بھارت ایسے ہی جواب کا حقدار ہے
اگر بھارت معاہدے سے پھرا تو ہمارا ایک اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ ٹھیک ہے ہم بھی اب آپ کے خلاف نہیں کھیلیں گے،چئیرمین
سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے بعد بنگلا ددیش کی خواتین ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی، شہریار خان۔ فوٹو: فائل
لاہور کی ایک سہانی شام کا ذکر ہے،انتہائی تیز بارش ہو رہی تھی،کراچی والے تو برسات کیلیے ویسے ہی ترستے رہتے ہیں،میں موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے قذافی اسٹیڈیم پہنچا وہاں میری چیئرمین پی سی بی شہریارخان کے ساتھ ملاقات طے تھی،مجھے ان کی ایک بات پسند ہے کہ لگی لپٹی نہیں رکھتے جو بات ہو صاف بتا دیتے ہیں۔
اس وقت بھی انھوں نے ایک سے زائد بار یہ بات کہی کہ '' بھارت ہم سے سیریز نہیں کھیلا تو ضروری ایکشن کا سوچیں گے'' اب میں نے موقع دیکھتے ہی اس کے بارے میں پوچھ لیا ایسے میں چیئرمین نے جو جواب دیا وہ سن کر میرے ہاتھ سے چائے کی پیالی گرتے گرتے بچی، انھوں نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ '' اگر بھارت معاہدے سے پھرا تو ہمارا ایک اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ ٹھیک ہے ہم بھی اب آپ کے خلاف نہیں کھیلیں گے، اگر آئی سی سی یا اے سی سی کا کوئی ایونٹ ہو تو پھر ہو سکتا ہے کہ ہم کہیں کہ آپ ہم سے سیریز نہیں کھیلتے تو ہم بھی نہیں کھیلیں گے، چاہے وہ ریجنل چیمپئن شپ ہی کیوں نہ ہو، مگر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم ضرور ایسا کرنے جا رہے ہیں لیکن کوئی نہ کوئی ایکشن ضرور لیا جائے گا''۔
یہ باتیں سن کر مجھے حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی، حیرت اس بات پر کہ ہمارا بورڈ جو ہر وقت سیریز کیلیے بھارت کی منت سماجت کر رہا تھا پہلی بار اس نے برابری کی سطح پر کوئی سخت بات کیسے کر دی،خوشی یوں تھی کہ بی سی سی آئی ایسے ہی جواب کا حقدار تھا،وہ ہمیں بالکل لفٹ نہیں کرا رہا، شہریارخان جب بات کرنے کولکتہ گئے تو انھیں اہلیہ کے ہمراہ کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر قید رکھا گیا،وہ کئی خطوط لکھ چکے کوئی جواب تک نہیں دیا جا رہا، ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت بھارت پاکستان سے کھیلنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
ایسے میں کشکول لے کر اس کے پیچھے بھاگنے کا کیا فائدہ، آپ اپنے وقار کا تو خیال رکھیں، چیئرمین نے جس طرح کا کرارا جواب دیا بھارت اسی کا حقدار ہے،مجھے اندازہ تو تھا ہی اور بعد میں یہی ہوا بھارتی اخبارات نے ''ایکسپریس'' کی خبر ترجمہ کرکے شہ سرخیوں میں شائع کی اور وہاں طوفان برپا ہو گیا، میڈیا کا زور اسی بات پر تھا کہ پاکستان نے ہمیں کیسے دھمکی دے دی، راجیو شکلا نے انتہائی سخت ردعمل بھی ظاہر کیا۔ ویسے جیسے ایٹم بم بطور دھمکی استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی طرح پاکستان نے بھی آئی سی سی ایونٹس میں عدم شرکت والی بات کہی کہ شاید اس سے پتھر دل بھارت پر کچھ اثر پڑے، حقیقت میں اتنے انتہائی اقدام کا امکان کم ہی ہے،البتہ بھارت اتنا ڈھیٹ واقع ہوا ہے کہ اس کے سامنے کچھ بھی کرلیں فرق نہیں پڑنے والا۔ وہ مثبت انداز اپنانے کے بجائے الٹا پاکستان کو ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے کوئی سخت قدم اٹھایا تو آئی سی سی کی جانب سے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا،اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر کسی ملک کو حکومت کھیلنے سے روک دے تو پھر کونسل کچھ نہیں کر سکتی، بھارت میں ان دنوں پاکستان مخالف فضا عروج پر ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں خاص کمی واقع نہیں ہوئی، ایسے میں اگر پی سی بی حکومت سے کہے تو وہ آسانی سے سیکیورٹی خدشات پر ٹیم کو بھارت کیخلاف کھیلنے سے روک سکتی ہے، پھر کوئی جرمانہ بھی نہیں بھرنا پڑے گا، میں یاد دلاتا چلوں کہ ورلڈکپ 1996میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سیکیورٹی مسائل کو جواز بنا کر سری لنکا جانے سے انکارکر دیا تھا تاہم ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، میزبان سائیڈ کو دونوں میچز میں واک اوور ملا اور وہ فائنل میں کینگروز کو شکست دے کرورلڈ چیمپئن بھی بنی۔ خیر ہمارا کرکٹ بورڈ اتنا انتہا پسند نہیں ہے کہ کرکٹ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا چاہے۔
