غلام فاطمہ زندہ باد

چند دنوں سے پلیٹ میں رکھی ہوئی گرم گول چپاتی مجھے آزردہ کر دیتی ہے

zahedahina@gmail.com

چند دنوں سے پلیٹ میں رکھی ہوئی گرم گول چپاتی مجھے آزردہ کر دیتی ہے اور کسی نجی ٹیلی وژن چینل پر دکھائی جانے والی جھلکیاں اور پھر اخباروں میں چھپی ہوئی خبریں نگاہوں میں گھوم جاتی ہیں کہ کس طرح ایک باپ اور بھائی نے بارہ سالہ بچی کو اس لیے ڈنڈے مار کر ہلاک کر دیا کہ اس نے توے سے گول روٹی نہیں اتاری تھی۔

دل ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہ ممکن کیسے ہے لیکن پھر پڑوس والوں کی گواہی سامنے آ جاتی ہے کہ یہ شقی القلب شخص اپنی بیٹی اور بیوی پر اسی طرح ظلم کے پہاڑ توڑتا تھا۔ سانحے کے روز بچی اس ستم کو نہ سہہ سکی اور جان سے گزر گئی تو بدبخت باپ نے بچی کی لاش کو ٹھکانے لگایا اور تھانے میں رپورٹ درج کرا دی کہ کسی نے اس کی بچی کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس بچی کی تلاش میں نکلی تو مضروب لاش ہاتھ آئی۔ تحقیقات ہوئیں تو حقائق سامنے آئے۔ باپ اور بھائی دونوں اس وقت جیل میں ہیں اور اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں۔

یہ سطریں لکھتے ہوئے وہ اشتہار نگاہوں میں گھوم گیا ہے جو کچھ دنوں سے ہمارے اکثر ٹیلی وژن چینلوں پر آتا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بھرا پُرا خاندان کھانے کی میز پر بیٹھا ہے اور سب لوگ کھانا کھاتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہیں، اسی وقت عقبی دروازے سے ایک صاحبہ نمودار ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ گھبرائی ہوئی ایک بچی ہے جس نے دونوں ہاتھوں سے ایک چھوٹی سی گول روٹی تھام رکھی ہے۔ وہ صاحبہ اعلان کرتی ہیں کہ آج ہماری بیٹی نے پہلی گول روٹی بنائی ہے۔ یہ سن کر کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے تمام لوگ نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور سربراہ خاندان فوراً سب کا منہ میٹھا کرانے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کمپنی کی آئسکریم کا پیکٹ سامنے آ جاتا ہے جس کا یہ اشتہار ہے۔

کہاں یہ اشتہار اور اس میں نمودار ہونے والی بچی جس کی گول روٹی کا جشن منایا جا رہا ہے اور کہاں وہ بچی جو گول روٹی نہ پکانے کی سزا میں جان سے گئی۔ اگر ایسی خبریں دل کے ٹکڑے کرتی ہیں تو دوسری طرف کچھ خوشیاں بھی ملتی ہیں، گزشتہ ہفتے نیویارک سے خوشی کی یہ خبر آئی کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی سیدہ غلام فاطمہ کو 2015ء کا کلنٹن گلوبل سٹیزن ایوارڈ دیا گیا ہے۔

غلام فاطمہ ایک لمبے عرصے سے اپنے علاقے کے بندھوا مزدوروں (Bondedlabours)، بھٹہ مزدوروں اور گھروں میں کام کرنے والی عورتوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی تھیں۔ نچلے متوسط طبقے کی ایک ادھیڑ عمر گھریلو خاتون، سادہ طبیعت، معمولی لباس پہننے والی اور اپنے علاقے کے زمینداروں اور با اثر لوگوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہ ہونے والی فاطمہ۔ بندھوا مزدوروں کو اگر کوئی آزاد کرانا چاہے، بھٹہ مزدوروں اور گھروں میں کام کرنے والی عورتوں کو اگر کوئی ان کے حقوق دلانا چاہے تو اس سے بڑا جرم اور کیا ہو سکتا ہے۔ غلام فاطمہ نے بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے قواعد کو لاگو کرانے کی بھی کوشش کی اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بے بس اور لاچار لوگوں کے حق کے لیے لڑتی رہی۔

