عالمی امن اور طاقتور اقوام

بارک اوباما نے اعتراف کیا کہ کوئی ملک اکیلے دنیا کے مسائل حل نہیں کر سکتا، اس کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

عالمی امن کے قیام کے لیے کوئی قابل قبول ارینجمنٹ بنائیں اور اقوام متحدہ کو زیادہ فعال کریں تا کہ دنیا دہشت گردی اور بے امنی سے نجات حاصل کر کے امن کے ماحول میں زندہ رہ سکے۔ فوٹو : فائل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ روز دنیا کی بڑی طاقتوں کے سربراہوں نے خطاب کیا، امریکا کے صدر اوباما، روس کے صدر پیوٹن اور چینی صدر کے خطابات میں جو کہا گیا اس سے دنیا کی سیاست اور ان طاقتوں کے عزائم، مقاصد اور ترجیحات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، سب نے دہشت گردی، جمہوریت اور عالمی امن کی بات کی لیکن ہر ایک کا نقطہ نظر اور چیزوں کو دیکھنے اور انھیں حل کرنے کا نظریہ اور خیال الگ الگ نظر آیا۔

امریکا کے صدر بارک اوباما نے اعتراف کیا کہ کوئی ملک اکیلے دنیا کے مسائل حل نہیں کر سکتا، اس کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ عراق میں ہم نے سبق سیکھا کہ طاقت اور پیسے کے زور پر دوسرے ملک میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ علاقوں پر قابض ہونا اب طاقت کی علامت نہیں رہی اب قوموں کی طاقت کا مرکز وہاں کے عوام ہوتے ہیں، آگے بڑھنے کے لیے ہمیں جمہوریت کا تحفظ کرنا ہو گا۔ صرف متحد ہو کر ہم دنیا سے غربت ختم کر سکتے ہیں لیکن دنیا میں لوگوں کے خوف کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

کوئی ملک اور قوم دہشت گردی اور مالی مسائل سے بچی ہوئی نہیں۔ روس کے خلاف پابندیاں سرد جنگ کی طرف لوٹنے کی عکاس نہیں۔ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ عارضی نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ بین الاقوامی نظام کی مضبوطی کا عکاس ہے۔ داعش نے اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکا پچاس ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی امن فوج میں اضا فہ کر ے گا۔ شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے ہی لوگوں پر بم گرا کر قتل عام کیا۔

آمرانہ ادوار ہمیشہ ریاست کو کمزور کرتے ہیں۔ اپنے وطن کے دفاع کے لیے مجھے کبھی ہچکچاہٹ نہیں ہو سکتی۔ ضرورت پڑنے پر اپنے ملک اور اتحادیوں کا بھر پور دفاع کروں گا۔ امریکا شام کے تنازعے کے خاتمے کے لیے ایران اور روس سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے لیکن ہمیں لازمی اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ بہت زیادہ خون خرابے اور قتل عام کے بعد وہاں (حکومت کی) جنگ سے پہلے کی جوں کی توں صورتحال نہیں رہنی چاہے۔


امریکی صدر کے فورا بعد اپنے خطاب میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ شام کی سرکاری فوج ان دہشت گردوں سے براہِ راست لڑنے میں مصروف ہے اس لیے دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کے لیے ان کا تعاون بہت ضروری ہے۔ روس کا موقف ہے کہ دولتِ اسلامیہ سے مقابلہ کرنے کے لیے بشارالاسد سے تعاون نہ کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔ چین کے صدر ژی چن پنگ نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرتی ناہمواریوں کی وجہ سے آج دنیا کا امن تباہ ہو چکا ہے۔ امیر اور غریب کا فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ چھوٹے اور بڑے ممالک کوایک دوسرے کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی مسائل کی ذمے داری قبول کریں۔ چین آیندہ پانچ سال میں افریقن یونین کو سو ملین ڈالر فوجی امداد دے گا۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ دنیا میں امن و سکون چاہتے ہیں لیکن دہشت گردی نے دنیا کے امن کو تباہ کر دیا ہے، تمام ممالک کے مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہیں۔ اسرائیل اور فلسطین مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں، کوریا کے دونوں حصے مفاہمتی عمل شروع کریں۔ یمن کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہو نا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کی صلاحتیں بہت کم ہیں جنھیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں انسانی جانوں کی بچانے کے لیے خاطر خواہ فنڈز نہیں مل رہے ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر پر سب کو سختی سے عمل کرنا ہو گا۔

دنیا بھر کے ممالک پر نظر ڈالی جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں کے سیاسی اور معاشی نظام کو دنیا کی چند بڑی طاقتیں ہی چلا رہی ہیں۔ ان بڑی طاقتوں میں امریکا، روس، چین اہم ترین ہیں۔ اگر دنیا میں جاری لڑائیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں یہی بڑی طاقتیں ملوث نظر آتی ہیں۔ شام اور عراق کا بحران اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔

یہاں شام کے صدر بشار کی حمایت میں روس کھل کر میدان میں ہے جب کہ امریکا اور اس کے حواری چاہتے ہیں کہ داعش بھی کنٹرول میں رہے اور بشار انتظامیہ کا بھی خاتمہ ہو جائے لیکن روس اور چین اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ امریکا اور اس کے حامی صنعتی ممالک چین کے اقتصادی پھیلاؤ سے خائف ہیں اور وہ روس کی معیشت کو بھی ایک حد سے زیادہ آگے نہیں بڑھنے دینا چاہتے۔ یہ وہ تضادات ہیں جن کی وجہ سے کمزور اور پسماندہ ممالک میں بے چینی اور خلفشار بڑھ رہا ہے۔

پورا براعظم افریقہ بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم کا اکھاڑا بنا ہوا ہے۔ دنیا کا انتہائی زرخیز اور قدرتی وسائل سے مالامال یہ براعظم غربت اور پسماندگی کا شکار ہے جب کہ اس کے آدھے سے زیادہ ممالک خانہ جنگی میں مبتلا ہیں۔ بہرحال امریکا کے پالیسی سازوں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ امریکا دنیا کی تنہا سپرپاور کے درجے پر زیادہ دیر تک فائز نہیں رہ سکتا۔ صدر اوباما نے واضح کر دیا ہے کہ امریکا اکیلا دنیا کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کو محدود کریں۔ عالمی امن کے قیام کے لیے کوئی قابل قبول ارینجمنٹ بنائیں اور اقوام متحدہ کو زیادہ فعال کریں تا کہ دنیا دہشت گردی اور بے امنی سے نجات حاصل کر کے امن کے ماحول میں زندہ رہ سکے۔
Load Next Story