ہمارا سیاسی کلچر

ہمیں اس بات پر بھی بہت فخر ہے کہ ہم قانون کا احترام کرنے والے شہری ہیں لیکن بوجوہ صورتحال یہاں تک دراز ہوگئی ہے

ہمیں اس بات پر بھی بہت فخر ہے کہ ہم قانون کا احترام کرنے والے شہری ہیں لیکن بوجوہ صورتحال یہاں تک دراز ہوگئی ہے

ہم بڑے فخر سے دنیا کے سامنے یہ کہتے رہتے ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے مہذب قوم ہیں، ہمارا کلچر دوسروں کے کلچر سے برتر اور اعلیٰ ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہمارا سیاسی کلچر اس قدر گندہ ہوکر رہ گیا ہے کہ اس کے حوالے سے اقوام عالم ہمیں دنیا کی سب سے زیادہ بداخلاق قوم سمجھنے لگتی ہے۔ سوال پھر یہی پیدا ہوتا ہے کہ ہماری سیاست میں یہ ولگیریٹی کیوں در آئی ہے؟ اس کا سیدھا سادا جواب تو یہ ہے کہ ہماری سیاست میں مہذب اور پیشہ ور سیاستدان متعارف ہی نہیں ہوسکے، یا تو بھاٹی گیٹ مارکہ لوگ سیاستدان بن گئے یا پھر لالو کھیت مارکہ لوگ سیاست میں گھس آئے اور سیاست کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا۔

اس کی دوسری وجہ ہمارے ملک میں موجود نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام ہے جس میں وڈیرے، جاگیردار، نواب اور سردار اپنی رعایا سے اسی زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے سروں پر جو حکمران جو سیاستدان 68 سالوں سے مسلط ہیں ان کا تعلق ان ہی طبقات سے ہے۔

ہماری سیاست کی دوسری بڑی خوبی قبائلی دشمنی ہے جو اب کھلی دہشت گردی کے روپ میں ہمارے سامنے موجود ہے، اب تک سیکڑوں سیاستدان، ایم این اے، ایم پی اے اس بدترین قبائلی دشمنی کی نذر ہوچکے ہیں۔ تازہ شکار ہونے والوں میں (ن) کے شجاع خانزادہ اور متحدہ کے رشید گوڈیل ہیں، ہم بہ یک زبان ہوکر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی باتیں تو کرتے ہیں۔

لیکن عمل کا عالم یہ ہے کہ ہمارے ہاتھوں میں ہر وقت ننگی تلوار رہتی ہے۔ سیاستدانوں اور ان کی اولاد کو اغوا کیا جاتا ہے، جان سے مروا دیا جاتا ہے اور سیکڑوں کو اس طرح ''لاپتہ'' کردیا جاتا ہے کہ ان کی لاشیں ہی ادھر اُدھر کونوں کچروں اور سنسان علاقوں میں پڑی ملتی ہیں۔

اسے ہم سیاستدانوں کا پھکڑ پن کہیں، یا بدتمیزی کہ ہر متحارب جماعت کے معزز رہنما اپنے سیاسی مخالفین کے لیے ایسی بداخلاقانہ زبان استعمال کرتے ہیں کہ عام آدمی انھیں کوئی معزز اور معتبر سیاستدان کے بجائے گلی محلے کے دادا سمجھتے ہیں اور دھونس اور دھمکیوں کا یہ عالم ہوتا ہے کہ پیشہ ور غنڈہ عناصر بھی شرما جائیں۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی زبان محض ہماری نا شائستگی ہے یا کوئی گہری سازش؟ یہ سوال ذہن میں اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس نامعقول کلچر کی وجہ سے عوام کے مسائل پس پشت چلے جاتے ہیں اور سیاسی دشمنیاں پیش منظر میں چلی جاتی ہیں ، ان پیچیدہ الزامات اور جوابی الزامات کی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے ہر متحارب جماعت نے اپنے کچھ رہنما مخصوص کر رکھے ہیں اور حکومتوں نے تو یہ نیک کام انجام دینے کے لیے باضابطہ کچھ وزرا کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے اور یہ وزرا اپنا نوے فیصد وقت اسی نیک کام میں صرف کرتے ہیں ۔

