سائنس اور ٹیکنالوجی پر دو روزہ کانفرنس
ہر دور میں ایسے جینیئس لوگ موجود رہے ہیں جو زمین اور کائنات کا مطالعہ عقلی اور تحقیقی بنیادوں پر کرتے رہے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
کسی قوم کی ترقی اور تنزل کو ناپنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس قوم و ملک میں سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق و ایجادات کے شعبوں کی فعالیت کا کیا حال ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم اپنے ملک پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ابھی تک قرون وسطیٰ کے دور سے باہر نہیں نکل سکے۔ ہمارے فکری نظام کا عالم یہ ہے کہ ہم سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ایجادات کو کفر سے تعبیر کرتے ہیں اور ہمارا میڈیا عموماً ان ہی خیالات فکر و فلسفے کا پرچار کرتا ہے جو جدید علوم کو عقائد سے متصادم قرار دیتا ہے۔
مثلاً شعبہ طب کو لے لیں ترقی یافتہ ملکوں میں جدید ترین طبی سہولتوں اور اس شعبے میں اب تک ہونے والی تحقیق اور دریافت کے بعد اب جینیاتی سائنس اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ دل سمیت انسانی جسم کے مختلف مصنوعی اعضا کی تیاری اور تجربوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے طبی سائنس کے حوالے سے یہ خبر کس قدر حیرت انگیز ہے کہ اس شعبے کے ماہرین نے مصنوعی دل تیار کر لیا ہے اور جانوروں کو یہ مصنوعی دل لگا کر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ یہ دل کس طرح کام کرتا ہے اور کتنے عرصے تک کام کرتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد اب مصنوعی دل کو انسان کے سینے میں لگانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں دل اور دماغ کے پیچیدہ ترین آپریشنوں میں کامیابی کے بعد تحقیق کا یہ حیرت انگیز قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
آج اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ مختلف تعلیمی اداروں اور اسپارکو کے زیر اہتمام ایک ایسی دو روزہ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کا موضوع ''گہری خلا کی دریافتیں'' ہے۔ اس کانفرنس میں پیشہ ور افراد، اسکالرز، اساتذہ، طلبا و طالبات اور ماہرین خلائی سائنس و ٹیکنالوجی نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کانفرنس میں فلکیات، ایسٹروفزکس، کونیات، خلائی پلازمات، مصنوعی سیاروں، جی این ایس ایس، خلائی ٹیکنالوجی، جی آئی ایس، اضافی شمسی سیاروں، خلائی حیاتیات، ماحولیاتی سائنس، قابل تجدید توانائی، قدرتی خطرات، پرواز حرکیات جیسے اہم موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے۔
اسے عام انسانوں کی بدقسمتی کہیں یا ''بااختیار لوگوں'' کا بودا پن کہ ہر دور میں پسماندہ فکر کے لوگوں نے جدید علوم اور ترقی پسند نظریات کو دبانے اور پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ عقائد و نظریات کی عمارت اپنے دور کے علم اور معلومات کی بنیادوں پر کھڑی رہتی ہے اس میں انسانوں کا تصور کم اور معلومات اور علم کا تصور زیادہ ہوتا ہے۔
مثلاً ماضی کے کلیسائی دور میں علم اور معلومات کا یہ حال تھا کہ اس دور کا انسان زمین کو ساکن اور کل کائنات سمجھتا تھا اور سورج کو زمین کے گرد گھومتا مانتا تھا بہ ظاہر یہ بات درست بھی معلوم ہوتی ہے کہ سورج صبح مشرق سے نکل کر دن بھر کی مسافت کے بعد مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔ اس عمل کو عام انسان اگر سورج کو زمین کے گرد گھومنا مانتا ہے تو غلط نہیں۔ لیکن یہ نظریہ اس دور کے علم اور معلومات کی بنیاد پر تشکیل پذیر ہوا۔
ہر دور میں ایسے جینیئس لوگ موجود رہے ہیں جو زمین اور کائنات کا مطالعہ عقلی اور تحقیقی بنیادوں پر کرتے رہے ہیں کلیسائی دور میں گلیلیو ایک ایسا ہی انسان تھا جس نے اپنے علم اور تجربات کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔
گلیلیو کا یہ نظریہ چونکہ اس دور کے عمومی علم سے متضاد تھا اور کلیسائی تعلیمات سے انحراف تھا سو ''کلیسائی مدبرین'' نے گلیلیو کے اس خیال یا انکشاف کو کلیسائی تعلیمات اور عیسائی عقائد سے بغاوت قرار دے کر اسے سزائے موت کا حکم سنا دیا چونکہ گلیلیو کا علم اس دور کے عمومی اور عقائد علم سے آگے تھا اس لیے اس دور کے ''عالموں'' نے اسے قبول نہیں کیا۔
