جان شیراسکواش کی اولمپکس میں عدم شمولیت پربرہم
آئی او سی نے مقبول ترین کھیل کوٹوکیوگیمز سے دوررکھ کر ناانصافی کی، سابق اسٹار
آئی او سی نے مقبول ترین کھیل کوٹوکیوگیمز سے دوررکھ کر ناانصافی کی، سابق اسٹار۔ فوٹو : فائل
سابق اسٹار جان شیر خان اسکواش کو اولمپکس کا حصہ نہ بنانے پر سخت برہم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے مقبول ترین کھیل کو ٹوکیو گیمز سے دور رکھ کر ناانصافی کی۔
''ایکسپریس ٹریبیون'' سے گفتگو کرتے ہوئے جان شیر خان نے کہا کہ اسکواش اب کسی ایک خطے کا کھیل نہیں رہا، اسے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے، ہر نوجوان کی خواہش ہے کہ وہ اس مشکل گیم میں حصہ لے، گورننگ باڈی اور آئی او سی نے اسکواش کو ٹوکیو اولمپکس2020 کا حصہ نہ بنا کر کھیل اور اس کے چاہنے والوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کھیل کی شمولیت کے لیے تمام کام مکمل کرلیا گیا اور سب کو یقین تھا کہ وہ جاپان میں اسکواش پلیئرزکو ایکشن میں دیکھیں گے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔
دوسری طرف پاکستانی ٹیم کے سابق کوچ جمشید گل نے کہا کہ ورلڈ فیڈریشن نے کھیل کو اولمپکس میں شامل کرنے کے لیے اپنا کیس احسن انداز سے لڑا لیکن ناکامی کیوں اور کیسے ہوئی اس کی وجوہات معلوم نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اولمپکس میں اسکواش کی شمولیت سے کھیل کی قدر اور وقار میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا، اچانک اسے 2020 ٹوکیو اولمپکس سے باہر کرنے کے فیصلے پر حیرانی ہوئی۔
یادرہے کہ ورلڈ فیڈریشن کے صدر نارائن راماچندرن نے گذشتہ دنوں افسردگی کے ساتھ کہا تھا کہ اسکواش کو ٹوکیو اولمپکس میں نئے شامل ہونے والے گیمز کی دوڑ سے باہر کردیا گیا، یہ کھیل کے لیے انتہائی افسوسناک دن ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے دنیا بھر میں کھیلے جانے والے کھیل کو ملٹی اسپورٹس ایونٹ کا حصہ بنانے کیلیے بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔
''ایکسپریس ٹریبیون'' سے گفتگو کرتے ہوئے جان شیر خان نے کہا کہ اسکواش اب کسی ایک خطے کا کھیل نہیں رہا، اسے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے، ہر نوجوان کی خواہش ہے کہ وہ اس مشکل گیم میں حصہ لے، گورننگ باڈی اور آئی او سی نے اسکواش کو ٹوکیو اولمپکس2020 کا حصہ نہ بنا کر کھیل اور اس کے چاہنے والوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کھیل کی شمولیت کے لیے تمام کام مکمل کرلیا گیا اور سب کو یقین تھا کہ وہ جاپان میں اسکواش پلیئرزکو ایکشن میں دیکھیں گے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔
دوسری طرف پاکستانی ٹیم کے سابق کوچ جمشید گل نے کہا کہ ورلڈ فیڈریشن نے کھیل کو اولمپکس میں شامل کرنے کے لیے اپنا کیس احسن انداز سے لڑا لیکن ناکامی کیوں اور کیسے ہوئی اس کی وجوہات معلوم نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اولمپکس میں اسکواش کی شمولیت سے کھیل کی قدر اور وقار میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا، اچانک اسے 2020 ٹوکیو اولمپکس سے باہر کرنے کے فیصلے پر حیرانی ہوئی۔
یادرہے کہ ورلڈ فیڈریشن کے صدر نارائن راماچندرن نے گذشتہ دنوں افسردگی کے ساتھ کہا تھا کہ اسکواش کو ٹوکیو اولمپکس میں نئے شامل ہونے والے گیمز کی دوڑ سے باہر کردیا گیا، یہ کھیل کے لیے انتہائی افسوسناک دن ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے دنیا بھر میں کھیلے جانے والے کھیل کو ملٹی اسپورٹس ایونٹ کا حصہ بنانے کیلیے بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