بھارتی نرگسیت کا بھیانک انجام
حکمرانوں اورفوج کی سوچ نے بھارت کو آج ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے ، جہاں وہ اقوام عالم میں تنہا ہوچکا ہے
حکمرانوں اورفوج کی سوچ نے بھارت کو آج ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے ، جہاں وہ اقوام عالم میں تنہا ہوچکا ہے:فوٹو:فائل
خطے میں بالادستی اور سپر پاور بننا بھارت کا پرانا خواب ہے، اس سلسلے میں تمام حربے بروئے کار لائے گئے، سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لیے، لیکن ہوا کیا، سارے کیے دھرے پر پانی پھرگیا ، سارے خواب چکنا چورہوگئے بھارت کے ۔ نیویارک میں متحدہ متفقہ گروپ (یو ایف سی) کے وزارتی سطح کے ایک اجلاس میں رکن ممالک نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان میں کسی توسیع کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ یو ایف سی کا موقف تھا کہ نئے مستقل ارکان کی شمولیت سے اہم مقاصد کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوگی جو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے اجتماعی مفاد میں نہ ہوگی۔
تکبر،رعونت ،خود پرستی اور نرگسیت کا شکار بھارتی اسٹیبلشمنٹ ،حکمرانوں اورفوج کی سوچ نے بھارت کو آج ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے ، جہاں وہ اقوام عالم میں تنہا ہوچکا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابات جیتنے کے لیے شائننگ انڈیا کے نعرے کو آگے بڑھایا، تبدیلی کی امید پر غریب عوام نے انھیں راج سنگھاسن تک پہنچایا، وہ وزیراعظم بننے کے بعد کوئی چمتکار تو نہ دکھا پائے، ماسوائے ہندوتوا، بندے ماترم کے ترانے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ اور ایک جنگی جنون پیدا کرنے کے ۔ سری لنکا، نیپال، افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش سب ہی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور 'را' کی منفی سرگرمیوں کا ہدف ہیں ، سب کا جینا اجیرن بنا رکھا ہے بھارت نے ۔چین جیسی مستحکم سپرپاور سے بھی بھارت جنگ کرچکا ہے۔
مہا بھارت جیسے خواب سراب کے پیچھے خوار ہونا ہی نصیب میں لکھا ہے ،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جبلت خودنمائی کی انتہا پرسفارتی آداب کو بالائے طاق رکھا اور تصویر بنوانے کے شوق میں فیس بک کے بانی کو زبردستی کھینچ کر اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوئے پائے گئے ، جگ ہنسائی اور رسوائی ملی اس عمل کے نتیجے میں۔دنیا بدل گئی، لیکن بھارت کی سوچ فرسودہ ہی رہی۔ مودی تو ویسے بھی بظاہر اجلی شیروانی پر سے مسلمانوں کے خون کے دھبے صاف نہیں کرسکتے۔
ان کو جو مینڈیٹ ملا تھا اس کو وہ بھارت کو کٹرہندو ریاست بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔دنیا کے ممالک اوران کے حکمران اتنے نادان بھی نہیں ہیں کہ ان کی نظروں سے بھارت کے سیاہ کارنامے پوشیدہ ہوں، پاکستان کو دولخت کرنے پر مودی فخر کا اظہارکر کے 'ایوارڈ' بھی وصول کرچکے ہیں ۔پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے قبل ازیں بھارت جا کر جو دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا ، اسے اگر مودی تھام لیتے تو آج ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگیوں میں انقلاب آچکا ہوتا ۔لیکن اب تو نریندر مودی اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں اور دور سے ہاتھ ہلا رہے ہیں ۔
کونسی خارجہ پالیسی ہے یہ، کونسے چلن ہیں زمانے کے ساتھ چلنے کے، ایک طرف ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ سے نہتے پاکستانیوں کی شہادت کے معاملات ہیں تو دوسری جانب مسئلہ کشمیر پر ہٹ دھرمی اور غاصبانہ قبضے کی سوچ ہے سات لاکھ فوج کی موجودگی اور مظالم بھی مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی لہرکو دبا نہیں سکے،آج بھی کشمیر کی فضا میں سبزہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں ۔
وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ اموروقومی سلامتی سرتاج عزیزنے او آئی سی کے رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرکے عوام کو حق خود ارادیت دینے کے بجائے ان کی آواز دبا رہا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔بھارت منفی سوچ ، روش اور رویے بدلے جب ہی وہ اقوام عالم میں کوئی مقام بنا سکتا ہے ورنہ رسوائی ہی رسوائی ہے۔
تکبر،رعونت ،خود پرستی اور نرگسیت کا شکار بھارتی اسٹیبلشمنٹ ،حکمرانوں اورفوج کی سوچ نے بھارت کو آج ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے ، جہاں وہ اقوام عالم میں تنہا ہوچکا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابات جیتنے کے لیے شائننگ انڈیا کے نعرے کو آگے بڑھایا، تبدیلی کی امید پر غریب عوام نے انھیں راج سنگھاسن تک پہنچایا، وہ وزیراعظم بننے کے بعد کوئی چمتکار تو نہ دکھا پائے، ماسوائے ہندوتوا، بندے ماترم کے ترانے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ اور ایک جنگی جنون پیدا کرنے کے ۔ سری لنکا، نیپال، افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش سب ہی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور 'را' کی منفی سرگرمیوں کا ہدف ہیں ، سب کا جینا اجیرن بنا رکھا ہے بھارت نے ۔چین جیسی مستحکم سپرپاور سے بھی بھارت جنگ کرچکا ہے۔
مہا بھارت جیسے خواب سراب کے پیچھے خوار ہونا ہی نصیب میں لکھا ہے ،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جبلت خودنمائی کی انتہا پرسفارتی آداب کو بالائے طاق رکھا اور تصویر بنوانے کے شوق میں فیس بک کے بانی کو زبردستی کھینچ کر اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوئے پائے گئے ، جگ ہنسائی اور رسوائی ملی اس عمل کے نتیجے میں۔دنیا بدل گئی، لیکن بھارت کی سوچ فرسودہ ہی رہی۔ مودی تو ویسے بھی بظاہر اجلی شیروانی پر سے مسلمانوں کے خون کے دھبے صاف نہیں کرسکتے۔
ان کو جو مینڈیٹ ملا تھا اس کو وہ بھارت کو کٹرہندو ریاست بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔دنیا کے ممالک اوران کے حکمران اتنے نادان بھی نہیں ہیں کہ ان کی نظروں سے بھارت کے سیاہ کارنامے پوشیدہ ہوں، پاکستان کو دولخت کرنے پر مودی فخر کا اظہارکر کے 'ایوارڈ' بھی وصول کرچکے ہیں ۔پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے قبل ازیں بھارت جا کر جو دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا ، اسے اگر مودی تھام لیتے تو آج ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگیوں میں انقلاب آچکا ہوتا ۔لیکن اب تو نریندر مودی اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں اور دور سے ہاتھ ہلا رہے ہیں ۔
کونسی خارجہ پالیسی ہے یہ، کونسے چلن ہیں زمانے کے ساتھ چلنے کے، ایک طرف ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ سے نہتے پاکستانیوں کی شہادت کے معاملات ہیں تو دوسری جانب مسئلہ کشمیر پر ہٹ دھرمی اور غاصبانہ قبضے کی سوچ ہے سات لاکھ فوج کی موجودگی اور مظالم بھی مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی لہرکو دبا نہیں سکے،آج بھی کشمیر کی فضا میں سبزہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں ۔
وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ اموروقومی سلامتی سرتاج عزیزنے او آئی سی کے رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرکے عوام کو حق خود ارادیت دینے کے بجائے ان کی آواز دبا رہا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔بھارت منفی سوچ ، روش اور رویے بدلے جب ہی وہ اقوام عالم میں کوئی مقام بنا سکتا ہے ورنہ رسوائی ہی رسوائی ہے۔