جنگ گروپ باز نہ آیا بھارتی فلم کی ڈائیلاگ سانحہ بڈھ بیر کی لیڈ بنا دیپاکستانیوں کے دل زخمی
پاک فضائیہ کے کیمپ میں گھس کرحملہ،ڈائیلاگ فلم فینٹم میںسیف علی خان نے بولا،امن کی آشا کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں
’’را ‘‘کی پشت پناہی اور قومی اداروں کیخلاف سازشیں کرنیوالے چینل کو بندکیا جائے:عوام کاشدیدردعمل، جیومردہ بادکے نعرے ۔ فوٹو : فائل
جیو گروپ نے پہلے بھی سیکیورٹی اداروں پر گھناؤنے الزامات لگائے جبکہ ایکسپریس نیوز قومی اداروں کیساتھ کھڑا رہا۔ لگتا ہے اسی بات کابدلہ ایکسپریس نیوز سے لیاجارہا ہے۔
جنگ گروپ پھر باز نہیں آیا،بڈھ بیر ایئربیس پرحملے کی سرخی یوں شائع کی جیسے بھارتی فلموں میں پاکستان پرحملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق جنگ اخبار کی سرخی''پاک فضائیہ کے کیمپ میں گھس کرحملہ'' نے پاکستانیوں کے دلوں کو زخمی کر دیا۔ یہ ٹھیک وہی ڈائیلاگ ہے جو بھارت کی پاکستان کیخلاف بنائی جانیوالی فلم فینٹم میں سیف علی خان نے بولا اور سوشل میڈیاپرآگ لگ گئی۔
جس کے بعد ہائیکورٹ نے اس فلم کی پاکستان میں نمائش پر پابندی لگا دی تھی ، چند دن بعد جب پاک فضائیہ کے ایئربیس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو جنگ گروپ کودل کی بھڑاس نکالنے کاموقع مل گیا اور اس نے بھارتی اداکارسیف علی خان کا جملہ جنگ اخبارکی لیڈ بنا کر پاکستانیوں کے زخمی دلوں پردے مارا۔پاکستانیوں نے اس سرخی کا اتنابرا منایاکہ سوشل میڈیاپر جنگ باز نہیں آیا کی گونج سنائی دینے لگی۔
جنگ گروپ کی وطن دشمنی کایہ بھی ایک ثبوت ہے کہ اس دن اس قسم کی سرخی کسی اور اخبار نے نہیں لگائی۔ اس سے پہلے بھی جیو ٹی وی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر تنقید کے نشتر چلا اور پاکستان کے انتہائی حساس ادارے کے سربراہ پر گھناؤنے الزامات لگاچکاہے جبکہ اس وقت ایکسپریس نے قومی اداروں کاساتھ دیا تھا لگتا ہے کہ یہی حب الوطنی جیو ٹی وی کو کھٹک رہی ہے، یہ وہی جیو ٹی وی ہے جو معصوم پاکستانیوں کا خون بہانے والے بھارت کیساتھ امن کی آشا کی پینگیں بڑھا رہاہے۔ لگتاہے کہ مخالفین کوآج بھی ایکسپریس نیوز کی حب الوطنی چبھ رہی ہے اور وہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پاک فضائیہ کے کیمپ پرحملے کی خبرکوجیواورجنگ گروپ کی جانب سے طنزیہ اندازمیں بیان کرنے پرپاکستانیوں اورایکسپریس نیوزکے ناظرین نے شدیدغم و غصے کااظہارکیا۔ چند گھنٹوں میں ایک لاکھ سے زائد صارفین نے اس رپورٹ کو پڑھا اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جنگ گروپ کی اس گھٹیا اوربھونڈی حرکت پرسوشل میڈیا پر شدیدعوامی غصہ اور ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ٹویٹر کے ساتھ ساتھ ایکسپریس نیوزکے فیس بک پیج پرخبرشائع ہونے کے چندہی منٹوں بعدہزاروں افرادنے اس خبرکوپڑھااورسینکڑوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ عنایت اللہ خان نے جیوٹی وی کے بارے میں مطالبہ کیا کہ را کی پشت پناہی کرنیوالے چینل کوبندکیا جائے۔ایک اورقاری نقاش ملک نے جیومردہ بادکا نعرہ لگا کراپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ شہری افتخاراحمدنے ایکسپریس نیوز کاشکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ صحافتی داؤ پیچ کوصرف ایکسپریس جانتا ہے۔
