زیر زمیں پانی کی سطح میں خطرناک کمی
زیر زمیں پانی کا مسئلہ گزشتہ پندرہ سال سے انتہائی خطرناک ہوتا جارہا ہے، بلوچستان کے کاریز تباہ ہوچکے
عالمی ماہرین نے 15 نکاتی حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آیندہ جنگیں تیل نہیں پانی پر ہونگی۔ فوٹو: فائل
پانی کی قلت کا مسئلہ عالمی بحران سے جڑا ہوا ہے تاہم حکومتوں کے تساہل اور آبی وسائل یا سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کا انفرا اسٹرکچر نہ ہونے کے باعث دنیا کے بیشتر غریب اور ترقی پزیر ممالک ہائے پانی ہائے پانی کی صدا لگا رہے ہیں ۔ عالمی سطح پر 90 کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، اس وقت ملک بھر کے شہری علاقوں کا یکساں حال ہے جہاں سیکڑوں پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیاں، پوش علاقے ، سروس اسٹیشنز اور سرکاری ادارے چوبیس گھنٹے بے دریغ زیر زمین پانی استعمال کررہے ہیں جس سے پانی کی سطح گزشتہ پندرہ سال کے دوران کئی سوفٹ نیچے چلی گئی ، حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔
پینے کے پانی کی قلت چاروں صوبوں کا اجتماعی مسئلہ بن چکا ہے، اسی طرح عالمی خوراک اور غذاؤں کا شعبہ بھی 70 فیصد فریش واٹر استعمال کرتا ہے اس سے بھی قلت آب پیدا ہوئی ۔ ادھر تھر اور جام شورو سمیت اندرون سندھ لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں، ماہرین کراچی میں زیر زمین پانی کے ذخائر کے بتدریج خاتمے کو تشویش ناک قرار دے چکے ہیں۔
دریائے سندھ میں پہلے جیسی آبی فراخی نہیں رہی ، خود اس کے ہونٹ پیاسے نظر آتے ہیں،گرمیوں میں خواتین مٹکے سروں پر رکھے خاک اڑاتی وہاں سے گزرتی ہیں، اتنے برسوں میں سیاست دان ڈیموں کی تعمیر اور عدم تعمیر کی بحثوں میں وقت ضایع ہی کرتے رہے۔ ادھر بھارت میں ''پوتر'' دریائے گنگا کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی جدید بھارت کے بوجھ تلے مر رہا ہے۔ عالمی ماہرین نے 15 نکاتی حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آیندہ جنگیں تیل نہیں پانی پر ہونگی ۔ عالمی اقتصادی فورم پہلے ہی آبی قلت کو دنیا کا سرفہرست عالمی خطرہ قراردیا ہے۔
زیر زمیں پانی کا مسئلہ گزشتہ پندرہ سال سے انتہائی خطرناک ہوتا جارہا ہے، بلوچستان کے کاریز تباہ ہوچکے، خیبر پختونخوا میں بھی عوام کو پانی آسانی سے نہیں ملتا۔ زیر زمیں پانی میں کمی ایک خاموش تباہی ہے۔ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا پنجاب انتظامیہ کو بھی ہے جہاں ایک طرف عدم توجہی کی وجہ سے واٹر ایکٹ پنجاب اسمبلی سے منظور نہ ہوسکا جب کہ دوسری جانب لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح انتہائی حد تک نیچے ہوتی جارہی ہے۔ مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پنجاب زیر زمین پانی کے وافر ذخائر کے حوالے سے کبھی بحران کا شکار نہیں رہا ۔اب کیا اسے بھی پانی کی ہمہ جہتی قلت کی سنگینی کا سامنا ہوگا؟ حکام اس سوال کا جواب دیں۔
پینے کے پانی کی قلت چاروں صوبوں کا اجتماعی مسئلہ بن چکا ہے، اسی طرح عالمی خوراک اور غذاؤں کا شعبہ بھی 70 فیصد فریش واٹر استعمال کرتا ہے اس سے بھی قلت آب پیدا ہوئی ۔ ادھر تھر اور جام شورو سمیت اندرون سندھ لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں، ماہرین کراچی میں زیر زمین پانی کے ذخائر کے بتدریج خاتمے کو تشویش ناک قرار دے چکے ہیں۔
دریائے سندھ میں پہلے جیسی آبی فراخی نہیں رہی ، خود اس کے ہونٹ پیاسے نظر آتے ہیں،گرمیوں میں خواتین مٹکے سروں پر رکھے خاک اڑاتی وہاں سے گزرتی ہیں، اتنے برسوں میں سیاست دان ڈیموں کی تعمیر اور عدم تعمیر کی بحثوں میں وقت ضایع ہی کرتے رہے۔ ادھر بھارت میں ''پوتر'' دریائے گنگا کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی جدید بھارت کے بوجھ تلے مر رہا ہے۔ عالمی ماہرین نے 15 نکاتی حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آیندہ جنگیں تیل نہیں پانی پر ہونگی ۔ عالمی اقتصادی فورم پہلے ہی آبی قلت کو دنیا کا سرفہرست عالمی خطرہ قراردیا ہے۔
زیر زمیں پانی کا مسئلہ گزشتہ پندرہ سال سے انتہائی خطرناک ہوتا جارہا ہے، بلوچستان کے کاریز تباہ ہوچکے، خیبر پختونخوا میں بھی عوام کو پانی آسانی سے نہیں ملتا۔ زیر زمیں پانی میں کمی ایک خاموش تباہی ہے۔ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا پنجاب انتظامیہ کو بھی ہے جہاں ایک طرف عدم توجہی کی وجہ سے واٹر ایکٹ پنجاب اسمبلی سے منظور نہ ہوسکا جب کہ دوسری جانب لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح انتہائی حد تک نیچے ہوتی جارہی ہے۔ مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پنجاب زیر زمین پانی کے وافر ذخائر کے حوالے سے کبھی بحران کا شکار نہیں رہا ۔اب کیا اسے بھی پانی کی ہمہ جہتی قلت کی سنگینی کا سامنا ہوگا؟ حکام اس سوال کا جواب دیں۔