یورپی یونین کا درست فیصلہ

معاہدے کے تحت تارکین وطن کو اٹلی، یونان اور ہنگری سے دیگر یورپی ممالک میں بسایا جائے گا

افریقہ کے ممالک میں بھی خانہ جنگی چل رہی ہے وہاں سے بھی ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین یورپ اور امریکا کا رخ کر رہے ہیں۔ فوٹو : فائل

GDANSK:
یورپی یونین کے دارالحکومت برسلز میںیونین وزرائے داخلہ کی ایک ہنگامی ملاقات میں ایک لاکھ 20 ہزار تارکین وطن کو پناہ دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی گئی ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے پناہ گزینوں کی آباد کاری سے متعلق منصوبے کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ آیندہ دو سالوں کے دوران ان مہاجرین کو مختلف یورپی ممالک میں ایک کوٹے کے تحت آباد کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت تارکین وطن کو اٹلی، یونان اور ہنگری سے دیگر یورپی ممالک میں بسایا جائے گا۔

شام، عراق اور اریٹریا کے باشندوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس اہم منصوبے پر اتفاق رائے کو مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے 'کئی دنوں سے یورپی رہنما اس معاملے پر اختلافات کا شکار تھے۔یورپی یونین کا اس معاہدے پر پہنچنا اس تنظیم کی ایک کامیابی ہے۔


اس سے یقینی طورپر مہاجرین کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔جنگ زدہ ملکوں سے آنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے اس منصوبے کے ذریعے یورپی ملکوں میں کسی قسم کی ثقافتی تقسیم بھی پیدا نہیں ہو گی اور مہاجرین وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یورپی کلچرمیں ڈھل جائیں گے۔بہرحال یورپ میں مہاجرین کے سیلاب سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی ہے کہ دنیا کی طاقتور اقوام کی استحصالی پالیسیوں کی وجہ سے غریب قوموں میں انتشار پر انارکی پھیلی ہے ،اس وقت لیبیا'شام'عراق اور افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ان ممالک میں بڑی طاقتیں پراکسی وار لڑ رہی ہیں،جنگ سے تنگ آ کر یہاں کے لوگ یورپ کی طرف بھاگ رہے ہیں کیونکہ یورپ پہنچنا ان کے لیے آسان ہے۔ اسی طرح افریقہ کے ممالک میں بھی خانہ جنگی چل رہی ہے وہاں سے بھی ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین یورپ اور امریکا کا رخ کر رہے ہیں۔

لہٰذا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور دنیا کے غریب ملکوں کا حق انھیں دیں ، اس طریقے سے دنیا میں امن قائم ہو گا اور نقل مکانی میں بھی کمی آئے گی ،اگر ترقی یافتہ ممالک کی استحصالی پالیسیاں یونہی جاری رہیں تو پھر یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں مہاجرین کا سیلاب آتا رہے گا جس سے ان ممالک کا امن و سکون بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
Load Next Story