ان اکابرین نے اپنے کچھ بندوں کی ڈیوٹیاں لگا رکھی ہیں کہ وہ چوبیس گھنٹے ٹی وی چینل دیکھتے رہیں اور فریق مخالف کی ملاحیاں نوٹ کرتے رہیں اور ترنت اس کے ''شرفیانہ'' جوابی بیانات وزیر محترم کی خدمت میں پیش کرتے رہیں تاکہ وہ ہنگامی پریس کانفرنسوں، اخباری بیانات، پریس ریلیز یا تقاریر کے ذریعے فریق مخالف کی بدزبانی کا جواب اس سے زیادہ بدزبان سے دے سکیں بعض وقت تک یہ نیک کام اس تیز رفتاری سے ہوتا ہے کہ دشمن کے مغلظات کی پٹی چینلوں پر ختم بھی نہیں ہوتی کہ جوابی مغلظات کی پٹی ٹی وی اسکرینوں پر اپنا جلوہ دکھانے لگ جاتی ہے اور بے چارے عوام نئی نئی سیاسی اصطلاحوں سے واقف ہوجاتے ہیں اور مستفید ہونے لگ جاتے ہیں۔

ہمیں اس بات پر بھی بہت فخر ہے کہ ہم قانون کا احترام کرنے والے شہری ہیں لیکن بوجوہ صورتحال یہاں تک دراز ہوگئی ہے کہ ہمارے شہری ڈاکوؤں کو پکڑکر ان پر اتنا تشدد کرتے ہیں کہ وہ جان سے چلے جاتے ہیں اسی پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ انھیں زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں واویلا کررہی ہیں کہ ان کے سیکڑوں کارکنوں کو حراست کے دوران یا ان کاؤنٹر میں مار دیا گیا ہے۔

ہمارے ملک میں قانون کی بھاری بھاری کتابیں موجود ہیں، انصاف کے ادارے موجود ہیں، منصف اور جج موجود ہیں اگر ملزموں کو سزا دینے اور وہ بھی سزائے موت دینے کا اختیار ''لوگ'' اپنے ہاتھوں میں لے لیں تو پھر قانون اور انصاف کے بڑے بڑے اداروں کی کیا ضرورت؟ ایسی انارکی میں تو یہ مہذب ادارے بے کار لوگوں کی خانقاہوں جیسی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کلچر کی وجہ بھی ہماری سیاست ہی ہے۔ کیا ''لاپتہ'' لوگ حکمرانوں کی مرضی کے بغیر لاپتہ ہوجاتے ہیں؟ کیا تھانوں اوران کاؤنٹرز میں مارے جانے والے ملزمان کے قتل میں حکمرانوں کی مرضی شامل نہیں ہوتی؟

ہمارے ملک کے بیس کروڑ عوام 68 سالوں سے بھوک افلاس جیل علاج اور تعلیم سے محرومی بے لگام مہنگائی اور سنگین جرائم کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ہر ملک کے سیاستدانوں اپوزیشن اور حکمرانوں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کے سلگتے ہوئے مسائل حل کرنے میں اپنا سارا وقت اور ساری توانائیاں صرف کریں۔

لیکن ہو یہ رہا ہے کہ ہماری اپوزیشن ہمارے حکمران طبقات ہمارے سیاستدان اپنا سارا وقت اول فول بکنے بدزبانی کرنے ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگا رہے ہیں۔ عوام مہنگائی کے چنگل میں پھنسے رو رہے ہیں کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کہ اہل سیاست کو گالیوں کے اور الزامات اور جوابی الزامات ہی سے فرصت نہیں۔
Load Next Story