آج پرائمری جماعت کا بچہ بھی جانتا ہے کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور آسمان حد نگاہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیا یہ علم مروجہ عقائد و نظریات سے مطابقت رکھتا ہے؟ اس کا جواب نفی ہی میں آتا ہے۔ لیکن آج کے دور کی معلومات آج کے دور کا علم اگرچہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ہیں لیکن دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، خلا اور فلکیات کے شعبے میں جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس کے پیش نظر یہ عین ممکن ہے کہ حال کا علم مستقبل کے علم کے مقابلے میں پسماندہ کہلائے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے معاشی طور پر پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں ایک ساتھ نوآبادیاتی غلامی سے آزاد ہوئے لیکن بھارت کی سیاسی اور مذہبی قیادت نے مذہب کو سیاست سے الگ رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں اظہار رائے اور فکر کی آزادی مستحکم ہوتی گئی۔
سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ایجادات کے شعبے آگے بڑھتے رہے، آج بھارت آبادی کے حوالے سے دوسرا بڑا ملک ہونے کے باوجود تیزی سے معاشی ترقی کر رہا ہے اور اندازہ ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایشیا کی ایک بڑی معاشی طاقت بن جائے گا۔
بھارت خلائی سائنس کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں اس نے ایک خلائی مشن کامیابی سے بھیج کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مستقبل میں خلائی دوڑ میں شامل ہو جائے گا لیکن بھارت کے کسی حلقے کی طرف سے بھارت کی سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور تلاش کے شعبوں کو نہ ہدف تنقید بنایا گیا نہ مذہب کے حوالے سے ان کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے حلقے انتہائی مضبوط ہیں جو سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق، ایجادات اور فکری آزادی کی راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں، ہو سکتا ہے اس کی وجہ اس خطے کا نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام ہو لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ بھی فکری پسماندگی کا شکار ہے اور کوئی ایسا کام کرتے ہوئے ہچکچاتا ہے جس سے مذہبی انتہا پسند حلقے اس سے ناراض ہو جائیں۔
اسی پیش منظر میں کراچی یونیورسٹی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوع پر ہونے والی دو روزہ کانفرنس کو ہم ایک فال نیک سمجھ سکتے ہیں لیکن اگر اس قسم کی کانفرنسیں نشستند، گفتند و برخاستند سے آگے نہ بڑھیں اور ان شعبوں میں تسلسل سے پیش رفت نہ کی گئی اور حکومت نے ان شعبوں کی مالی سرپرستی نہ کی تو اس قسم کی کانفرنسوں سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت ممکن نہیں۔
مثلاً شعبہ طب کو لے لیں ترقی یافتہ ملکوں میں جدید ترین طبی سہولتوں اور اس شعبے میں اب تک ہونے والی تحقیق اور دریافت کے بعد اب جینیاتی سائنس اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ دل سمیت انسانی جسم کے مختلف مصنوعی اعضا کی تیاری اور تجربوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے طبی سائنس کے حوالے سے یہ خبر کس قدر حیرت انگیز ہے کہ اس شعبے کے ماہرین نے مصنوعی دل تیار کر لیا ہے اور جانوروں کو یہ مصنوعی دل لگا کر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ یہ دل کس طرح کام کرتا ہے اور کتنے عرصے تک کام کرتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد اب مصنوعی دل کو انسان کے سینے میں لگانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں دل اور دماغ کے پیچیدہ ترین آپریشنوں میں کامیابی کے بعد تحقیق کا یہ حیرت انگیز قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
آج اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ مختلف تعلیمی اداروں اور اسپارکو کے زیر اہتمام ایک ایسی دو روزہ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کا موضوع ''گہری خلا کی دریافتیں'' ہے۔ اس کانفرنس میں پیشہ ور افراد، اسکالرز، اساتذہ، طلبا و طالبات اور ماہرین خلائی سائنس و ٹیکنالوجی نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کانفرنس میں فلکیات، ایسٹروفزکس، کونیات، خلائی پلازمات، مصنوعی سیاروں، جی این ایس ایس، خلائی ٹیکنالوجی، جی آئی ایس، اضافی شمسی سیاروں، خلائی حیاتیات، ماحولیاتی سائنس، قابل تجدید توانائی، قدرتی خطرات، پرواز حرکیات جیسے اہم موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے۔
