چیف جسٹس آف پاکستان کا خطاب

قانون کی حکمرانی کے ذریعے امن کا قیام چاہے مقامی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ انتہائی مفید ثابت ہوا ہے

چیف جسٹس نے جہاں عسکریت پسندی کی وجوہات کو بیان کیا وہاں انھیں ختم کرنے یا ان پر قابو پانے کے طریقہ کار کی وضاحت بھی کی ہے. فوٹو: فائل

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ''قانون کے ذریعے امن کے قیام'' کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین سے انحرافات اور آئین و قانون کی ناتواں حکمرانی نے عسکری نظریات کو جنم دیا' ریاست کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حتمی طور پر عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

انھوں نے اپنے خطاب میں بہت سی باتیں کرتے ہوئے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ وہ قومیں جو آئین کا احترام کرتی ہیں اور اسے حقیقی طور پر رائج کرتی ہیں وہ چیلنجوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے اور تنازعات کا تصفیہ کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ محققین مشترکہ طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آئین توڑنے اور قانون کی حکمرانی سے انحراف نے ہمیں بھٹکایا اور قانون کی حکمرانی کو پاکستان میں نابود کیا اور یہی وہ حالات ہیں جنہوں نے تشدد اور لاقانونیت کی یہ فضا قائم کی۔

چیف جسٹس آف پاکستان اس خطاب میں سے یہ چند جملے نقل کیے گئے ہیں ورنہ ان کا پورا خطاب ہمارے ارباب اختیار کے لیے مشعل راہ ہونا چاہیے۔ ان کے یہ الفاظ بھی قابل غور ہیں: ''میری رائے کے مطابق تنازعات میں الجھے ہوئے لوگوں کے مابین حقیقی امن مصالحانہ تصفیے کی بدولت ہی قائم کیا جا سکتا ہے اور یہ تصفیہ متحارب جماعتوں کے لیے تبھی قابل قبول ہو گا جب انھیں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہو کہ تصفیہ جائز اور قانونی طریقے سے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔''پاکستان کو آج جن مسائل کا سامنا ہے' ان میں سب سے بڑا مسئلہ عسکریت پسندی ہے' اس عنصر نے ریاست اور اس کے اداروں کو ایسی مشکل میں مبتلا کر رکھا ہے جس کا ماضی میں اسے کبھی سامنا نہیں رہا ہے۔

عسکریت پسندی کیوں جنم لیتی ہے' اس کے بارے میں بھی انھوں نے واضح کہا ہے کہ پیچیدہ جھگڑوں نے دہشت گردی' ماورائے عدالت قتل' انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور دیگر جرائم کو جنم دیا ہے جو انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کی افزائش کرتے ہوئے عالمی امن کو مسخ کرنے کی وجہ بن رہی ہیں' ان مسائل کو حل کرنے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان تمام مسائل سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قانون' امن اور تہذیب کی بنیادی تعلیم کو اساس بناتے ہوئے افراد اور ریاستوں کے درمیان حائل فاصلے کو طے کیا جائے اور ان مواقع کی تلاش کی جائے جو عالمی امن کے قیام میں مدد گار ہوں۔


قانون کی حکمرانی کے ذریعے امن کا قیام چاہے مقامی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ انتہائی مفید ثابت ہوا ہے۔چیف جسٹس نے جہاں عسکریت پسندی کی وجوہات کو بیان کیا وہاں انھیں ختم کرنے یا ان پر قابو پانے کے طریقہ کار کی وضاحت بھی کی ہے' پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں ایک جانب دہشت گرد ہیں جن کا ایجنڈا سیاسی ہے لیکن وہ مذہب کی آڑ لے کر ریاست سے لڑ رہے ہیں' یہ لوگ نہ صرف ریاست بلکہ عوام کو بھی خود کش حملوں' بم دھماکوں سے مار رہے ہیں' ان کے علاوہ کچھ عناصر علیحدگی پسندی کے رجحانات کے تحت قوم پرستی' نسل پرستی اور لسانیت کو آگے رکھ کر قتل و غارت میں مصروف ہیں' یہ بھی سیاسی ایجنڈے کے حامل گروپ ہیں۔

ان کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ گروہ ہیں جن کا کوئی سیاسی ایجنڈا تو نہیں لیکن قتل و غارت میں ملوث ہونے کی بنا پر ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان گروپوں کی کارروائیوں نے ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے آئین کا سہارا لینا انتہائی ضروری ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح سوات میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج نے جو آپریشن کیا' اس کی منظوری پارلیمنٹ نے دی تھی' اس طرح جنوبی وزیرستان کے آپریشن کو بھی عوام کے نمایندوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تو سیدھے سیدھے فوجی آپریشن کی بات ہے' اس کے علاوہ آئین اور قانون میں ایسی ترامیم لائی جانی چاہئیں جن کے ذریعے دہشت گردوں' تخریب کاروں اور ان کے سرپرستوں کی گرفتاریاں عمل میں آ سکیں اور ان سے صحیح معنوں میں تفتیش ہو سکے۔

اب ہو یہ رہا ہے کہ کئی افراد جنھیں دہشت گردی کے الزام میں پکڑا گیا' وہ قانون میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھا کر رہا ہو گئے۔ قانون کے پاس ایسا طریقہ کار نہیں ہے کہ ان لوگوں کو گرفتار کر سکے۔ جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ تو نمٹنا قدرے آسان کام ہے لیکن نظریات کی بنیادوں پر استوار عسکریت پسند گروہوں کو قانون کے شکنجے میں لانا انتہائی مشکل کام ہے۔ پارلیمنٹ کو اس حوالے سے کام کرنا چاہیے۔ پاکستان کے لیے اس وقت سب سے زیادہ مشکلات پیدا کرنے والے گروہ وہ ہیں جو نظریات کا سہارا لے کر قانون شکنی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان عالمی طور پر مشکلات کا شکار ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آئین کی بنیاد پر ہی ہر قسم کے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ آئینی طریقے سے عوام بھی مطمئن رہتے ہیں کہ جن لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے وہ بے گناہ نہیں تھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ریاستی اداروں کی ساکھ بھی اہمیت کی حامل ہے اور آئین و قانون میں ان لوگوں پر گرفت کرنے کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔ جب تک یہ گنجائش پیدا نہیں ہوتی عسکریت پسندی کا مقابلہ مشکل رہے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں لاپتہ افراد کا مقدمہ بھی چل رہا ہے' اس حوالے سے بھی مناسب قانون سازی ہونی چاہیے تا کہ ریاست پر جو دبائو ہے وہ کم ہو سکے اور اسی طرح جو دہشت گرد عناصر گرفتار ہو جاتے ہیں' ان کے حوالے سے بھی ایسی قانون سازی ہونی چاہیے کہ وہ سزا سے نہ بچ سکیں۔
Load Next Story