دبئی کی گرمی نے انگلش ٹیم کے پسینے چھڑا دیے

کوچ سیریز میں عمدہ کھیل کیلیے پُرعزم، کمزور سمجھا جا رہا ہے مگر ہرانا آسان نہیں ہو گا، ٹریور بیلس

دبئی: آئی سی سی اکیڈمی میں گرمی سے نڈھال انگلش کرکٹرز اسٹورٹ براڈ اور جوئے روٹ سر پر تولیہ لپیٹے پریکٹس سیشن میں شریک ۔ فوٹو : اے ایف پی

KARACHI:
پاکستان کیخلاف سیریز کی تیاری کیلیے انگلینڈ نے مشقوں کا آغاز کردیا، پہلے ہی دن دبئی کی گرمی نے ٹیم کے پسینے چھڑا دیے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کیخلاف سیریز کی تیاری کیلیے انگلینڈ نے دبئی میں ٹریننگ کا آغاز کردیا، کرکٹرز 40ڈگری درجہ حرارت میں پریکٹس کرتے ہوئے گرمی سے نڈھال دکھائی دیے، مہمان ٹیم کو پاکستانی اسپن جال کے ساتھ بُرا حال کرنے والے گرم موسم سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔

دوسری جانب پاکستانی کپتان مصباح الحق یو اے ای کی کنڈیشنز میں مہمانوں کی ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں، انھوں نے کہا کہ ابھی سے کلین سویپ کی باتیں درست نہیں، ہر سیشن میں کامیابی کا پلان تیار کریں گے، اس انداز میں محنت اور عمدہ کھیل سے ہی نتائج اپنے حق میں کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان اب تک مسلسل 7سیریز میں ناقابل شکست رہا ہے، میزبان ٹیم کیلیے انتہائی سازگارکنڈیشنز کے باوجود انگلش کوچ ٹریور بیلس حوصلہ جوان رکھے ہوئے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہمیں کمزور حریف سمجھا جارہا ہے لیکن یقین دلاتا ہوں کہ اچھی کرکٹ کھیلنے کی اہلیت رکھتے ہیں، ہمیں ہرانا آسان نہیں ہوگا،انھوں نے کہا کہ عادل رشید کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع ملے گا،لیگ اسپنر اپنی ورائٹی کی بدولت تیزی سے وکٹیں لیتے ہیں،کوئی وجہ نہیں کہ وہ یواے ای میں کامیاب نہ ہوں۔


دوسری جانب پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہاکہ انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز آسان نہیں ہوگی، کامیابی کیلیے بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ پاکستان نے سری لنکا کیخلاف اچھا پرفارم کیا، انگلینڈ نے بھی ایشز میں اچھا کھیلتے ہوئے فتح پائی، دونوں کے مابین سخت مقابلے دیکھنے کو ملیں گے، مصباح نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلش ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں اور اسپنرز کو یو اے ای کی کنڈیشنز کا زیادہ تجربہ نہیں لیکن انھیں ایشز سیریز سے حاصل کردہ اعتماد سے تقویت ملے گی۔

ہم کسی طور انگلینڈ کو آسان حریف سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتے، اگر جیتنا ہے تو ہر شعبے میں بہترین پرفارم کرنا ہوگی، کپتان نے کہا کہ اس بار پاکستان اور انگلینڈ دونوں کے پاس گریم سوان، مونٹی پنیسر، سعید اجمل اور عبدالرحمان جیسے تجربہ کار اسپنرز نہیں لیکن متبادل بولرز بھی بڑے باصلاحیت ہیں، مہمان ٹیم کو معین علی کی خدمات حاصل ہیں، ہمارے لیے یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔

سری لنکن پلیئرز اسپنرز کو بہت اچھے انداز سے کھیلتے ہیں، اس کے باوجود ہمارے بولرزکی کارکردگی بہترین رہی، انگلینڈ کیخلاف سیریز میں بھی ہمارے پاس میچ وننگ اسپنرز موجود ہونگے۔

مصباح الحق نے کہاکہ ابھی سے کلین سویپ کی باتیں کرنا درست نہیں، ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی کیلیے چھوٹے چھوٹے ٹارگٹ سیٹ کیے جائیں تب ہی بڑی کامیابی ملتی ہے، ورنہ ٹیم دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے، انگلینڈ کیخلاف ہر سیشن میں کامیابی کا پلان تیار کرینگے، اس انداز میں محنت سے ہی نتائج اپنے حق میں کیے جاسکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ امارات میں پچز کا مزاج تیزی سے تبدیل ہوتا ہے، نئی گیند اور سوئنگ کا اعتماد سے سامنا بھی اہم ہوگا، ہمیں گذشتہ سیریز میں آسٹریلیا کیخلاف جیسی ہی کارکردگی دکھانا ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ اوپنرز پر زیادہ تنقید کی جارہی ہے لیکن ان سے ہر میچ میں سنچری شراکت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، اگر وہ6 میں سے 3 اننگز میں اچھی کارکردگی دکھا دیں تو بھی ٹیم کیلیے بہتر ہے، شان کی سنچری نے سری لنکا میں میچ کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا،اسی طرح احمد شہزاد نے آسٹریلیا اور محمد حفیظ نے نیوزی لینڈ کیخلاف بڑی اننگز کھیلیں۔
Load Next Story