علاقے میں کیا زمیندار اور کیا مزدور سب ہی ان کے نام سے واقف تھے لیکن ان کی شہرت اپنے علاقے سے باہر نہ تھی۔ پچھلے برس ایک فوٹو گرافر برانڈن اسٹنٹن کا غلام فاطمہ کے علاقے سے گزر ہوا ، وہ کسی اسٹوری کی تلاش میں تھا۔ یہاں درجنوں ایسے واقعات تھے جن میں باہر کے لوگوں کو بڑی دلچسپی ہو سکتی تھی۔

کسی نے اسے غلام فاطمہ کے کام کے بارے میں بتایا تو وہ ان کے آزاد کرائے ہوئے بندھوا مزدوروں سے ملا۔ پھرا سٹنٹن نے غلام فاطمہ کا تعارف اور تصویر اپنے فوٹو بلاگ پر لوڈ کر دی۔ اس نے غلام فاطمہ کے کام کے لیے تیرہ لاکھ ڈالر کا چندہ اکٹھا کیا اور ان کی آرگنائزیشن کو دیا۔ فاطمہ کی آرگنائزیشن کو اس رقم سے بہت مدد ملی۔ اس سے کہیں بڑھ کر یہ ہوا کہ یہ کام کلنٹن گلوبل سٹیزن ایوارڈ کے کرتا دھرتا لوگوں کے علم میں آیا۔ انھوں نے پاکستان آ کر غلام فاطمہ کے کام کا جائزہ لیا جو وہ اپنے نہایت محدود وسائل کے ساتھ برسوں سے کر رہی تھیں۔ اسی کے بعد انھیں یہ باوقار اعزاز دیا گیا۔

بندھوا مزدوروں یا بھٹہ مزدوروں کی ہم خبریں پڑھتے ہیں۔ ان کا حالِ زار معلوم ہو جائے تو چند لمحوں کے لیے افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور بس۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم نے انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا فرض ادا کر دیا۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ غلام مزدور نسل درنسل چلتے ہیں۔ باپ نے اگر علاقے کے زمیندار سے دوچار ہزار روپے کا قرض لیا تھا تو وہ سود در سود ادا کرتا رہتا ہے اور اگر باپ جان سے گزر جائے تو قرض کی ادائیگی اس کی بیوی یا بیٹے کی ذمے داری ہوتی ہے۔ ایسے قرض کبھی نہیں ادا ہوتے۔


اگر کوئی مزدور اپنی زندگی سے تنگ آ کر بھاگ جائے اور دوسرے علاقے میں پہنچ جائے تب بھی اسے رہائی نہیں ملتی۔ اس کے مالک کے وفادار ملازم کھوجی کتوں کی طرح اس کی بو سونگھتے پھرتے ہیں اور پھر اسے بہ جبر واپس لے جاتے ہیں۔ اس کام میں علاقے کا زمیندار بھی ان کی مدد کرتا ہے اور کیوں نہ کرے کہ یہ تو بھائی بندی کی بات ہے۔

ایک طرف ان مزدوروں کی داستان الم ہے اور دوسری طرف وہ بھٹہ مزدور ہیں جن میں مرد، عورتیں اور چھوٹے بچے سب ہی شامل ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن جو حرف عام میں آئی ایل او کہلاتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دس لاکھ بندھوا مزدور اور دس لاکھ اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے ہیں۔

