فیفا اجلاس فیصل صالح کی صدارت کو تسلیم کرلیا گیا
گورننگ باڈی نے پاکستانی معاملات کیلیے ایڈمنسٹریٹر کے تقرر کو غیرآئینی قرار دے دیا
گورننگ باڈی نے پاکستانی معاملات کیلیے ایڈمنسٹریٹر کے تقرر کو غیرآئینی قرار دے دیا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
فیفا ایگزیکٹیوکمیٹی کا 2 روزہ اجلاس 24 سے25ستمبر تک فیفا کے عالمی ہیڈ کوارٹر زیورخ، سویٹزرلینڈ میں منعقد ہوا جس میں مخدوم فیصل صالح حیات کو پاکستان فٹبال فیڈریشن کا آئینی صدر تسلیم کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پی ایف ایف کے معاملات کو چلانے کیلیے ایڈمنسٹریٹر کے تقررکوفیفا کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اس ضمن میں فیفا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پی ایف ایف کے معاملات کے لیے ایڈمنسٹریٹرکا تقررفیفا کے آئین کے آرٹیکل 13.1 اور آرٹیکل 17کی خلاف ورزی ہے اور یہ کہ بیرونی عناصر کی جانب سے مداخلت جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کو فیفا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فیفا ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلوں کی روشنی میں صدر پی ایف ایف مخدوم فیصل صالح حیات سے کہا گیا ہے کہ وہ پی ایف ایف کے آئین میں چند ترامیم کرنے کے بعد عرصہ 2 سال میں پی ایف ایف کے الیکشن منعقد کروائیں، پی ایف ایف آئین میں تبدیلیوں اور ان کی روشنی میں الیکشن کے انعقادکے عمل کی نگرانی فیفا کریگا۔فیفا کے قائم مقام سیکریٹری جنرل مارکوس کیٹنر کی جانب سے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری لیفٹیننٹ کرنل (ر) احمد یار خان لودھی کو بھیجے گئے خط میں یہ یقین بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پی ایف ایف ہیڈ کوارٹر کا کنٹرول بھی جلد پی ایف ایف کی آئینی باڈی کو حاصل ہو جائے گا تاکہ ملک میں فٹبال کی سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے۔
مخدوم فیصل صالح حیات صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن نے فیفا جانب سے کیے گئے ان فیصلوں کو تاریخی اہمیت اور دوررس اثرات کاحامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ سے حق اور سچ کی فتح ہوئی ہے اور ان فیصلوں سے فیفا کی پاکستان میں پی ایف ایف کے متعلق گزشتہ کچھ عرصہ میں ہونے والے معاملات کے بارے گہری تشویش ظاہر ہوتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ فیفا ایگزیکٹیو کمیٹی کی طرف سے اعلان کردہ ان فیصلوں سے ہمارے اصولی موقف کی مکمل طور پر تصدیق ہو گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ یہ پاکستان میں فٹبال کے نئے دورکا آغاز ہے اور ہم شدت سے پاکستان میں کھیل کی سرگرمیوں کوازسر نو بحال کرنے کے بے تاب ہیں کیونکہ پہلے ہی اس غیرآئینی مداخلت کی وجہ سے پاکستانی فٹبال کوناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے، پی ایف ایف کے اکاؤنٹس منجمد ہونے سے فنڈزکی عدم دستیابی کی بنا پر پاکستان انڈر16 ساف چیمپئن شپ اور انڈر 19اے ایف سی چمپئین شپ سے محروم ہو چکا ہے، پاکستان مزید نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کی فٹبال فیملی اور کھیل کے چاہنے والے اس نقصان کے ذمے داران کو کبھی معاف نہیں کرینگے، ہمارا فوری ہدف دسمبر میں بھارت میں منعقد ہونیوالی ساف چمپئین شپ ہے، جس کیلیے ہم نے اپنا ہوم ورک مکمل کر رکھا ہے، لیفٹیننٹ کرنل (ر) احمد یار خان لودھی نے بھی فیفا ایگزیکٹیوکمیٹی کے فیصلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم مطمئن ہیں کہ فیفا نے آئینی طور پر منتخب مخدوم فیصل صالح حیات کی پی ایف ایف کی قیادت کو تسلیم کرلیاہے اورہم فیفا کی جانب سے مجوزہ ترامیم کو دیئے گئے ٹیم فریم میں یقینی بنائیں گے۔