امید ہے کہ آئندہ بھی وہ جنگ گروپ کی ملک دشمن سازشوں کوبے نقاب کرتا رہیگا۔شہری زوہیب کیانی بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ جنگ گروپ پر پابندی لگنی چاہیے۔جنگ اور جیو اگریہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ان پالیسیوں میں رہتے ہوئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے توسوشل میڈیا کا آئینہ دکھارہا ہے کہ عوام اس کی حرکتوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔
جنگ گروپ پھر باز نہیں آیا،بڈھ بیر ایئربیس پرحملے کی سرخی یوں شائع کی جیسے بھارتی فلموں میں پاکستان پرحملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق جنگ اخبار کی سرخی''پاک فضائیہ کے کیمپ میں گھس کرحملہ'' نے پاکستانیوں کے دلوں کو زخمی کر دیا۔ یہ ٹھیک وہی ڈائیلاگ ہے جو بھارت کی پاکستان کیخلاف بنائی جانیوالی فلم فینٹم میں سیف علی خان نے بولا اور سوشل میڈیاپرآگ لگ گئی۔
جس کے بعد ہائیکورٹ نے اس فلم کی پاکستان میں نمائش پر پابندی لگا دی تھی ، چند دن بعد جب پاک فضائیہ کے ایئربیس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو جنگ گروپ کودل کی بھڑاس نکالنے کاموقع مل گیا اور اس نے بھارتی اداکارسیف علی خان کا جملہ جنگ اخبارکی لیڈ بنا کر پاکستانیوں کے زخمی دلوں پردے مارا۔پاکستانیوں نے اس سرخی کا اتنابرا منایاکہ سوشل میڈیاپر جنگ باز نہیں آیا کی گونج سنائی دینے لگی۔
جنگ گروپ کی وطن دشمنی کایہ بھی ایک ثبوت ہے کہ اس دن اس قسم کی سرخی کسی اور اخبار نے نہیں لگائی۔ اس سے پہلے بھی جیو ٹی وی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر تنقید کے نشتر چلا اور پاکستان کے انتہائی حساس ادارے کے سربراہ پر گھناؤنے الزامات لگاچکاہے جبکہ اس وقت ایکسپریس نے قومی اداروں کاساتھ دیا تھا لگتا ہے کہ یہی حب الوطنی جیو ٹی وی کو کھٹک رہی ہے، یہ وہی جیو ٹی وی ہے جو معصوم پاکستانیوں کا خون بہانے والے بھارت کیساتھ امن کی آشا کی پینگیں بڑھا رہاہے۔ لگتاہے کہ مخالفین کوآج بھی ایکسپریس نیوز کی حب الوطنی چبھ رہی ہے اور وہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پاک فضائیہ کے کیمپ پرحملے کی خبرکوجیواورجنگ گروپ کی جانب سے طنزیہ اندازمیں بیان کرنے پرپاکستانیوں اورایکسپریس نیوزکے ناظرین نے شدیدغم و غصے کااظہارکیا۔ چند گھنٹوں میں ایک لاکھ سے زائد صارفین نے اس رپورٹ کو پڑھا اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جنگ گروپ کی اس گھٹیا اوربھونڈی حرکت پرسوشل میڈیا پر شدیدعوامی غصہ اور ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ٹویٹر کے ساتھ ساتھ ایکسپریس نیوزکے فیس بک پیج پرخبرشائع ہونے کے چندہی منٹوں بعدہزاروں افرادنے اس خبرکوپڑھااورسینکڑوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ عنایت اللہ خان نے جیوٹی وی کے بارے میں مطالبہ کیا کہ را کی پشت پناہی کرنیوالے چینل کوبندکیا جائے۔ایک اورقاری نقاش ملک نے جیومردہ بادکا نعرہ لگا کراپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ شہری افتخاراحمدنے ایکسپریس نیوز کاشکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ صحافتی داؤ پیچ کوصرف ایکسپریس جانتا ہے۔
امید ہے کہ آئندہ بھی وہ جنگ گروپ کی ملک دشمن سازشوں کوبے نقاب کرتا رہیگا۔شہری زوہیب کیانی بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ جنگ گروپ پر پابندی لگنی چاہیے۔جنگ اور جیو اگریہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ان پالیسیوں میں رہتے ہوئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے توسوشل میڈیا کا آئینہ دکھارہا ہے کہ عوام اس کی حرکتوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