بندھوا مزدور عموماً کھیتوں کی نلائی، بوائی اور فصلوں کی کٹائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اگر زمیندار کا گھر بن رہا ہوتو اینٹیں ڈھونے سے چنائی کرنے پلاسٹر کرنے کا سارا کام ان ہی کو کرنا ہوتا ہے۔ شادی بیاہ اور ایسی ہی دوسری تقریبات میں کھانا پکانے اور کھلانے کے علاوہ وڈے صاحب کے مہمانوں کی خدمت ان کا فرض ہے۔ وہ عورتیں جو بندھوا مزدور ہوتی ہیں، ان کی زندگی جہنم ہوتی ہے۔

ان کے استحصال کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ان کے مرد سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی یہ ذلت سہتے ہیں۔ گرمی اگر معمول سے زیادہ ہو جائے تو ہم شور مچا دیتے ہیں لیکن کبھی ان بھٹہ مزدوروں کے بارے میں نہیں سوچتے جو اپنی مہارت کی بنیاد پر کبھی اپنے مالکان کی گرفت سے رہائی نہیں پاتے۔ کچھ ایسے بھٹہ مزدور بھی آپ کو ملیں گے جن کی زندگی کے 30 یا 40 برس اسی بھٹے پر گزر گئے ہیں۔ وہیں ان کی شادیاں ہوئیں۔ بچے پیدا ہوئے اور وہ بھی بیاہے گئے لیکن رہائی کا پروانہ کسی کے ہاتھ نہ آیا۔

اوپر کی سطروں میں بھٹہ مزدور کی 'مہارت' کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اینٹوں کو کس درجہ حرارت پر پکایا جائے۔ آگ کتنی تیز یا دھیمی رکھی جائے اور کب بجھا دی جائے ۔ آنچ میں اگر ذرا سی بھی کمی یا زیادتی ہو جائے تو اینٹیں درست حالت میں نہیں نکلتیں جو بھٹہ مالک کا نقصان ہے۔ اور یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ایک ایسے ظالمانہ نظام میں مزدور کو نقصان کی کیسی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ بھٹے پر کام کرنے والے بچوں کی نازک انگلیاں جب دہکتی ہوئی اینٹوں کو اٹھاتی ہیں تو ان پر کیا گزرتی ہے، اس کا اندازہ ہم میں سے کتنوں کو ہے؟

سیدہ غلام فاطمہ طویل عرصے سے ان بندھوا اور بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسرے حقوق کی تو بات جانے دیجیے، ان مزدوروں کا رجسٹریشن تک نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان بھٹہ مزدوروں میں سے 50 فیصد کے شناختی کارڈ بھی نہیں بنے ہوئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اگر ریل کا ٹکٹ خریدنے جائیں تو انھیں دھتکار دیا جائے گا۔ اسی طرح گورنمنٹ ڈسپنسری یا اسپتال میں کوئی ان کی فریاد نہیں سنے گا اور وہ پاکستانی شہری ہوتے ہوئے بھی اپنے تمام حقوق سے محروم رہیں گے۔ ان مزدوروں کے مالکان انھیں بھٹے سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے اور ان کی کڑی نگرانی ہوتی ہے، اسی لیے غلام فاطمہ نے آئی ڈی کارڈ موبائل یونٹ کی سہولت کے ذریعے 10 ہزار بھٹہ مزدوروں کے آئی ڈی کارڈ بنوائے ہیں۔

یہ بات خوش آیند ہے کہ غلام فاطمہ اور ایسی ہی دوسری خواتین اور مرد بے آواز لوگوں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ غلام فاطمہ کی آواز اب دنیا تک پہنچی ہے، یہ ہمارے مظلوم لوگوں کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھے گی اور ہمارے یہاں ہونے والی حقوق انسانی خلاف ور زیوں میں تیزی سے کمی آئے گی۔ کوئی بچی گول روٹی نہ بنانے پر مار نہیں دی جائے گی اور چند ہزار روپوں کا قرض 30 اور 40 برس تک ادا کرنے والے اس شیطانی چکر سے نجات پائیں گے۔

غلام فاطمہ زندہ باد
Load Next Story