مفتی اعظم سعودی عرب نے مسلسل 35 ویں مرتبہ حج کا خطبہ دیا

انھوں نے 12سال کی عمرمیں قرآن پاک حفظ کیااور 22سال کی عمرمیں امام الدعوۃ انسٹی ٹیوٹ سے شرعیہ میں گریجویشن کیا

انھوں نے 12سال کی عمرمیں قرآن پاک حفظ کیااور 22سال کی عمرمیں امام الدعوۃ انسٹی ٹیوٹ سے شرعیہ میں گریجویشن کیا۔:فوٹو: فائل

سعودی عرب کے 74 سالہ مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے آج مسلسل 35 ویں بار حج کا خطبہ دیا۔

انھوں نے پہلی مرتبہ 1981 (1402ہجری) میں حج کاخطبہ دیا۔ وہ 1941میں سعودی دارالحکومت ریاض میں پیدا ہو ئے۔ انھوں نے 12سال کی عمرمیں قرآن پاک حفظ کیا اور 22 سال کی عمرمیں امام الدعوۃ انسٹی ٹیوٹ سے شرعیہ میں گریجویشن کیا۔ انھیں 1995میں سعودی عرب کانائب مفتی اعظم جبکہ 1999میں مفتی اعظم مقرر کیاگیا۔ وہ پیدائشی طورپر ہی نظرکی کمزوری کاشکار تھے۔ 1960میں بینائی سے مکمل طورپر محروم ہوگئے۔


مفتی اعظم کی دلچسپی اورترجیحات میں اسلامی دنیاکے بحران، مسائل کی آگہی اورزندگی کے تمام شعبوں سے متعلق ایسے امورکی نشاندہی کرنا ہے جن میں اصلاح کی ضرورت ہو۔ مفتی اعظم اپنے خطبے میں مسئلہ فلسطین پرخصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اس کااثر خطبے کے دوران ان کے لہجے اورچہرے سے واضح طورپر ہوتاہے۔

اس کے علاوہ شیخ اپنے خطبے میں مسلمانوں کی یک جہتی، باہمی اختلافات کے خاتمے اورمیڈیا کے مثبت کردارکے ساتھ خواتین کی آزادی کے نعرے کی حقیقت بھی بیان کرتے ہیں۔
Load Next Story