پاکستان دہشت گردی اور عالمی برادری

پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں پوری دنیا اس کی معترف ہے۔

دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے اس لیے امریکا اور دیگر بڑی قوتیں مل کر اس کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔فوٹو: آئی ایس پی آر

KARACHI:
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو لندن میں دارالعوام اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز میں گفتگو کے دوران کہا کہ ملک بھر سے دہشتگردوں کے ''سلیپر سیلز'' کا خاتمہ کریں گے، عالمی برادری پاکستانی حالات و ضروریات سمجھے، اپنی سرزمین پر کسی کو پراکسی وار نہیں لڑنے دیں گے۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف شروع کردہ فوجی آپریشن ضرب عضب کے اہم نتائج سامنے آئے ہیں، دہشتگردوں اور ان کی ''نرسریز'' کو ختم کرنا چاہتے ہیں، پاکستان عالمی برادری سے توقع کرتا ہے کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دوررس نتائج کے لیے سب کو دہشتگردوں اور انتہاپسندوں کی مالی معاونت اور فنڈنگ روکنا ہو گی، پاکستان مختلف دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کررہا ہے اور ہم نئے شدت پسند گروپوں کو پنپنے کی اجازت نہیں دیں گے، دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کو حل کرنے کے لیے عالمی سطح پر جامع اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں پوری دنیا اس کی معترف ہے۔ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث عالمی برادری پاکستان کے بارے میں تشویش کا شکار ہو چکی تھی، معاملات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود امریکا کی جانب سے ڈومور کی گردان ہی ختم ہونے پر نہیں آ رہی تھی اور آئے روز ڈرون حملوں کے باعث یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ جیسے پاکستان میں دہشت گردوں کی بہت بڑی تعداد پناہ لیے ہوئے ہے مگر اب کامیاب آپریشن ضرب عضب کے بعد صورت حال میں واضح تبدیلی آئی ہے۔

نہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانے اور نرسریز بڑی تعداد میں ختم ہوئی ہیں بلکہ ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی رک گیا ہے اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا بہتر تاثر ابھرا ہے جس کے بعد بیرونی سرمایہ کار بھی اس طرف راغب ہو رہے ہیں۔ چین نے پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبہ شروع کر رکھا ہے جو یقیناً پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا جس سے نہ صرف اس علاقے میں خوشحالی آئے گی بلکہ پورے خطے کو اس سے فائدہ ہو گا۔


بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک تھا دہشت گردی کے تمام مسائل امریکا اور اس کی اتحادی قوتوں کی پالیسیوں کے باعث پیدا ہوئے، ان پالیسیوں سے امریکا اور یورپ تو متاثر نہیں ہوئے مگر پاکستان براہ راست اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ آج پاکستان اپنی سرزمین پر لڑ رہا ہے، اس جنگ میں نہ صرف ہزاروں شہری بلکہ پانچ ہزار فوجی بھی شہید ہوئے، پاکستان کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور اس کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا جس کے اثرات ابھی تک چل رہے ہیں لیکن عالمی برادری نے اس موقع پر پاکستان کی اس طرح معاشی مدد نہیں کی جو اس کا حق تھا۔

اربوں ڈالر کے ہونے والے معاشی نقصان کے مقابلے میں بہت کم امداد دی گئی۔ یہ حقائق بھی منظر عام پر آ چکے ہیں کہ پاکستان میں پنپنے والی دہشت گردی کے پیچھے اس کے ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان کا ہاتھ ہے اس طرح پاکستان داخلی اور خارجی دو محاذوں پر بیک وقت جنگ لڑ رہا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے بالکل درست کہا عالمی برادری پاکستان کے حالات و ضروریات کو بھی سمجھے اور ان حقائق کو بھی مدنظر رکھے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے عالمی سطح ہی پر کوششیں کی جانی چاہیے دوسری طرف ان حقائق سے بھی منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ بیرونی امداد اور فنڈنگ کے بغیر کوئی بھی دہشت گرد گروہ زیادہ عرصے تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔

جنرل راحیل شریف نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب دلاتے ہوئے کہا کہ طویل المدت کامیابی کے لیے دہشت گردوں کی ہر طرح کی فنڈنگ روکنا ہو گی۔ عالمی برادری کو بھی ان ذرایع اور قوتوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے جو پس پردہ دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہیں، دہشت گردی کے ہمیشہ ہمیشہ خاتمے کے لیے عالمی برادری کو مربوط ردعمل دینا ہو گا ورنہ یہ ایک خطے سے دوسرے خطے تک پھیلتی چلی جائے گی اور جو ترقی یافتہ ممالک آج خود کو اس سے محفوظ سمجھ رہے ہیں آنے والے کل وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

اس امر کا خدشہ موجود ہے کہ اگر نئے سے نئے دہشت گرد گروپ ابھرتے رہے تو پھر تمام تر کوششوں کے باوجود دہشت گردی کا کبھی خاتمہ نہیں ہو گا، اسی لیے جنرل راحیل شریف نے یہ عزم ظاہر کیا کہ کسی نئے دہشت گرد گروپ کو ابھرنے نہیں دیا جائے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردوں کے مختلف گروہوں کے خلاف لڑ رہا ہے وہ ان کے تمام ٹھکانوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے اس لیے امریکا اور دیگر بڑی قوتیں مل کر اس کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔
Load Next Story