اسے عام انسانوں کی بدقسمتی کہیں یا ''بااختیار لوگوں'' کا بودا پن کہ ہر دور میں پسماندہ فکر کے لوگوں نے جدید علوم اور ترقی پسند نظریات کو دبانے اور پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ عقائد و نظریات کی عمارت اپنے دور کے علم اور معلومات کی بنیادوں پر کھڑی رہتی ہے اس میں انسانوں کا تصور کم اور معلومات اور علم کا تصور زیادہ ہوتا ہے۔
مثلاً ماضی کے کلیسائی دور میں علم اور معلومات کا یہ حال تھا کہ اس دور کا انسان زمین کو ساکن اور کل کائنات سمجھتا تھا اور سورج کو زمین کے گرد گھومتا مانتا تھا بہ ظاہر یہ بات درست بھی معلوم ہوتی ہے کہ سورج صبح مشرق سے نکل کر دن بھر کی مسافت کے بعد مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔ اس عمل کو عام انسان اگر سورج کو زمین کے گرد گھومنا مانتا ہے تو غلط نہیں۔ لیکن یہ نظریہ اس دور کے علم اور معلومات کی بنیاد پر تشکیل پذیر ہوا۔
ہر دور میں ایسے جینیئس لوگ موجود رہے ہیں جو زمین اور کائنات کا مطالعہ عقلی اور تحقیقی بنیادوں پر کرتے رہے ہیں کلیسائی دور میں گلیلیو ایک ایسا ہی انسان تھا جس نے اپنے علم اور تجربات کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔
گلیلیو کا یہ نظریہ چونکہ اس دور کے عمومی علم سے متضاد تھا اور کلیسائی تعلیمات سے انحراف تھا سو ''کلیسائی مدبرین'' نے گلیلیو کے اس خیال یا انکشاف کو کلیسائی تعلیمات اور عیسائی عقائد سے بغاوت قرار دے کر اسے سزائے موت کا حکم سنا دیا چونکہ گلیلیو کا علم اس دور کے عمومی اور عقائد علم سے آگے تھا اس لیے اس دور کے ''عالموں'' نے اسے قبول نہیں کیا۔
آج پرائمری جماعت کا بچہ بھی جانتا ہے کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور آسمان حد نگاہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیا یہ علم مروجہ عقائد و نظریات سے مطابقت رکھتا ہے؟ اس کا جواب نفی ہی میں آتا ہے۔ لیکن آج کے دور کی معلومات آج کے دور کا علم اگرچہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ہیں لیکن دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، خلا اور فلکیات کے شعبے میں جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس کے پیش نظر یہ عین ممکن ہے کہ حال کا علم مستقبل کے علم کے مقابلے میں پسماندہ کہلائے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے معاشی طور پر پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں ایک ساتھ نوآبادیاتی غلامی سے آزاد ہوئے لیکن بھارت کی سیاسی اور مذہبی قیادت نے مذہب کو سیاست سے الگ رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں اظہار رائے اور فکر کی آزادی مستحکم ہوتی گئی۔
سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ایجادات کے شعبے آگے بڑھتے رہے، آج بھارت آبادی کے حوالے سے دوسرا بڑا ملک ہونے کے باوجود تیزی سے معاشی ترقی کر رہا ہے اور اندازہ ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایشیا کی ایک بڑی معاشی طاقت بن جائے گا۔
بھارت خلائی سائنس کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں اس نے ایک خلائی مشن کامیابی سے بھیج کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مستقبل میں خلائی دوڑ میں شامل ہو جائے گا لیکن بھارت کے کسی حلقے کی طرف سے بھارت کی سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور تلاش کے شعبوں کو نہ ہدف تنقید بنایا گیا نہ مذہب کے حوالے سے ان کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے حلقے انتہائی مضبوط ہیں جو سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق، ایجادات اور فکری آزادی کی راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں، ہو سکتا ہے اس کی وجہ اس خطے کا نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام ہو لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ بھی فکری پسماندگی کا شکار ہے اور کوئی ایسا کام کرتے ہوئے ہچکچاتا ہے جس سے مذہبی انتہا پسند حلقے اس سے ناراض ہو جائیں۔
اسی پیش منظر میں کراچی یونیورسٹی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوع پر ہونے والی دو روزہ کانفرنس کو ہم ایک فال نیک سمجھ سکتے ہیں لیکن اگر اس قسم کی کانفرنسیں نشستند، گفتند و برخاستند سے آگے نہ بڑھیں اور ان شعبوں میں تسلسل سے پیش رفت نہ کی گئی اور حکومت نے ان شعبوں کی مالی سرپرستی نہ کی تو اس قسم کی کانفرنسوں سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت ممکن نہیں۔