ہم تو چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں تواتر سے کھیلیں تاکہ نفرتیں کم ہوں، بجائے اصل گولہ باری کے فیلڈ میں ٹیموں کی جنگ ہو،یقین مانیے اب بھی عوام کے دلوں میں اتنی نفرت نہیں آئی جتنی سیاستدان اور بھارتی میڈیا کوشش کر رہا ہے، شاہد آفریدی، عمر اکمل اور عرفان جیسے کھلاڑی بھارتیوں کو بھی پسند ہیں،وہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان سے مقابلہ ہو، مگر کھیل کی باگ دوڑ سیاستدان سنبھالیں گے تو ایسا ہی ہو گا جو اب ہوا، سیکریٹری بی سی سی آئی انوراگ ٹھاکر پاکستان کو دہشت گرد ملک تک قرار دے چکے، انھوں نے ٹویٹر پر ہرزہ سرائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
راجیو شکلا کے منہ سے بھی انگارے برستے رہے، یہ سب ٹھیک تھا مگر جیسے ہی شہریارخان نے پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے چند سخت جملے کہے تو بھارتیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی،اگر آپ کسی کو مسلسل پتھر ماریں گے تو وہ ہمیشہ پھول تھامے تو نہیں کھڑا ہو گا، دوستی ضرور ہونی چاہیے مگر برابری کی سطح پر، کرکٹ میں ہماری بھی اہم پوزیشن ہے، ایسے میں ہم جھک کر کیوں رہیں، اگر سیریز کھیلنے سے پاکستان کو مالی فائدہ ہو گا تو بھارت کوئی خالی ہاتھ تو نہیں رہے گا، سب جانتے ہیں کہ روایتی حریف ٹیموں میں مقابلوں کے وقت شائقین اور اسپانسرز کو کتنی دلچسپی ہوتی ہے۔
فلم ''بجرنگی بھائی جان'' کی ریکارڈ ساز کامیابی اور ''فینٹم'' کا فلاپ ہونا ثابت کرتا ہے کہ بھارتی عوام بھی دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات چاہتی ہے، مگر سیاستدانوں کا کیا کریں ان کی تو روزی روٹی ہی نفرت کے پرچار سے ہے،انوراگ ٹھاکر اور راجیو شکلا اگر مثبت باتیں کرنے لگیں تو اگلے الیکشن میں ان کی اپنی پارٹی انھیں ٹکٹ نہیں دے گی،ایسے ماحول میں کرکٹ سیریزکا امکان ممکن نہیں لگتا، پاکستان نے پہلی بار درست موقف اپنایا، ایسے ہی برابری کی سطح پر بات کرنی چاہیے، اس بار اختتام ایک شعر کے ساتھ کروں گا جو صلاح الدین صلو نے کل ہی سنایا تھا۔
''جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر
سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے''
اس وقت بھی انھوں نے ایک سے زائد بار یہ بات کہی کہ '' بھارت ہم سے سیریز نہیں کھیلا تو ضروری ایکشن کا سوچیں گے'' اب میں نے موقع دیکھتے ہی اس کے بارے میں پوچھ لیا ایسے میں چیئرمین نے جو جواب دیا وہ سن کر میرے ہاتھ سے چائے کی پیالی گرتے گرتے بچی، انھوں نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ '' اگر بھارت معاہدے سے پھرا تو ہمارا ایک اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ ٹھیک ہے ہم بھی اب آپ کے خلاف نہیں کھیلیں گے، اگر آئی سی سی یا اے سی سی کا کوئی ایونٹ ہو تو پھر ہو سکتا ہے کہ ہم کہیں کہ آپ ہم سے سیریز نہیں کھیلتے تو ہم بھی نہیں کھیلیں گے، چاہے وہ ریجنل چیمپئن شپ ہی کیوں نہ ہو، مگر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم ضرور ایسا کرنے جا رہے ہیں لیکن کوئی نہ کوئی ایکشن ضرور لیا جائے گا''۔
یہ باتیں سن کر مجھے حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی، حیرت اس بات پر کہ ہمارا بورڈ جو ہر وقت سیریز کیلیے بھارت کی منت سماجت کر رہا تھا پہلی بار اس نے برابری کی سطح پر کوئی سخت بات کیسے کر دی،خوشی یوں تھی کہ بی سی سی آئی ایسے ہی جواب کا حقدار تھا،وہ ہمیں بالکل لفٹ نہیں کرا رہا، شہریارخان جب بات کرنے کولکتہ گئے تو انھیں اہلیہ کے ہمراہ کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر قید رکھا گیا،وہ کئی خطوط لکھ چکے کوئی جواب تک نہیں دیا جا رہا، ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت بھارت پاکستان سے کھیلنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
