اقوام متحدہ اور مسئلہ کشمیر

پاکستان اس وقت نہ صرف داخلی بلکہ خارجی سطح پر بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے

عالمی سطح پر اپنے بڑھتے ہوئے کردار کے باعث بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آئے ہوئے ہیں جہاں انھوں نے جنوبی ایشیا میں بھارت کی جانب سے پیدا کی جانے والی کشیدگی اور مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے علاوہ پاکستان میں تجارتی اور معاشی ترقی کے لیے مختلف ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیں اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے لیے ترغیبات دیں۔ انھوں نے مختلف اجلاسوں سے بھی خطاب کیا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بان کی مون کے ساتھ ملاقات میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان صبر وتحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے جب کہ بھارتی رویے سے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قرارداد پر عمل درآمد اور کشمیری عوام کی مرضی جاننے کے لیے استصواب رائے کرایا جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک میں بات چیت شروع کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی اور دونوں ممالک کے باہمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ نئے تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے اور اگر کہا جائے تو افغانستان میں مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

پاکستان اس وقت نہ صرف داخلی بلکہ خارجی سطح پر بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے، خصوصی طور پر بھارت اور افغانستان کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل نے اس کی سلامتی کے لیے بہت سے خطرات کو جنم دیا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر تعاون حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ متحرک کردار ادا کرے۔


پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو اپنا کردار ادا کرنے پر زور دے کر پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا اور واضح کر دیا کہ جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوتے جنوبی ایشیا میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ بان کی مون نے بھی دونوں ممالک کے تنازعات حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیش کش تو کی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔

آیا وہ پاک بھارت تنازعات حل کرانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا معاملات جوں کے توں ہی چلتے رہیں گے اور معاملہ گفتند،نشستند اور برخاستند سے آگے نہیں بڑھ پائے گا۔تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں تو پہلے ہی سے موجود ہیں اور پاکستان متعدد بار اقوام متحدہ کے فورم پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے آواز اٹھا چکا ہے اور اقوام متحدہ ہر بار اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور تو دیتی چلی آئی ہے مگر ابھی تک اس سلسلے میں اس کا کوئی ٹھوس کردار سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس نے کبھی بھارت پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کرنے کا راستہ اپنائے۔ عالمی سطح پر اپنے بڑھتے ہوئے کردار کے باعث بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔

پاکستان کو بخوبی ادراک ہے کہ اگر بھارت ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا لہٰذا بان کی مون سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بالکل صائب موقف اپنایا کہ اقوام متحدہ کے مستقل نمایندوں میں اضافے کے بجائے جمہوری انداز اپنایا جائے۔

علاوہ ازیں دنیا بھر میں پائیدار ترقی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور چینی صدر کی زیرصدارت ''جنوب جنوب تعاون گول میز کانفرنس'' سے خطاب کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری جنوب جنوب تعاون کی ایک بہترین مثال ہے، اس راہداری منصوبے سے پورے خطے اور دیگر ممالک کو بھی اقتصادی اور ترقیاتی فوائد حاصل ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات میں جرمن سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ جرمنی کی ٹیکنالوجی اور تکنیکی مہارت کے ذریعے تھر کا کوئلہ نکالنے کے لیے سرمایہ کاری کریں۔

سری لنکن صدر سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید کرکٹ سیریز ہوں گی۔

اگر اقوام متحدہ جنوبی ایشیا کے مسائل حل کرنے میں واقعی مخلص اور سنجیدہ ہے تو اسے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر دباؤ بڑھانا چاہیے کہ وہ نہ صرف سرحدی کشیدگی کا خاتمہ کریں بلکہ باہمی تنازعات کے حل کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ اگر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس موقع پر خاموشی اختیار کرتے ہیں تو پھر اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا کا خطہ یونہی کشیدگی کی آگ میں جلتا رہے گا۔
Load Next Story