بھارتی مائنڈ سیٹ امن مذاکرات میں رکاوٹ

سشما سوراج نے بھارتی مائنڈ سیٹ کی انتہائی عیارانہ تصویر کشی کی ہے

امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ خود بھارت کا مائنڈ سیٹ اور ہٹ دھرمی ہے جسے دور کیے بنا مذاکرات کا کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ فوٹو : فائل

KABUL:
پاک بھارت امن مذاکرات کے حوالے سے بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور اپنی عیارانہ سوچ کے تحت ان نکات پر بات کرنے سے گریزاں سے جو مسائل کی اصل جڑ ہیں، جن میں مسئلہ کشمیر بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس معاملے میں تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ بھارت نے پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے پیش کردہ 4 نکاتی امن فارمولا بھی مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے 4 نکات پیش کیے ہیں، وہ نکات بیکار و فرسودہ ہیں، صرف ایک نکتہ ضروری ''دہشت گردی چھوڑیے''۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کی ایک تجویز ہے دہشت گردی چھوڑیے اور مذاکرات کیجیے، دہشت گردی سے پاک ماحول میں پاکستان سے مذاکرات چاہتے ہیں، دہشت گردی ختم ہو جائے تو بھارت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز اور قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات میں کچھ نئی بات بنی تو بھارت تمام حل طلب معاملات کے تصفیے کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

سشما سوراج نے بھارتی مائنڈ سیٹ کی انتہائی عیارانہ تصویر کشی کی ہے اور پاک بھارت مذاکرات یا اب تک جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کے خطابات کے تناظر میں وہی موقف دہرایا ہے جس پر بھارت گزشتہ کئی برسوں سے ہٹ دھرمی کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے، بھارت کا رویہ ''میں نہ مانوں'' کا عکاس ہے۔


بھارتی وزیر خارجہ دہشت گردی چھوڑیئے والے نکتے کی تجویز دیتے وقت یہ نظر انداز کر گئیں کہ بھارت ایک عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، نیز بلوچستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی اور شورش میں بھارت کس حد تک ملوث ہے یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے، پاکستان کو دولخت کرنے اور سانحہ سقوط ڈھاکا میں ملوث ہونے کا اعتراف بھارتی وزیر اعظم بزبان خود کر چکے ہیں۔

جو ملک خود عالمی دہشت گردی میں ملوث ہو اس کا یہ واویلا ''چور مچائے شور'' کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سشما سوراج کا کہنا صائب ہے کہ اقوام متحدہ عالمی امن اور سلامتی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

کیونکہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ انھوں نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ پاکستان میں ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے۔

لیکن دنیا پر یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ بھارت کس طرح مکارانہ انداز میں خود ساختہ حملوں اور دہشت گردی کے ڈرامے تیار کرتا ہے، اپنی ہی کشتی پر حملہ اور سرحدوں پر فوجیوں کے قتل کے ڈراموں کا راز میڈیا پر کئی بار فاش ہو چکا ہے لیکن پھر بھی بھارت نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ خود بھارت کا مائنڈ سیٹ اور ہٹ دھرمی ہے جسے دور کیے بنا مذاکرات کا کامیاب ہونا ممکن نہیں۔
Load Next Story