ایسے میں کشکول لے کر اس کے پیچھے بھاگنے کا کیا فائدہ، آپ اپنے وقار کا تو خیال رکھیں، چیئرمین نے جس طرح کا کرارا جواب دیا بھارت اسی کا حقدار ہے،مجھے اندازہ تو تھا ہی اور بعد میں یہی ہوا بھارتی اخبارات نے ''ایکسپریس'' کی خبر ترجمہ کرکے شہ سرخیوں میں شائع کی اور وہاں طوفان برپا ہو گیا، میڈیا کا زور اسی بات پر تھا کہ پاکستان نے ہمیں کیسے دھمکی دے دی، راجیو شکلا نے انتہائی سخت ردعمل بھی ظاہر کیا۔ ویسے جیسے ایٹم بم بطور دھمکی استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی طرح پاکستان نے بھی آئی سی سی ایونٹس میں عدم شرکت والی بات کہی کہ شاید اس سے پتھر دل بھارت پر کچھ اثر پڑے، حقیقت میں اتنے انتہائی اقدام کا امکان کم ہی ہے،البتہ بھارت اتنا ڈھیٹ واقع ہوا ہے کہ اس کے سامنے کچھ بھی کرلیں فرق نہیں پڑنے والا۔ وہ مثبت انداز اپنانے کے بجائے الٹا پاکستان کو ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے کوئی سخت قدم اٹھایا تو آئی سی سی کی جانب سے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا،اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر کسی ملک کو حکومت کھیلنے سے روک دے تو پھر کونسل کچھ نہیں کر سکتی، بھارت میں ان دنوں پاکستان مخالف فضا عروج پر ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں خاص کمی واقع نہیں ہوئی، ایسے میں اگر پی سی بی حکومت سے کہے تو وہ آسانی سے سیکیورٹی خدشات پر ٹیم کو بھارت کیخلاف کھیلنے سے روک سکتی ہے، پھر کوئی جرمانہ بھی نہیں بھرنا پڑے گا، میں یاد دلاتا چلوں کہ ورلڈکپ 1996میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سیکیورٹی مسائل کو جواز بنا کر سری لنکا جانے سے انکارکر دیا تھا تاہم ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، میزبان سائیڈ کو دونوں میچز میں واک اوور ملا اور وہ فائنل میں کینگروز کو شکست دے کرورلڈ چیمپئن بھی بنی۔ خیر ہمارا کرکٹ بورڈ اتنا انتہا پسند نہیں ہے کہ کرکٹ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا چاہے۔
ہم تو چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں تواتر سے کھیلیں تاکہ نفرتیں کم ہوں، بجائے اصل گولہ باری کے فیلڈ میں ٹیموں کی جنگ ہو،یقین مانیے اب بھی عوام کے دلوں میں اتنی نفرت نہیں آئی جتنی سیاستدان اور بھارتی میڈیا کوشش کر رہا ہے، شاہد آفریدی، عمر اکمل اور عرفان جیسے کھلاڑی بھارتیوں کو بھی پسند ہیں،وہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان سے مقابلہ ہو، مگر کھیل کی باگ دوڑ سیاستدان سنبھالیں گے تو ایسا ہی ہو گا جو اب ہوا، سیکریٹری بی سی سی آئی انوراگ ٹھاکر پاکستان کو دہشت گرد ملک تک قرار دے چکے، انھوں نے ٹویٹر پر ہرزہ سرائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
راجیو شکلا کے منہ سے بھی انگارے برستے رہے، یہ سب ٹھیک تھا مگر جیسے ہی شہریارخان نے پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے چند سخت جملے کہے تو بھارتیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی،اگر آپ کسی کو مسلسل پتھر ماریں گے تو وہ ہمیشہ پھول تھامے تو نہیں کھڑا ہو گا، دوستی ضرور ہونی چاہیے مگر برابری کی سطح پر، کرکٹ میں ہماری بھی اہم پوزیشن ہے، ایسے میں ہم جھک کر کیوں رہیں، اگر سیریز کھیلنے سے پاکستان کو مالی فائدہ ہو گا تو بھارت کوئی خالی ہاتھ تو نہیں رہے گا، سب جانتے ہیں کہ روایتی حریف ٹیموں میں مقابلوں کے وقت شائقین اور اسپانسرز کو کتنی دلچسپی ہوتی ہے۔
فلم ''بجرنگی بھائی جان'' کی ریکارڈ ساز کامیابی اور ''فینٹم'' کا فلاپ ہونا ثابت کرتا ہے کہ بھارتی عوام بھی دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات چاہتی ہے، مگر سیاستدانوں کا کیا کریں ان کی تو روزی روٹی ہی نفرت کے پرچار سے ہے،انوراگ ٹھاکر اور راجیو شکلا اگر مثبت باتیں کرنے لگیں تو اگلے الیکشن میں ان کی اپنی پارٹی انھیں ٹکٹ نہیں دے گی،ایسے ماحول میں کرکٹ سیریزکا امکان ممکن نہیں لگتا، پاکستان نے پہلی بار درست موقف اپنایا، ایسے ہی برابری کی سطح پر بات کرنی چاہیے، اس بار اختتام ایک شعر کے ساتھ کروں گا جو صلاح الدین صلو نے کل ہی سنایا تھا۔
''جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر
سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے''