بینکوں کے ذریعے جعلی کرنسی کی گردش تشویشناک

جعلی نوٹ یوں تو فاٹا سےلےکر ملک کے ہرحصے میں گردش میں ہیں لیکن ATM اور بینکوں سے بھی جعلی نوٹ ملنے کا انکشاف ہولناک ہے

۔ جعلی نوٹوں کے دھندے دیہات میں زیادہ شدت سے پھیلائے جاتے ہیں۔ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل

کسی ملک کی معیشت کی تباہی میں دیگر عوامل کے ساتھ جعلی کرنسی کا استعمال بھی مہمیز کا کردار ادا کرتا ہے اور اس حوالے سے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بینکوں کی جانب سے صارفین کو جعلی نوٹ جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹ میں قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ بینکوں نے صارفین کو جعلی نوٹ جاری کیے اور بینکوں سے دی جانے والی نقد رقم میں بھی جعلی نوٹ ہوتے ہیں۔

بلاشبہ اس بیان پر اسٹیٹ بینک حکام نے جواب دیا ہے کہ بینک کوئی بھی نوٹ چیک کیے بغیر جاری نہیں کرتا تاہم کرنسی کی تصدیق کی مشینیں بینکوں کو لینا پڑیں گی اور ہم جعلی نوٹوں کو چیک کرنے کے لیے 2 مشینیں خرید رہے ہیں۔ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی ہے کہ 2017ء تک نوٹوں کی تصدیق کے لیے ہر برانچ میں مشین لگائی جائے۔ کمیٹی نے ملک بھر میں عید قربان کے موقع پر جعلی نوٹوں کی گردش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک حکام کو معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے۔


یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تمام نجی بینک اس وقت مینول طریقے سے رقم کی لین دین کر رہے ہیں جس میں زیادہ کرنسی اور رش آورز میں ہر نوٹ کو چیک کرنا ممکن نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو نظام کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تا کہ جعلی نوٹوں کی گردش پر قابو پایا جا سکے۔

جعلی نوٹ یوں تو فاٹا سے لے کر ملک کے ہر حصے میں گردش میں ہیں لیکن ATM اور بینکوں سے بھی جعلی نوٹ ملنے کا انکشاف ہولناک ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے والے عناصر کی پہنچ کہاں تک ہے، نیز بینکوں کے پاس جعلی نوٹ کو جانچنے کے لیے مربوط نظام مزید مضبوط ہونا چاہیے، مذکورہ واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے بینک نوٹ چیک کرنے کی جدید سہولتوں سے اب تک محروم ہیں۔

جعلی نوٹ بنانے اور پھیلانے والے عناصر کے خلاف موثر کارروائی کی از حد ضرورت ہے نیز یہ امر بھی ممکن بنایا جائے کہ جعلی نوٹوں کی گردش کی روک تھام اور مارکیٹ میں پھیلی جعلی کرنسی کو جلد از جلد پکڑا جائے تا کہ غریب عوام ممکنہ دھوکے سے محفوظ رہ سکیں۔ جعلی نوٹوں کے دھندے دیہات میں زیادہ شدت سے پھیلائے جاتے ہیں۔ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story