فیفا ایگزیکٹیوکمیٹی کا 2 روزہ اجلاس 24 سے25ستمبر تک فیفا کے عالمی ہیڈ کوارٹر زیورخ، سویٹزرلینڈ میں منعقد ہوا جس میں مخدوم فیصل صالح حیات کو پاکستان فٹبال فیڈریشن کا آئینی صدر تسلیم کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پی ایف ایف کے معاملات کو چلانے کیلیے ایڈمنسٹریٹر کے تقررکوفیفا کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اس ضمن میں فیفا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پی ایف ایف کے معاملات کے لیے ایڈمنسٹریٹرکا تقررفیفا کے آئین کے آرٹیکل 13.1 اور آرٹیکل 17کی خلاف ورزی ہے اور یہ کہ بیرونی عناصر کی جانب سے مداخلت جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کو فیفا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فیفا ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلوں کی روشنی میں صدر پی ایف ایف مخدوم فیصل صالح حیات سے کہا گیا ہے کہ وہ پی ایف ایف کے آئین میں چند ترامیم کرنے کے بعد عرصہ 2 سال میں پی ایف ایف کے الیکشن منعقد کروائیں، پی ایف ایف آئین میں تبدیلیوں اور ان کی روشنی میں الیکشن کے انعقادکے عمل کی نگرانی فیفا کریگا۔فیفا کے قائم مقام سیکریٹری جنرل مارکوس کیٹنر کی جانب سے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری لیفٹیننٹ کرنل (ر) احمد یار خان لودھی کو بھیجے گئے خط میں یہ یقین بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پی ایف ایف ہیڈ کوارٹر کا کنٹرول بھی جلد پی ایف ایف کی آئینی باڈی کو حاصل ہو جائے گا تاکہ ملک میں فٹبال کی سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے۔
مخدوم فیصل صالح حیات صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن نے فیفا جانب سے کیے گئے ان فیصلوں کو تاریخی اہمیت اور دوررس اثرات کاحامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ سے حق اور سچ کی فتح ہوئی ہے اور ان فیصلوں سے فیفا کی پاکستان میں پی ایف ایف کے متعلق گزشتہ کچھ عرصہ میں ہونے والے معاملات کے بارے گہری تشویش ظاہر ہوتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ فیفا ایگزیکٹیو کمیٹی کی طرف سے اعلان کردہ ان فیصلوں سے ہمارے اصولی موقف کی مکمل طور پر تصدیق ہو گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ یہ پاکستان میں فٹبال کے نئے دورکا آغاز ہے اور ہم شدت سے پاکستان میں کھیل کی سرگرمیوں کوازسر نو بحال کرنے کے بے تاب ہیں کیونکہ پہلے ہی اس غیرآئینی مداخلت کی وجہ سے پاکستانی فٹبال کوناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے، پی ایف ایف کے اکاؤنٹس منجمد ہونے سے فنڈزکی عدم دستیابی کی بنا پر پاکستان انڈر16 ساف چیمپئن شپ اور انڈر 19اے ایف سی چمپئین شپ سے محروم ہو چکا ہے، پاکستان مزید نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کی فٹبال فیملی اور کھیل کے چاہنے والے اس نقصان کے ذمے داران کو کبھی معاف نہیں کرینگے، ہمارا فوری ہدف دسمبر میں بھارت میں منعقد ہونیوالی ساف چمپئین شپ ہے، جس کیلیے ہم نے اپنا ہوم ورک مکمل کر رکھا ہے، لیفٹیننٹ کرنل (ر) احمد یار خان لودھی نے بھی فیفا ایگزیکٹیوکمیٹی کے فیصلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم مطمئن ہیں کہ فیفا نے آئینی طور پر منتخب مخدوم فیصل صالح حیات کی پی ایف ایف کی قیادت کو تسلیم کرلیاہے اورہم فیفا کی جانب سے مجوزہ ترامیم کو دیئے گئے ٹیم فریم میں یقینی بنائیں گے۔