اقوام متحدہ پر فلسطین کا پرچم لہرانے لگا
فلسطینی صدر جناب محمود عباس نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے۔
فلسطین کا اقوام متحدہ کی عمارت پر پرچم لہرانا اہم پیش رفت ہے اور وہ دن دور نہیں جب فلسطین کامل اقتدار اعلی کی حامل ریاست ہو گی۔ فائل : فوٹو
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کی فلک بوس عمارت پر بالآخر فلسطین کا سرخ، سیاہ، سفید اور سبز رنگ کا قومی پرچم بھی لہرا دیا گیا ہے۔ پرچم کشائی کی اس تقریب کی صدارت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کی۔ جب کہ فلسطینی صدر جناب محمود عباس نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے۔ فی الوقت ویٹیکن اور فلسطین دونوں کو اقوام متحدہ میں مکمل رکن کے بجائے صرف مبصر کا درجہ حاصل ہے۔
واضح رہے ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر کے حکمران شرکت کر رہے ہیں لیکن صورت احوال ''نشستند و گفتند و برخواستند'' والی ہی ہے کہ دیرینہ اور الجھے ہوئے عالمی مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا۔ صدر محمود عباس نے تمام فلسطینی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام فلسطینی اپنا قومی پرچم بلند کریں یہاں تک کہ یہ سب پرچموں سے بلند تر ہو جائے کیونکہ یہ ہماری قومی شناخت ہے۔
جہاں تک عالمی مسائل کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کارکردگی کا تعلق ہے تو قدیم ترین دو اہم مسائل میں جن میں ایک فلسطین اور دوسرا کشمیر ہے۔ ان کے بارے میں اقوام متحدہ نے ستر سال کے طویل عرصے میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔ جہاں تک اقوام متحدہ پر فلسطینی پرچم لہرانے کا تعلق ہے تو اس کی ایک علامتی حیثیت یقیناً ہو گی مگر کیا اسرائیل فلسطین کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں لاکھوں فلسطینیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ گاہے گاہے ان پر گولا باری کی مشق جاری رہتی ہے تا کہ وہ فلسطینی زمینوں پر مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف احتجاج نہ کریں۔ دریں اثنا فلسطینی صدر محمود عباس نے 1993ء میں طے پانے والے اوسلو امن معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کی ایک نئی سطح کے تناظر میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ اب ''اوسلو امن معاہدہ'' کی مزید پابندی نہیں کی جائے گی اور اس کے نتیجے میں دیگر سمجھوتے، جو دو ریاستی حل کی بنیاد پر بنائے گئے تھے کہ جن کے تحت اسرائیل فلسطین تنازع کو ختم کیا جا سکے، کے بھی پابند نہیں رہیں گے۔
صدر عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور انھیں بھی اب یہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ خود کو اس کا پابند محسوس نہیں کرتے۔ فلسطینی صدر نے بین الاقوامی برادری سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ فلسطینیوں کو اسرائیل سے تحفظ فراہم کرے۔ فلسطینی قیادت بتدریج اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہے جب کہ اسرئیل پسپا ہو رہا ہے۔ فلسطین کا اقوام متحدہ کی عمارت پر پرچم لہرانا اہم پیش رفت ہے اور وہ دن دور نہیں جب فلسطین کامل اقتدار اعلی کی حامل ریاست ہو گی اور اسے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت مل جائے گی۔
واضح رہے ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر کے حکمران شرکت کر رہے ہیں لیکن صورت احوال ''نشستند و گفتند و برخواستند'' والی ہی ہے کہ دیرینہ اور الجھے ہوئے عالمی مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا۔ صدر محمود عباس نے تمام فلسطینی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام فلسطینی اپنا قومی پرچم بلند کریں یہاں تک کہ یہ سب پرچموں سے بلند تر ہو جائے کیونکہ یہ ہماری قومی شناخت ہے۔
جہاں تک عالمی مسائل کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کارکردگی کا تعلق ہے تو قدیم ترین دو اہم مسائل میں جن میں ایک فلسطین اور دوسرا کشمیر ہے۔ ان کے بارے میں اقوام متحدہ نے ستر سال کے طویل عرصے میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔ جہاں تک اقوام متحدہ پر فلسطینی پرچم لہرانے کا تعلق ہے تو اس کی ایک علامتی حیثیت یقیناً ہو گی مگر کیا اسرائیل فلسطین کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں لاکھوں فلسطینیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ گاہے گاہے ان پر گولا باری کی مشق جاری رہتی ہے تا کہ وہ فلسطینی زمینوں پر مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف احتجاج نہ کریں۔ دریں اثنا فلسطینی صدر محمود عباس نے 1993ء میں طے پانے والے اوسلو امن معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کی ایک نئی سطح کے تناظر میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ اب ''اوسلو امن معاہدہ'' کی مزید پابندی نہیں کی جائے گی اور اس کے نتیجے میں دیگر سمجھوتے، جو دو ریاستی حل کی بنیاد پر بنائے گئے تھے کہ جن کے تحت اسرائیل فلسطین تنازع کو ختم کیا جا سکے، کے بھی پابند نہیں رہیں گے۔
صدر عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور انھیں بھی اب یہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ خود کو اس کا پابند محسوس نہیں کرتے۔ فلسطینی صدر نے بین الاقوامی برادری سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ فلسطینیوں کو اسرائیل سے تحفظ فراہم کرے۔ فلسطینی قیادت بتدریج اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہے جب کہ اسرئیل پسپا ہو رہا ہے۔ فلسطین کا اقوام متحدہ کی عمارت پر پرچم لہرانا اہم پیش رفت ہے اور وہ دن دور نہیں جب فلسطین کامل اقتدار اعلی کی حامل ریاست ہو گی اور اسے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت مل جائے گی۔