یونس کا دل نہ توڑیں ریکارڈ توڑنے دیں

یونس مزید19رنز بنا کر جاوید میانداد سے کامیاب ترین پاکستانی ٹیسٹ بیٹسمین کا اعزاز چھیننے والے ہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ملازمین کو نکالا گیا وہیں دوسری جانب 40 سے زائد نئی تقرریاں بھی ہوئیں۔ فوٹو: فائل

لاہور:
''آپ لوگوں کو یونس خان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے،اکثر اسے ناراض کر دیتے ہیں''

فیس بک پر چیٹنگ کرتے ہوئے جب ایک غیرملکی صحافی دوست نے مجھ سے یہ پوچھا تو میں سوچنے لگا کہ واقعی اتنے عظیم بیٹسمین کے ساتھ ہمارا سلوک اچھا نہیں ہے،ان کی ناراضی جب لفظوں میں ڈھل کر میڈیا کی زینت بنتی ہے تو دنیا بھر میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں جاتا، لوگ کہتے ہوں گے کہ یہ کھلاڑی ہمارے ملک میں ہوتا تو سر آنکھوں پر بٹھاتے ، اپنے ہی لوگ اسے پریشان کرتے رہتے ہیں۔

یونس مزید19رنز بنا کر جاوید میانداد سے کامیاب ترین پاکستانی ٹیسٹ بیٹسمین کا اعزاز چھیننے والے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے کہ اس موقع کو یادگار بنانے کا سوچا جائے مگر بورڈ انھیں پریشان کرنے پر تلا ہوا ہے، ون ڈے اسکواڈ میں جگہ نہ بنتے دیکھ کر انھوں نے پہلے ہی ایک سخت بیان داغ دیا،بعد میں انھیں پی ایس ایل کی تقریب کیلیے لاہور مدعو نہ کرنے پر تنازع کھڑا ہوا، یہ واقعی غلط بات تھی، ایک ایسا کھلاڑی جس کی قیادت میں آپ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹائٹل جیتا ہو اس کو نظر انداز کرنا قطعی مناسب نہ تھا، اگر یونس نے ٹکٹ مانگ لی تو کیا غلط تھا، کون بے وقوف پی سی بی کی تقریب میں شرکت کیلیے 40،50 ہزار روپے خود خرچ کر کے لاہور آتا، بورڈ کا یہ کہنا ہے کہ ہم نے کسی کو ٹکٹ نہیں دیا اس لیے صرف یونس کو کیسے دے دیتے، یہ بات بالکل غلط ہے۔

ویمنز ٹیم کی 5،6 ارکان کے سفری و دیگر انتظامات پی سی بی نے ہی برداشت کیے، اسی طرح من پسند فیصلوں پر ''ربڑ اسٹیمپ'' لگوانے کیلیے موجود گورننگ بورڈ ارکان کو ایئرٹکٹ کے ساتھ پانچ ستارہ ہوٹل میں قیام کی سہولت بھی دی گئی، بورڈ کے سارے ٹھاٹ باٹ کھلاڑیوں کی وجہ سے ہی ہیں، انہی کی محنت سے اسے کروڑوں روپے ملتے ہیں، یونس کی ملک کیلیے بڑی خدمات ہیں، اگر انھیں چند ہزار کا ٹکٹ دے دیتے تو کچھ نہ بگڑتا، معاملہ میڈیا میں لا کر پی سی بی نے ایک اور غلط فیصلہ کیا۔ یونس ون ڈے ٹیم میں واپسی کیلیے بے چین ہیں۔

بورڈ کو بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے، شاید وہ کیریئر کا ڈراپ ہو کر اختتام نہیں چاہتے، حکام کارروائی کی دھمکیاں دینے کے بجائے ان سے بات کریں،وہ اگر الوداعی میچ کھیلنے کی خواہش رکھتے ہیں تواسے پورا کر دیں، یہاں تو اظہر علی ٹیم میں نہیں تھے انھیں کپتان بنا کر لایا گیا، مصباح الحق 41 سال کی عمر میں ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔


جہاں یہ سب ہو سکتا ہے وہاں یونس کی بات مان لینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے، ویسے یونس کو بھی اب حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ون ڈے کیریئر اب اختتام پذیر ہے، ایسے میں اگر ایک میچ کھیلنے کا موقع ملے تو خود ہی باعزت انداز سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں، وہ ریکارڈ توڑنے والے ہیں، اپنی توجہ پاکستان کا کامیاب ترین ٹیسٹ بیٹسمین بننے پر مرکوز رکھیں، ہمارے ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، غیرضروری تنازعات کہیں یونس کے کیریئر کو ہی نقصان نہ پہنچا دیں۔

گذشتہ دنوں دورئہ لاہور کے دوران پی سی بی کی اعلیٰ شخصیات سمیت کئی کھلاڑیوں سے بھی ملاقاتوں کا موقع ملا،چیئرمین شہریارخان کے ساتھ تفصیلی نشست رہی،چونکہ میں پیر کے روز گیا تھا اس لیے پی ایس ایل کی تقریب میں نہ جا سکا، البتہ احمد شہزاد کی دعوت ولیمہ میں شرکت کی جہاں قریبی رشتہ دار اور کرکٹ سے وابستہ شخصیات مدعو تھیں،دولہا میاں نے اتنا اصرار کیاکہ جانا ضروری ہو گیا تھا، امید ہے کہ ان کے کیریئر کی نئی اننگز بھی کامیاب رہے گی۔

اب کچھ اور بات کر لیتے ہیں،پی سی بی میں ان دنوں ''فاضل اسٹاف'' کو نکالنے کی مہم زوروں پر ہے، ایک آفیشل جو اپنے غلط رویے کے سبب کسی کو پسند نہ تھے، وہ بھی اس کی زد میں آ گئے، وہ صاحب کھلے الفاظ میں بورڈ کی ایک اعلیٰ شخصیت کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے، انھیں سیاسی حمایت پر زعم تھا، مگر اس بار کوئی سفارش کام نہ آئی اور فارغ کر دیا گیا، بورڈ کی حالیہ مہم کا سبب اخراجات میں کمی لانا بیان کیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ملازمین کو نکالا گیا وہیں دوسری جانب 40 سے زائد نئی تقرریاں بھی ہوئیں، سپر لیگ کے پروجیکٹ میں بورڈ سے منسلک افراد کو تنخواہ میں 50 فیصد اضافے سے شامل کیا گیا، ذاکر خان اور انتخاب عالم کو ڈائریکٹرز کے عہدوں سے ہٹا کر جونیئر اور سینئر ٹیموں کا منیجر بنا دیا گیا، اگر فنانس ڈپارٹمنٹ کیلکولیٹر لے کر بیٹھے تو اسے اندازہ ہو گا کہ اخراجات میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے،نیشنل اسٹیڈیم سے پی آر او شعیب احمد کو فارغ کیا گیا اسی کے ساتھ ارشد خان کو ترقی دے کر جنرل منیجر بنا دیا گیا، جو پیسے شعیب کوہٹانے سے بچے وہ دوسرے آفیشل کو مل جائیں گے۔

اسی طرح جسے بورڈ کی اعلیٰ شخصیات کا ساتھ حاصل ہے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال رہا، بغیر کام کیے بھاری تنخواہ وصول کرنے والے بعض ملازمین کے معاہدے دسمبر میں ختم ہو رہے ہیں اور انھوں نے ابھی سے سفارشیں کرانا شروع کر دی ہیں، یہ طریقہ کار درست نہیں، سب کے ساتھ الگ سلوک نہ کریں،جو طریقہ کار اپنایا گیا اس پر مکمل ایمانداری سے عمل کرنا چاہیے اس کی زد میں چاہے کوئی اپنا ہی کیوں نہ آ جائے، ابھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیچارے ڈرائیورز، مالی، چپڑاسی یا زیر عتاب افراد ہی ملازمتوں سے فارغ ہوں گے، یہ کسی صورت درست نہیں،اعلیٰ حکام کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
Load Next Story