بھی رہی ، سورج سوا نیزے پر رہا۔ سمندری ہوائیں معطل ہونے سے دن بھر لو چلتی رہی، درجہ حرارت42.5ڈگری سینٹی گریڈ رہا، شدید گرمی سے متعدد افراد بے ہوش ہوگئے۔ تاہم گرمی سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر امکانی اقدامات کے باعث ہلاکتوں کا وہ ہولناک تناسب نہیں رہا جو حالیہ گرمیوں کو پیش آیا تھا جس میں ملک بھر میں دو ہزار سے زاید افراد جاں بحق ہوئے ۔ گلوبل وارمنگ موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک ہے، تمام صوبائی حکومتوں کو ہیٹ ویو سے بچانے کے لیے جنگلات ، زولوجیکل گارڈنز ، جھیلوں ، نہروں ، باغات اور تفریحی و ساحلی مقامات کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، یہ وہ مقامات ہیں جہاں لوگ گرمی سے بچتے ہوئے چند سکون کے لمحے گزارنے آجاتے ہیں۔
ایک اور رپورٹ میں ڈاکٹر آمنڈا سٹاڈ کا کہنا ہے کہ 2050 گرمی کے حساب سے شدید موسم ہوگا۔ دیگر ماہرین نے گرمی کی لہر کو ہجرتی پرندوں اور زرعی شعبے کے لیے بھی خطرناک اندیشوں سے لبریز قراردیا ہے۔ادھر فاٹا میں گلوبل وارمنگ اور بے دریغ کٹائی سے متاثرہ جنگلات کی حالت بہتر بنانے کے لیے چار نئے منصوبوں کی منظوری دیدی گئی، منصوبے حکومت پاکستان کے بین الاقوامی معاہدوں اور یادداشتوں پرعملدرآمد کا حصہ ہیں۔
پہلے منصوبے کے تحت باجوڑ ایجنسی میں نوجوان کے لیے روزگار کے نئے مواقعے فراہم کرنے، جنگلات کی حفاظت، واٹرشیڈز کی تعداد بڑھانے، جنگلات کی بہترنگہداشت، موسمی تغیرات ( گلوبل وارمنگ)سے جنگلات وزمین کی(سیم زدہ)سطح کے ضیاع کوروکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ سیلاب سے بچاؤکویقینی بنایاجاسکے ۔امید کی جانی چاہیے کہ اسی قسم کے مزید پلان دیگر صوبائی حکومتیں بھی مرتب کرسکتی ہیں تاکہ ہر ممکن طریقے سے گرمی اور موسمی تباہ کاریوں اور مسائل سے نمٹنے میں کسی نوعیت کی ناکامی پیش نہ آسکے۔